📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

پیر، 17 فروری، 2025

’تحقیق ‘کا جنازہ ہے ذرا دُھوم سے نکلے

 ایک ایسےمحقق    کا تذکرہ ، جس نے ڈاکٹرفضل الرحمٰن  کے  تعارف میں معروف  بھارتی موسيقار کے     کوائف  فراہم کردیے

امتیاز احمد وریاہ

 پاکستان کی جامعات میں انسانی علوم، طب، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہونے والی تحقیق کے ڈنکے تو چار دانگ عالم بج رہے ہیں اور تحقیق کے نام پر سرقہ بازی  کی شہرت ہر کہیں ہے۔ ہر دوسرے، چوتھے روز پاکستانی محققین کے تحقیقی مقالات میں بڑے پیمانے پر سرقے  اور انھیں  تحقیقی جرائد کی ویب گاہوں سے واپس لینے کی اطلاعات  منظر عام پر آتی رہتی ہیں ۔ابھی چند ہفتے قبل ہی لاہور یونیورسٹی کے ایک پروفیسرصاحب کے مقالے میں  سرقے  کی 70 فی صد   شرح کا انکشا ف ہوا تھا ۔انھوں نے کسی بیرونی لکھاری کے ڈیٹا کو معمولی ردوبدل کے بعد اپنے نام  کرلیا تھا۔چناں چہ متعلقہ  جریدے نے اس کو اپنے آن لائن ذخیرے سے ہٹا دیا۔ پاکستانی محققین بالعموم یہ کرتے ہیں کہ وہ  کسی موضوع  پر  غیرملکی محققین کا ڈیٹا اٹھا کر اپنے نام  کرلیتے ہیں ۔ وہ   بس لفظی ہیرا پھیری اور معمولی  قطع وبرید  کے بعد  اپنے نام سے نیا مقالہ لکھتے یا لکھواتے  ہیں  ، پھر اسے  ملکی یا غیرملکی کسی تحقیقی مجلے میں   اپنے نام  سے  چھپوا لیتے ہیں اور اس طرح وہ ایک ایسے کچرے  کا  انبار لگا رہے ہیں  جس کا  ملک وقوم کو کوئی  علمی فائدہ  نہیں ہوتا  بلکہ   اس   عمل  سے الٹا  پاکستانی اکیڈیمیا  کی  دنیا بھر میں    شہرت داغ دار ہورہی ہے اور خود ملک کے نام کو بٹا لگ رہا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تدریس   ایسے  مقدس    پیشے سے  وابستہ  عالی  مرتبت   پروفیسر صاحبان   سرقے  بازی   کی وارداتوں  سے کیوں  اپنے ہاتھ رنگ رہے ہیں  اور انھیں  دو نمبری  کی  ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ دراصل     پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی کمیشن    نے جامعات کے اساتذہ کی مالی منفعت پر مبنی  ترقی کے لیے تحقیقی جرائد میں  ایک خاص تعداد میں  تحقیقی مقالات  کی اشاعت کو لازمی قرار دے  رکھاہے۔ اس  ضرورت کے پیش نظر ہما شما محقق بننے اور اگلے گریڈ میں  ترقی  پانے  کے شوق اور چکر  میں اِدھر اُدھر سے  مواد   اکٹھا کرتے ہیں، فری لانسنگ  کی ویب سائٹس  کے ذریعے معمولی عوضانے پر لکھاریوں کی خدمات  حاصل کرتے  ہیں اور پھر اپنے نام سے ایک طو مار چھپوانے  میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ وطن عزیز  میں  نجی شعبے کی جامعات   میں بالخصوص   سائنسی علوم کے شعبوں  میں علمی سرقے کی واردتیں تو   عام ہیں لیکن اب  سماجی اور انسانی  علوم بالخصوص اسلامیات ، اردو،تاریخ   وغیرہ  ایسے    مضامین بھی  اس لعنت سے  محفوظ  نہیں   رہے ہیں۔نوبت  بہ ایں جا رسید ۔تحقیق کے نام پر ایسی ایسی مضحکہ خیز تحریریں سامنے  آرہی ہیں کہ  ان  پرخود  علم وتحقیق بھی شرما رہے ہیں۔استخواں  فروشی کے اس  دھندے  میں   زندہ اور مردہ  اہلِ  علم محفوظ نہیں۔ دونوں  پر ہاتھ  صاف کیے جارہے ہیں۔کسی دوسرے کی تحریر کو  اپنے نام   سے چھپوانے کی بدعت عام ہوچکی ہے۔اس جہانِ  فانی سے کُوچ کرجانے   اہلِ علم  اپنی قبور میں  بھی  پریشاں   ہوں  گے  کہ ناہنجار ’محققین ‘  تحقیق کے  نام  پر ان پر کیا کیا  ستم ڈھا  رہے ہیں۔

 اس تعارف  کے بعد  آتے ہیں، اصل موضوع کی طرف  اور اس   اجمال کی تفصیل۔ اگلے روز فیس بک پر محمد یونس قاسمی صاحب نے ایک  ویب گاہ  ’الاحقاق‘ میں شائع شدہ ایک ریسرچ پیپر کا  اشتراک کیا تھا۔اس کے مندرجات  جستہ جستہ  ملاحظہ کیے  تو   ماتھا ٹھنکا ،کیا  کوئی   ریسرچ پیپر  ایسا بھی ہوسکتا ہے۔یہ  تو خود لفظ   ریسرچ اور پیپر کی  بھی توہین ہے کیونکہ  یہ  کسی تحقیق منہج  سے عاری  عام سا بے ربط مضمون ہے  جو تحقیقی مقالہ تو کیا ، بلکہ کسی اناڑی کی ایسی تحریر ہے جس کو کوئی عام سا اخبار بھی چھاپنے کو تیار نہ ہو  ، چہ جائیکہ کو اس کو  کسی تحقیقی مجلے کی  زینت بنایا جائے۔اس  کے معیارِ تحقیق ، متن ، جملوں  کی ساخت ، زبان وبیان ، طرزِ تحریر اور  مواد  کے بارے میں   تو  ہم  بعد میں بات کرتے ہیں ،پہلے ذرا کچھ مضمون  اور  صاحبِ مضمون  کا تعارف ہو جائے۔ اس تحریر کا عنوان ہے:

’’ مسلم تفسیر اور طریقہ کار پر مطالعہ از فضل الرحمن‘‘ [1]

  ان  الفاظ   پر غور کیجیے کہ جو بندہ اپنی تحریر کا عنوان ہی درست نہیں لکھ سکا، اس  نے  کیا  دادِتحقیق   فرمائی  ہوگی۔لفظ   طریق  اور  فضل الرحمٰن  ملاحظہ ہو۔اس کے لکھاری پروفیسر عمران ملک صاحب ہیں ۔ان کے ساتھ  صرف یہ لکھا ہے؛ نیشنل  یونیورسٹی  آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)۔  وہ    پاکستان  کی مایہ ناز  اور بین الاقوامی سطح  پر  معروف  جامعہ  نسٹ  میں  کیا مضمون   پڑھاتے ہیں ؟کس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں ؟  اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔البتہ  نسٹ  میں    اس نام  کے ایک  اور  استاد عمران ملک صاحب ایسوسی ایٹ  پروفیسر ہیں۔ وہ اسکول اف الیکٹریکل انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس میں   ہوتے ہیں اور اسی شعبے کے سربراہ ہیں۔ ان کے پروفائل میں ان کےریسرچ پیپرز  اور ان کے عنوان  بھی دیے گئے  ہیں۔ان میں  سے ایک بھی موضوع زیر بحث    یعنی اسلامیات یا اسلامی علوم  سے متعلق نہیں  ہے۔ گویا  وہ کوئی اور شخصیت ہیں ۔ان کے جتنے بھی ریسرچ پیپرز ہیں، وہ  کمپیوٹر سائنس  اور  الیکٹریکل انجنیئرنگ   سے متعلق ہیں اور وہ مختلف انٹرنیشنل جرائد میں چھپ چکے ہیں۔[2]   گوگل  پر سرچ سے  کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد  کے اٹک کیمپس میں  اسی نام  کے ایک اور پروفیسر  ڈاکٹر محمد عمران ملک صاحب کے مختصر کوائف سامنے آئے۔ وہ   انتظامی علوم ( مینجمنٹ سائنسز) کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔گویا  ان کا بھی  اس موضوع  یا مضمون  سے کوئی تعلق نہیں  ۔

 ہمیں   ایک اور  حیرت بھی ہوئی۔ وہ  یہ  کہ نسٹ میں تو اسلامیات یا اسلامی علوم کا سرے   سے  کوئی شعبہ ہی موجود  نہیں تو یہ پروفیسر صاحب وہاں کیا پڑھاتے ہوں گے کیونکہ انھوں نے جس موضوع پر خامہ فرسائی فرمائی ہے، اس کا تعلق تو اسلامیات  کے مضمون سے ہے۔ یہ مضمون  کیونکہ دوسال پرانا ہے،اس لیے یہ  بھی ممکن ہے کہ وہ تب   اسلامیات لازمی کا مضمون بی ایس کی سطح  پر پڑھاتے رہے  ہوں لیکن فی الوقت   ان کا نسٹ  کی ویب گاہ پر شعبہ انسانی علوم میں  تذکرہ یا تعارف تو  درکنار ، ذکر تک  نہیں۔لہٰذا یہ نتیجہ اخذ  کرنا قرین قیاس ہوگا کہ یہ  کوئی اور پروفیسر صاحب  ہیں،مگر آن لائن  ان کا کچھ  تو سراغ ملنا چاہیے۔ پھر  طرفہ تماشا  یہ ہے کہ پروفیسر صاحب کا نہ تو کوئی ای میل  پتا نام  کے ساتھ    دیا گیا ہے کہ جس  پر ان سے رابطہ کیا جا سکے اور نہ کوئی فون نمبر ہے۔ نیز وہ کس  شعبے سے منسلک ہیں۔ شعبہ اکنامکس میں پڑھاتے ہیں ،نفسیات میں  یا ا بلاغ عامہ میں، کچھ پتا نہیں۔ نسٹ   میں  یہ تین چار  شعبے ایسے ہے جن میں وہ معلم ہو سکتے  تھے یا ہیں۔

اب ان  کے ’شاہکار‘  مضمون کا ناقدانہ جائزہ   ۔اس پورے مضمون میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا  تعارف    تین  چار جگہ ایسے انداز میں   کرایا گیا ہے کہ پڑھنے والے  اَش اَش  کر اٹھیں   ۔اس کی تفصیل  ذیل کی سطور میں  آ رہی ہے۔ اس سے پہلے قارئین  کے لیے  ان کا مختصر تعارف ہم  بیان کردیتے  ہیں۔ وہ ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کے سابق ناظم  (ڈائریکٹر) تھے اور پاکستان  کے تجددپسند مفکرین میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے والد گرامی مولانا شہاب الدین فاضل  دارالعلو م دیوبند تھے اور وہ دیوبند میں مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم و مغفور کے ہم  درس تھے۔ ان دونوں میں بڑی بے تکلفی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے بہ قول :’’دونوں بزرگوں میں خوب بحث بھی رہتی  تھی۔ ایک انتہا پر والد صاحب تھے اور دوسری انتہا پر مولانا سندھی ۔والد صاحب سخت متشدد اور مولانا سندھی تشدد اور جمود کے سخت مخالف۔ دونوں بحث کرتے کرتے جب کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکتے تو مولانا سندھی طیش میں آ جاتے اور فرماتے :’’دیکھو شہاب الدین میں تمھیں تمھارے اس بیٹے سے قتل کراؤں گا‘‘۔ یہ کہتے اور میری طرف اشارہ کرتے‘‘۔ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد ڈاکٹر فضل الرحمٰن کہتے   ہیں کہ ’’مولانا کی یہ پیشین گوئی کتنی  صحیح  ثابت ہوئی۔یہ دیکھنے کی بات ہے۔ جسمانی قتل کرنے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ مولانا سندھی کا یہ مطلب تھا لیکن  جو کچھ میں مانتا،  کہتا  اور  لکھتا ہوں تو  یہ معناً قتل نہیں تو اور کیا ہے‘‘[3]۔پروفیسر محمد سرور صاحب کے بہ قول : مولانا سندھی اپنے ہم عمر ساتھیوں کو جب اپنی تمام کوششوں کے باوجود قائل کرنے میں ناکام رہتے تو آخر میں جھلّا کر وہ ان سے یہی کہا کرتے تھے کہ’’ میں تمھیں تمھارے بیٹوں سے قتل کراؤں گا۔ یاد رکھو تمھارے بیٹے تمھیں ختم کریں گے ۔ظاہر ہے اس سے ان کا مقصود جسمانی نہیں بلکہ معناً قتل تھا‘‘۔[4]

وہ معنوی خاتمہ یا  قتل دراصل کٹڑ مولویت  کی کایا کلپ کرنا تھا اور اس  کو چرکا لگانا تھا۔ اب یہ الگ بحث ہے اور تحقیق طلب ہے کہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کٹڑ مولویت اور راسخ العقیدگی کو کوئی بڑا چرکا لگا نے میں  کامیاب ہوسکے یا نہیں۔ البتہ جدید تعلیم یافتگان نے ان کے نام کو جو بٹا لگایا ہے ،اس کی نظیر  کم سے کم تحقیق کی دنیا میں ملنا  بہت مشکل ہے ۔حد تو یہ ہے کہ زیر بحث  مضمون  کے لکھاری  نے  ان کے اعمال نامہ میں ایک موسیقار کا کوائف نامہ بھی شامل کر دیا  ہے۔ کہاں ایک مذہبی محقق اور کہاں  ایک موسیقار، ایسی بچکانہ حرکت شاید ہی کسی نے علم و تحقیق کے میدان میں  کی ہو اور دیکھی ہو۔ بُرا ہو، اس مصنوعی ذہانت اور چیٹ جی پی ٹی کا،جس نے  بڑے بڑوں کی علمیت کی ہنڈیا  بیچ  چوراہے پھوڑ دی ہے۔ لیکن لگتا یہ ہے کہ جس وقت پروفیسر موصوف اس مضمون کے لیے جان جو کھم میں ڈالے ہوئے تھے ،اس وقت چیٹ جی پی ٹی اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں تھی اور پروفیسر جی عجلت  میں  تھے،انھیں تب  اس کو سیکھانے اور اس سے مطلوبہ مواد اخذ کرنے  کا کوئی زیادہ  تجربہ نہیں ہوگا۔پھر اسلامیات  اور لسانیات کے بیشتر پروفیسر حضرات  فنی چیزوں  سے ویسے ہی  کچھ کم  آشنا ہوتے ہیں۔اس کا اندازہ  اس  سے کیجیے کہ  وہ یہ  سمجھنے میں ناکام رہے کہ انھیں ڈاکٹر فضل الرحمٰن صاحب سے متعلق معلومات درکار ہیں یا وہ بھارت  کے معروف  موسیقار اے آر رحمنٰ سے متعلق تحقیق فرما رہے ہیں۔ ؏

ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے

 ایسی تحقیق کہاں  ہوئی ہو گی اور علم تفسیر کی  تاریخ  پر کسی نابغہ روزگارمحقق  کے قلم   سے ایسا مضمون کہاں  نکلا ہوگا۔  ہاں ، البتہ ایسا  صرف پاکستان میں ہو سکتا ہے اور وہ بھی تحقیق کے نام پر ایک پروفیسر کرسکتا ہے۔ نام  کے  اس  تحقیقی  مجلے کے  مدیر اور معاصر ( ہم جولی) جائزہ کار بھی پروفیسر  بتائے گئے ہیں۔ وہ  جامعات میں پڑھاتے ہیں ۔اب یہ  معلوم نہیں کہ انھوں نے  زیرنظر مضمون  کے مندرجات ملاحظہ بھی کیے تھے یا نہیں  اور وہ صرف   نسٹ کا نام  دیکھ کر ہی  مرعوب ہوگئے  مگر مضمون  نگار باریک واردات  ڈال گئے کیونکہ مرعوبیت بھی ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ہمارے یہ فاضل مدیران  اور مبصرین    اسلامی تحقیق  کے موضوع  پر  کیا پڑھاتے ہیں ؟یہ تو  وہ  جانیں اور ان سے پڑھنے والے جانیں۔البتہ اس مضمون سے ڈاکٹر فضل الرحمٰن مرحوم کی روح قبر میں ضرور تڑپ رہی ہوگی ۔

تحریر کا ناقدانہ جائزہ

آمدم  برسر مطلب۔ اس مضمون کے انگریزی کے خلاصے میں  بتایا گیا ہے کہ اس  اسکالرلی ( علمی وتحقیقی؟) مضمون  میں  مسلم تفسیر اور اس کے منہج خاص طور پر(ڈاکٹر) فضل الرحمٰن کے اس میں کردار پر  اظہار ِ خیال کیا گیا ہے۔ اس میں یہ دعوی ٰکیا گیا ہے کہ انھوں نے قرآن کی تفہیم اور تشریح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اردو تعارف میں وہ  بتاتے ہیں :’’مسلم تفسیر، قرآن کی علمی تفسیر اسلامی فکری روایت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے‘‘۔ یہ اس کا پہلا جملہ ہے۔ آگے پڑھیے:’’ صدیوں کے دوران ، مختلف علماء نے اس میدان میں اپنا حصہ ڈالا ہے جن میں سے ہر ایک  نے قرآنی تفسیر کے طریقہ کار اور نقطہ نظر کو تشکیل دیا ہے۔ ایسی ہی ایک روشن خیال شخصیت فضل الرحمن ہیں جن کی نمایاں خدمات نے قرآن کے ارد گرد کی گفتگو پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں‘‘۔

 ذرا ان الفاظ پر غور فرمائیے:’’ قران کے ارد گرد کی گفتگو ‘‘۔ اس سے کیا مراد ہے؟ اس  کو پڑھنے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مضمون   نگار کو کسی نے  کتب اور تحقیقی مقالات کے نام بتائے اور  ان سے کہا کہ اس موضوع پہ آپ نے  ایسے اور ایسے لکھنا ہے ، فلاں کتاب  سے   فلاں   پیرے ،فلاں   سطور اور  فلاں جملے   نقل  کرنے ہیں   ۔اتنی  سطور اور اتنے  جملوں کی اس اور اس     جریدے سے تخریج  کرلیں۔چناں  چہ  ان صاحب نے ویسے ہی اٹھا کے ان کو بلا ترتیب  قرطاس  ابیض  پر    منتقل   کر دیا۔  ایک اور جملہ ملاحظہ کیجیے؛’’ ابتدائی تفسیر بنیادی طور پر لسانی اور گراماتی پہلوؤں پر مرکوز تھی‘‘۔اس  سے ہمیں پہلی مرتبہ یہ پتا چل رہا ہے کہ گراماتی بھی کوئی لفظ ہے ۔اس سے کیا  عربی گرامر  مراد ہے یا  یہ  گرمیِ بازار  کی کوئی چیز ہے۔ اس کے بعد کہتے ہیں: ’’مذہبی تنازعات کی  آمد نے مختلف مکاتبِ فکر کے ظہور کا باعث بنا‘‘۔  اس جملے کی ساخت دیکھیے:’’ نے  اور باعث بنا‘‘۔  پھر اگلا جملہ ہے:’’ جن میں سے ہر ایک نے صحیفے کی تشریح کو متاثر کیا ‘‘۔کس  صحیفے کی تشریح کو؟ کچھ وضاحت  نہیں۔شاید قرآن مجید کی بات ہورہی ہے۔اسی صفحہ 2 پر چند غلط  الفاظ  ، تراکیب اور اصطلاحات یہ ہیں:ٹیپسٹری ، کثیر جہتی ،فلولوجیکل ،گرائمیکل ، اصباب النزول (لفظ أسباب  کو ص سے لکھا ہے)، حالاتی نقطہ نظر، بین متنی طریقہ ،  اسلام کے سنہری دور کے دوران ۔دور کے  بعد دوران ۔ان میں سے ایک دور زیادہ ہے۔’’ الطبری اورالرازی جیسے علماء نے اپنی تفسیر میں وحی کے ساتھ دلیل کوملاتے ہوئے اہم شراکت کی‘‘۔ کیا تحقیق کا  یہ  انداز  ہوتا ہے ؟ جب پہلی مرتبہ کسی مصنف کا تذکرہ  کیا جاتا  ہے  تو اس کا پورا نام لکھا جاتا ہے اور اگر  متن  میں پورا  نام   نہ  لکھا جائے  تو پھر حوالہ نمبر دے کر مکمل تعارف   کرایا جاتا ہے۔ مذکورہ  حوالے میں      طبری اور  الرازی  کا مختصر تعارف ہونا چاہیے تھا۔  مضمون نگار  پھر ہمیں  بتاتے ہیں:’’ عثمانی اور مغل سلطنتوں نے تشریحات میں سیاسی تحفظات کو شامل کرتے ہوئے تفسیر کو مزید شکل دی ‘‘۔کیا شکل دی ؟ کچھ  پتا  نہیں ۔ سلطنتِ  عثمانیہ یا   سلطنت  مغلیہ   کے دور میں  کون  کون سی تفاسیر لکھی گئی تھیں؟ اس کا کوئی  ذکر یا حوالہ نہیں ۔ عثمانی کون تھے اور  خود  مغل سلطنت کا قرآن  مجید کی تشریح و تفسیر میں کیا کردار  تھا؟ کچھ  پتا نہیں۔ اس دور کی کسی ایک بھی  تفسیر کا   حوالہ ہے اور  نہ نام  بتایا گیا ہے ۔اگلا عنوان ہے :

قرآنی تفسیر میں طریقہ کار

 اس کے تحت وہ پہلے جملے میں لکھتے ہیں:’’ مسلم تفسیر کا ایک اہم پہلو اسکالرز کی طرف سے استعمال کردہ طریقہ کار کی متنوع رینج ہے‘‘۔ یہ متنوع رینج کیا ہوتی ہے ؟کوئی وضاحت نہیں ۔ اس  کے بعد کا جملہ  یوں  ہونا چاہیے:’’فضل الرحمٰن   اپنے اختراعی نقطہ نظر کے لیے مشہور ہیں، وہ  تفسیری ادب میں تازہ بصیرت متعارف کراتے ہیں‘‘۔مگر متن  میں   ’نے اور جووالا جملہ معرضہ لکھ کر قاری کو الجھا دیا گیا ہے۔ جس مآخذ  سے  یہ  پیرا نقل کیا گیا ہے، وہاں   انگریزی میں لفظ فیلڈ  لکھاہوگا۔ اس کا  پروفیسر صاحب نے ’میدان ‘کے طور پہ ترجمہ کردیا ہے۔ اگلا جملہ اس سے بھی بڑا لطیف ہے۔ لکھتے ہیں:’’ قرآنی تفسیر، جسے تفسیر بھی کہا جاتا ہے، ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی شعبہ ہے جس کے لیے مقدس متن میں شامل معنی کو کھولنے کے لیے ایک منظم اور طریقہ کار کی ضرورت ہے‘‘۔ یہاں ، ان الفاظ پہ غور کیجیے: ’’ مقدس متن میں شامل معنی کو کھولنے کے لیے‘‘۔ یہ  شاید کوئی کواڑ  یا   دروازہ ہے جس کو کھولنے کی ضرورت پڑتی ہے۔اس پورے پیرے کو ملاحظہ کرنے کے بعد  یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہیں ہوگا کہ لکھاری نے بہت ہی بھونڈے انداز میں انگریزی متن کا اردو میں ترجمہ کیا ہے ۔ ان کے   فقروں ، جملوں ، اصطلاحات میں کوئی ربط نہیں  حتی کہ موصوف کو یہ بھی علم نہیں  کہ وہ جملہ فعلیہ لکھ رہے ہیں یا اسمیہ، جملے کی ساخت مجہول  ہےیا معروف ۔

اگلے صفحے پر ایک ذیلی سرخی کا عنوان ہے: عصر حاضر کی اسلامی فکر پر فضل الرحمن کے اثرات

 اس  کے تحت بھی جناب لکھاری نے  وہی  زحمت فرمائی ہے  اور من  وعن  متن  کہیں سے اٹھا کر رکھ دیا ہے۔ اس کا ایک جملہ یہ ہے:’’ یہ سیکشن رحمان کے نظریات کی پذیرائی اور عصری اسلامی سکالرشپ کے  فکری منظر نامے کی تشکیل پر ان کے اثر و رسوخ کی کھوج کرتا ہے‘‘۔ اس سے مترشح ہے،  جس کتاب میں یا تحقیقی مضمون میں یہ مواد   چھپاہوگا،انھوں نے  وہاں  سے  من وعن  اٹھایا  اور ترجمہ کرکے اس کو  بغیر سیاق وسباق  کے یہاں    چسپاں  کردیا۔  

مضمون  نگار   ہمیں  ایک  مرتبہ  پھر  باور کراتے  ہیں کہ’’ بیسویں صدی کے ممتاز اسلامی اسکالر فضل الرحمٰن نے عصری اسلامی فکر پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ،تناظر کو نئی شکل دی اور مسلم دانشور برادری  کے اندر گفتگو کو متاثر کیا( لیکن   اس کا کوئی ثبوت  فراہم  نہیں  کیا)۔ رحمان جو 1919 میں برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے، اسلامی تعلیمات کی ترجمانی کے لیے ایک تازہ اور متحرک انداز لایا‘‘۔ کسی تحقیقی مقالے میں یوں عبارت  لکھنے کا یہ کون سا انداز ہے ۔پھر دو پیروں کے بعد  وہی تکرار لفظی ہے۔

اس  تحریر میں زبان  و بیان کی فاش اغلاط تو  ر ہیں ایک  طرف ، ویب  گاہ پر  مضمون  کو کسی یکساں فونٹ اور ترتیب سے لکھنے کا بھی کوئی خیال نہیں  رکھا گیا۔ کہیں  فونٹ  سادہ ہے اور کہیں عبارت کو  بولڈ کر دیا گیا ہے  مگر عبارت کو   بولڈ کرنے کا کوئی   ایسا جواز بھی نظر نہیں  آتا کہ جس  سے یہ پتا چل سکے کہ کوئی خاص  بات  سامنے لائی  جارہی ہے جس کو نمایاں کرنا  ضروری تھا۔اس پیرے کو ملاحظہ کیجیے: ’’اپنی بنیادی تحقیق میں ،رحمان نے روایتی تفسیری طریقوں پر تنقید کی اور قرآنی متن کے ساتھ متحرک مشغولیت کی وکالت کی جو انسانی معاشروں کی ارتقا ءپذیر نوعیت کو مدنظر رکھتی ہے۔ وہ علماء کو لغوی تشریحات سے آگے بڑھنے اور آیات میں شامل بنیادی اخلاقی اور اخلاقی اصولوں کو تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ رحمان کا کام نہ صرف موجودہ نمونوں کو چیلنج کرتا ہے بلکہ کلاسیکی  اسلامی اسکالرشپ اور عصری فکری گفتگو کے درمیان ایک پل بھی پیش کرتا ہے‘‘۔اس کا  مفہوم قارئین اپنی افتادِ طبع کے مطابق خود ہی اخذ کرلیں۔

اس کے بعد لکھاری صفحہ چار پر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا تعارفی خاکا  پیش  کرتےہیں ۔اس سے پہلے یہ دلچسپ سطر ملاحظہ کیجیے:’’ ان کے کام کے اہم پہلوؤں کا  خلاصہ  پیش کرنے والے 10 پیراگراف یہ ہیں‘‘۔  اس کے بعد کچھ نہیں ۔کیا کسی ریسرچ پیپر  میں   یوں  بھی جملہ لکھا جا سکتا ہے۔صفحہ پانچ  سے اس مضمون کا سب سے مضحکہ خیز  حصہ شروع ہوتا ہے۔ وہ تعارف تو کرا رہے تھے ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا۔شاید  محقق کی معلومات عامہ کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور انھوں نے چیٹ جی پی ٹی   یا مصنوعی ذہانت کے کسی اور ٹول  سے رجوع  کیا۔ وہاں انھوں نے لکھا ہوگا:’ رحمان  کے بارے میں  تعارفی نوٹ  لکھیں‘۔  اس نے جواب  میں   جو کچھ لکھا، انھوں نے وہاں سے  نقل کیا  اور اس کو  من وعن  دیکھے بغیر مضمون میں  پیسٹ کردیا۔شاید اسی  لیے سیانے بار بار کہتے  ہیں کہ نقل کے لیے عقل کی اشد  ضرورت ہوتی  ہے  اور عقل کو کبھی گھاس چرنے کے لیے کھلا نہیں  چھوڑنا چاہیے۔اس  کو مسلسل  ، ہمہ وقت بروئے کار لانا چاہیے۔ اب مضمون میں  شامل   اے آر رحمان  کے بارے  میں پورے ایک  صفحے  کے تعارف میں  سے    ایک پیرا  ملاحظہ کیجیے اور سر دھنیے:

"اے آر رحمان 1967 ءمیں اے ایس دلیپ کمار کے طور پر پیدا ہوئے۔ وہ موسیقی کی دنیا میں خاص طور پر ہندوستانی فلم انڈسٹری میں ایک نمایاں  شخصیت کے طور پر ابھرے ۔رحمان کے کام کے تاریخی سیاق و سباق کو سمجھنے کے لیے ہمیں بیسویں صدی کے اواخر اور 21ویں صدی کے اوائل کے دوران ہندوستان کے سماجی وثقافتی منظر نامے میں جھانکنے کی ضرورت ہے"۔[5] اس کے بعد  وہ بتاتے ہیں   کہ   اے  آررحمان کے کیریئر کا آغاز 1990 کی دہائی کے اوائل میں   ہوا تھا جبکہ جن  ممدوح ڈاکٹر فضل الرحمٰن صاحب کا تذکرہ ہے، ان کے بارے میں ہمیں پہلے وہ یہ  بتا چکے ہیں کہ وہ 1988 میں اس جہانِ فانی سے دارالبقاء کی جانب   سدھار گئے تھے۔ لکھاری مسلمان ہیں   اور وہ  ہندوؤں کے  عقیدہ تناسخ  یا آواگون کے قائل تو ہو نہیں سکتے  جو انھوں نے ڈاکٹر فضل الرحمٰن  کو اے آر رحمن کی شکل میں   ہمارے سامنے ایک زندہ ٔ جاوید ہستی کے طور پر دوبارہ  پیش  کردیا ہے۔

 تفننِ  طبع  کے لیے اسی  تعارف کا  ایک اور  پیرا ملاحظہ کیجیے:’’ ہزار سال کی باری رحمان کے لیے نئے چیلنجز اور مواقع لے کر آئی۔ عالمگیریت میں تیزی آئی اور انٹرنیٹ کی آمد  نے موسیقی کی  صنعت  کو بدل دیا۔ رحمٰن نے ان تبدیلیوں کو اپناتے ہوئے نہ صرف ہندوستانی فلمی موسیقی کے منظر نامے پر غلبہ حاصل کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پہچان بھی حاصل کی۔ بین الاقوامی فنکاروں کے ساتھ ان کے تعاون اور ہالی ووڈ فلموں  میں  تعاون نے انھیں عالمی سٹیج پر رکھا۔ اس عرصے کے دوران ثقافتی تبادلوں کی ارتقا پذیر نوعیت کو ظاہر کیا‘‘۔

اسے کہتے ہیں،ایک ٹکٹ میں دو مزے۔ مضمون  نگار نے سوچا ہوگا ،قارئین ، مبادا  ڈاکٹر فضل الرحمٰن  کے تفسیری منہج  پر طویل  تحریر  پڑھتے پڑھتےا کتاہٹ  اور بوریت کا شکار ہوجائیں کیوں نہ ان کی تفریح طبع کا ساماں  بھی کردیا جائے اور ان کے حالاتِ زندگی میں موسیقار اے آر رحمٰن    کے فنی سفر کا ’ٹانکا‘ لگا دیا جائے اور وہ بھی پورے ایک صفحے کا۔

مضمون  کے  صفحہ چھے    کے مطالعے سے  پتا چلتا ہے کہ  لکھاری عالم مدہوشی سے بیدار ہوتے ہیں اور وہ ہمیں پھر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کی شخصیت اور فن کا  نظارہ کراتے ہیں۔ وہ  دلچسپ  ذیلی سرخی  جماتے  ہیں: کلاسیکی متن کی دوبارہ تشریح۔آگے عبارت کی ایک  سطر کچھ یوں ہے:’’ یہ مضمون کلاسیکی تحریروں کی دوبارہ تشریح کرنے کی اہمیت پر روشنی  ڈالتا ہے۔ یہ دریافت کرتا ہے کہ یہ ان کاموں کے بارے میں ہماری تعریف کو کیسے تقویت بخشتا ہے اور ماضی  اور حال کے درمیان   جاری مکالمے میں حصہ ڈالتا ہے‘‘۔یوں انھوں نے یہ ٹکڑا    مضمون  کی  مُحَوَّلَہ کتب یا جرائد  میں سے کسی سے  اٹھایا  اور  اس  کا بعینہ لفظی مگر بھونڈا  ترجمہ کر دیا۔پورے متن میں ایک  لفظ  ’ ٹیپسٹری   ‘ تین چار جگہ استعمال کیا  گیاہے۔یہ لفظ  اردو میں مستعمل نہیں ۔شاید ہمارے پروفیسر صاحب کی علمیت یا ترجمے کی لیاقت  داغِ مفارقت دے گئی ۔ ان کی کسی لغت تک بھی رسائی نہ ہو سکی  اور وہ یہ  نہیں  دیکھ سکے  کہ ٹیپسٹری کے  اردو میں کیا معنی ہیں اور اس اصطلاح کو اردو میں کیسے برتا جاتا ہے۔وہ اس کو بنت کاری یا تصویب وترتیب  لکھ  سکتے تھے۔ صفحہ سات  پر وہ ہمیں ایک مرتبہ پھر بتا رہے ہیں کہ’’ یہاں 10 کلیدی پیراگراف ہیں جن میں فضل الرحمان کے مسلم تفسیر اور طریق کار کے مطالعہ کا خاکا پیش کیا گیا ہے‘‘۔اس  جگہ  پھر اس جملے کا اعادہ ہے کہ’’ فضل الرحمن برطانوی ہندوستان میں پیدا ہونے والے ممتاز  اسلامی سکالر تھے‘‘۔

اس کے بعد صفحہ   آٹھ پر ایک ذیلی  سرخی ’’میراث اور مسلسل اثر ‘‘ کے تحت دوبارہ وہی 10 پیراگراف کا ذکر ہے ۔اسی صفحے پر   ایک جگہ   اغلب  ہے کہ ’معاصر  جائزہ کار‘ کا  مقالے  پر تبصرہ نقل کردیا گیا ہے۔  جس میں وہ لکھتے ہیں:’’ میں آپ کو میراث   اور مسلسل اثر کے مضمون کے لیے ایک عمومی ڈھانچہ ( درست ڈھانچا) فراہم کروں گا۔ آپ ضرورت کے مطابق ہر ایک نکتے کو ڈھال سکتے ہیں اور بڑھا سکتے ہیں۔ میراث  کا تصور ایک طاقتور قوت ہے جو وقت سے ماوراہے ،حال کی تشکیل  اور مستقبل کو متاثر کرتی ہے ۔یہ مضمون ،افراد تحریکوں  یا خیالات کے پائدار اثرات کو تلاش کرتا ہے۔ ان کی اہمیت اور مسلسل اثر ورسوخ کو اجاگر کرتا ہے‘‘۔ پھر  انھوں نے لکھاری سے یہ کہا تھا کہ میراث کی وضاحت کریں ۔انھوں نے اس  خط کتابت کو اسی طرح اٹھا کر  مضمون  کے اس  حصے میں شامل کر دیا ہے ۔اس کے بعد ’جدت طرازی اور پیش رفت‘  کے ذیلی عنوان  کے تحت   جناب  ’محقق‘ کو یہ تجویز کیا گیا تھا :’’ اس بات کا جائزہ لیں کہ  وراثت  کس طرح جدت اور ترقی میں حصہ  ڈالتی ہے‘‘۔

صفحہ نو کے بالکل آغاز میں مضمون   کے متن کا اختتام  ہورہا ہے اور اس میں  بھی شاید الاحقا ق کے ایڈیٹر صاحب  یا   کسی معاصر  جائزہ کار نے انھیں  چند تجاویز پیش کی تھیں اور یہ کہا تھا کہ ’’مضمون میں زیر بحث کلیدی نکات   کا خلاصہ  بیان کریں اور ہماری دنیا کی تشکیل میں وراثت کو پہچاننے ،سمجھنے اور ان کی تعریف کرنے کی جاری اہمیت پر زور دیں۔ ہر ایک نکتے کی وضاحت کرنا ، مثالیں  فراہم کرنا اور پورے مضمون میں اپنے خیالات کو مربوط طریقے سے جوڑنا یاد رکھیں۔‘‘انھوں  نے اس  نصیحت  نامے کی یوں پاسداری کی کہ اس کو   اسی طرح اٹھا کر بالکل اختتام   پر چسپاں  کردیا  ہے۔اس کے  خلاصے میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ’’ اس علمی مضمون میں فضل الرحمن کی خدمات پر خصوصی توجہ کے ساتھ مسلم تفسیر اور طریق  کار کی ایک جامع تحقیق فراہم کی گئی ہے‘‘۔

 ہم    اپنے معزز قارئین اور اہلِ علم  کو یہ دعوت دیتے ہیں  کہ وہ اس مضمون کا بالاستیعاب  مطالعہ کریں  اور یہ جائزہ  لیں کہ اس جملے میں جو تین دعوے کیے گئے ہیں؛ یعنی،  اوّل، ڈاکٹر فضل الرحمٰن کی علمی  خدمات ، دوم، مسلم تفسیر اور سوم؛  ان کا منہج تفسیر یا تحقیق۔ ان    پر اس  طویل  تحریر میں   مربوط  انداز میں  کیا  کچھ لکھا ہے۔ اگر  کچھ  مفید  الفاظ ان  کے  پلے پڑے  ہوں  تو وہ   ان پروفیسر صاحب کے ممنون احسان ہو جائیں اور ان کا شکریہ ادا کریں کہ جناب حضرت  محقق  نے ماشاءاللہ بہت بلند پایہ  داد ِتحقیق دی ہے اور ہمارے علم میں  نمایاں   اضافے کا سبب بنے ہیں ۔ ہم آپ کے   بہ صمیم  قلب شکر گزار ہیں۔کتابیات  میں   صرف  لفظ ’ حوالہ‘ لکھا ہوا ہے ۔ اس میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن کی بعض  کتب درج   ہیں، ان کے علاوہ  سیّد حسین نصر کی چند کتب کا حوالہ ہے لیکن یہ حوالہ جات تحقیق کے کس طرز ِتحریر کے مطابق ہیں، کچھ پتا نہیں کیونکہ کچھ حوالے ایم ایل اے کے قریب تر ہیں ،کچھ شکاگو طرز کے   انداز میں   ہیں لیکن کسی ایک کی پیروی نہیں کی گئی کیونکہ کہیں مصنف کے نام  کے بعد  کاما ہے  تو کہیں  سکتہ۔ کہیں تاریخِ  اشاعت ہی غائب ہے۔ پورے مضمون میں  کہیں اس بات کا ذکر  یا حوالہ  نہیں کہ کون سی سطر، کون سا جملہ یا  کون سا پیرا کس کتاب  یا جریدے سے لیا گیا ہے۔آخر میں   ایسے ہی کتابوں،جرائد ، مجلوں  کے نام اٹھا کے دے دیے گئے  ہیں۔

خلاصہ کلام:   

اس رسالے  کے مدیراعلیٰ اور ادارتی عملہ کے ارکان   ہی   بتا سکتے ہیں کہ یہ تحقیق  کی کون سی قسم ہے کہ جس میں آپ اِدھر اُدھر  سے مواد اکٹھا کر کے نشان زد  کرلیں،ان کا اوٹ پٹانگ ، گنجلک اور سیاق وسباق  سے ہٹ کر ترجمہ کریں ، پھر اس کو  جا بہ جا کاپی پیسٹ کرتے جائیں۔آخر میں کتب اور جرائد کی تفصیل بھی  دے دیں  مگر یہ  پتا ہی نہ ہو کہ کون سی  بات کہاں سے لی  تھی، کس مقولے کا تعلق کس شخصیت سے ہے۔اس  پوری تحریر میں  مربوط عبارت نام کی کوئی چیز  نہیں ، بے جوڑ جملے اور پیرے  نظر آتے  ہیں۔ تکرار لفظی عام  ہے۔ ایک بات کاتین تین، چار چار مرتبہ  اعادہ کیا  گیا ہے۔ املاء کی اغلاط  عام ہیں۔ زبان و بیان کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔موضوع  بحث    شخصیت کے نام  ہی کو  لے لیجیے۔ فضل الرحمٰن کو کھڑا زبر کے بغیر یا   پھر الف سے لکھا گیا  ہے۔پورے مضمون میں  اسم   الرحمن  اور رحمان( الف سے)   دو طرح جابجا  نظر آتا ہے ۔ گویا مرکزی نام  کے ہجےہی میں یکسانیت نہیں۔ جب کہ  مقتدرہ قومی زبان  ( اب ادارہ فروغ  قومی زبان) نے اپنی  سفارشات ِ  املا میں یہ اصول طے کیا تھا کہ اسمائے حسنیٰ   جیسے قرآن  مجیدمیں لکھے جاتے ہیں، انھیں  ویسے ہی لکھا جائے گا۔ پھر اللہ  کے دو خاص صفاتی نام  الرحیم اورالرحمٰن جب لکھیں تو اس سے  پہلے کوئی اور  اسم   یا لفظ   ہونا  چاہیے۔ جیسے عبدالرحمٰن، فضل الرحمٰن، سلیم الرحمٰن، وغیرہ ۔ مضمون  میں  انگریزی کے طرز پر  صرف رحمٰن  لکھا ہوا ہے لیکن کیا اردو میں اس طرح  لکھنا  درست ہوگا؟

مدیرانِ  گرامی اور ریسرچ کی پولیٹکل اکانومی

اب کچھ  ذکر  اس  آن لائن ’’تحقیقی‘‘ جریدے’  الاحقاق‘  کا ہوجائے۔اس کے تعارف میں   بتایا گیا ہے کہ یہ بہت اعلیٰ معیار کا تحقیقی جرنل ہے اور یہ تحقیقی معیار کی بلندی اور کوانٹی ٹیٹو(کمیتی)  تجزیے کے لیے بروئے کار ہے ۔ اب یہاں ایک منٹ کے لیے رکیے۔آپ نے یہ مضمون پڑھا۔آپ کو کہیں کوئی کوانٹی ٹیٹو    یعنی عددی ڈیٹا نظر آیا۔ نہیں۔ یہ دراصل کوالی ٹیٹو(کیفیتی) مواد  کی  نمایندگی  کرتا  ہے جس میں مواد کا گہرائی اور گیرائی  سے تجزیہ کیا جاتا ہے۔ یعنی ہم اسے  کمیتی تحقیق نہیں بلکہ کیفیتی تحقیق کا علمبردار جرنل  کَہ  سکتے ہیں  مگر  اس تعارفی  عبارت سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ رسالے کے مدیراعلیٰ  یا  ادارتی  بورڈ کو یہ معلوم ہی نہیں کہ کوانٹی ٹیٹو ریسرچ کیا ہوتی ہے اور   کوالی ٹیٹو (کیفیتی) تجزیہ کیا ہوتا ہے۔یہ مضمون اس کے 2023 کے پہلے شمارے کے  پہلے  نمبر کے طور پر  شائع ہوا تھا۔ اب ویب سائٹ پر اس کے پانچ شمارے موجود ہیں اور یہ سال میں دو مرتبہ چھپتا ہے۔اس کاناشر  الزمر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ہے۔ اس میں  شائع  ہونے والے  مضامین   کے جائزے کاطریق  کار  یہ بتایا گیا ہے کہ یہ  ڈبل بلائنڈ پِیّر ریویو ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا مواد   ایسے  ہم جولی  یا معاصر   ماہرین  اور جائزہ کاروں کو بھیجا جاتا ہے جو کسی صاحبِ تحریر کو نہیں جانتے اور ان کو نام کے بغیر بھیجا جاتا ہے ۔انھوں نے  اس  بات کی جانچ کرنا ہوتی ہے کہ  کیا اس کے مندرجات  ٹھیک ہیں،ان میں کوئی اسقام تو نہیں۔ اس کے حوالہ جات درست ہے اور مصنف  یا محقق  نے جو عنوان باندھا ہے ، کیا اس نے  اپنے تحقیقی مقالے  میں  اس  سے انصاف کیا ہے ۔پھر تحقیق میں یہ نہیں ہوتا کہ آپ نے مکھی پر مکھی مار دی اور جو جی میں آیا، وہ لکھ دیا بلکہ آپ نے  سب سے پہلے تو زینہ بہ زینہ تعارفی  تاریخ   اور متعلقہ مواد کا جائزہ  پیش  کرنا ہوتا ہے جس سے یہ پتا  چلتا ہے کہ اب تک زیر بحث موضوع   پر کیا کچھ تحقیقی کام ہوچکا ہے۔مکمل تحقیق  کے بعد  ایک بالکل  نئی چیز برآمد کرنا ہوتی ہے۔نیز کسی تحقیقی مقالے کے پانچ نمایاں عناصر اور  خصوصیات ہوتی ہیں:

 ۱۔تحقیق کے کسی  خاص منہج کی پاسداری

۲۔ تعارف سے آغاز،پھرمتعلقہ مواد کا مختصر جائزہ

۳۔موثر ابلاغ  کی  حامل   سلیس، جامع ، مربوط   اور رواں  عبارت

۴۔ منطقی نتائج ، حاصل بحث ، تجاویز وسفارشات وغیرہ۔

۵۔ حوالہ جات کی مکمل تفصیل۔

 اگر    یہ  عناصر خمسہ عنقا  ہیں تو کوئی   مضمون یا  مقالہ تحقیقی  کہلانے کا حق دار نہیں ہوتاہے۔’الاحقاق ‘ کے اشاعت کے شعبے میں بتایا گیا ہے کہ  اس کا تعلق  زبان اور لسانیات ہے۔اس نے اردو زبان کا جو حشرونشر کیا ہے، وہ آپ نے ملاحظہ کرلیا۔اس میں مضمون چھپوانے کے لیے کسی لکھاری کو پاکستانی کرنسی کی شکل  میں  25 ہزار روپے  یا پھر 90 ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔تحقیقی جرائدکی آن لائن یا پرنٹ شکل میں باقاعدہ ایک کاروباری ماڈل ہے۔اس کے تحت پاکستان سے ہر سال   ڈاکٹریٹ کے  سیکڑوں مقالوں کےعلاوہ تحقیقی مضامین اور مقالات   ماہرانہ  جائزے  اور اشاعت کے لیے  بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں۔ غیرمصدقہ اعدادوشمار کے مطابق  اس مقصد  کے لیے کم سے کم ایک ارب روپے  سالانہ کی بیرون ملک ترسیل ہوتی ہے۔اندرون ملک اس مد میں صرف ہونے والی رقوم اس کے علاوہ ہیں۔ محققین  اور لکھاری حضرات  تحقیقی مضامین یا مقالات کی اشاعت  کے لیے فیس کی مد میں خطیر رقم   زیر بحث  برقی مجلے کی طرح ویب گاہوں کو ادا کرتے ہیں۔

الاحقاق کے مدیر اعلیٰ  جناب ڈاکٹر حافظ محسن ضیا قاضی صاحب  ہیں ۔وہ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اور شریعہ، مائی یونیورسٹی،  اسلام آباد میں ہوتے ہیں۔ ایڈیٹر  ڈاکٹر محمد نوید  ہیں ۔ ان کا تعلق جامعہ گجرات کے شعبہ  اسلامی علوم سے ہے ۔مینجنگ ایڈیٹر  ایاز اختر ہیں اور ان کا تعلق بھی مائی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک   اسٹڈیز اور شریعہ  سے ہے۔  ادارتی  بورڈ  میں  درج    ذیل اسمائے گرامی  ہیں: ڈاکٹر نور الحسن، ڈاکٹر محمد عارف، ڈاکٹر غلام فاروق نعیمی۔ ایڈوائزری بورڈ میں ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی (چیئرمین  اسلامی نظریاتی کونسل ، پاکستان)، ڈاکٹر محمد حسیب، ڈاکٹر محمد وارث علی ،ڈاکٹر ندیم عباس اور ڈاکٹر کلیم اختر قیصرانی شامل ہیں۔ان معتبر حضرات کے نام اس لیے دیے گئے ہیں تاکہ انھیں یہ معلوم  تو ہو کہ  جس  ’’مایہ ناز‘‘ تحقیقی مجلے میں ان کے اسمائے گرامی  آویزاں ہیں،اس میں کس قسم  کا مواد  چھپ رہا ہے۔



حوالے

"[1] ۔ الاحقاق جرنل"۔ الاحقاق، ۔https://ahqaq.com/index.php/Journal/index۔ ملاحظہ: 15 فروری 2025

[2]۔ https://seecs.nust.edu.pk/faculty/muhammad-imran-malik-1/ 

ملاحظہ : 17 فروری 2025

[3] ۔ سرور، محمد۔ افادات وملفوظات۔ سندھ ساگر اکادمی، اپریل 2014، ص ص۔ 107-108۔

[4]۔ محولہ بالا

 

1 تبصرہ:

  1. اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مضمون نگار نے بہت عرق ریزی اور مطالعہ کے بعد مضمون کو جامعیت کا لبادہ پہنایا ہے لیکن اس کی طوالت تحریر کے حسن کو مانند کر دیتی ہے ۔میری ناقص رائے کے مطابق اختصار سے اس کی اہمیت دو چند ہو جاتی ۔

    جواب دیںحذف کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template