📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

پیر، 5 اکتوبر، 2026

وکلاء سیاست کی حرکیات




امتیازاحمدوریاہ 

’’جناب  جعلی یا اصلی ڈگری کے چکر میں جھلّے نہ بنو، وکلاء سیاست کی حرکیات کو دوبارہ سمجھو،اس کی تفہیم پر نظرثانی کرو‘‘۔

 جی ٹھیک ۔

لیکن یہ فرمائیے کپتان محمد صفدر جی، جناب احسن بھون کی قانون کی ڈگری کا روز مضحکہ اڑا تے ہیں۔ان سے ڈگری دکھانے کا مطالبہ کرتے ہیں مگر ڈگری ہے کہ عنقا ہوچکی ہے۔اب تو وہ یوٹیوبروں اور اینکروں کے لیے ’’ہاٹ کیک‘‘ ہیں۔ وہ سرشام کسی نا کسی کے ہاں جلوہ گر ہوتے ہیں اور وکیل رہ نما سے روز ڈگری دکھانے کا مطالبہ کرتے ہیں مگر وہ ہیں کہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔اب اس معاملے اور غوغا آرائی  کا بنے گا کیا؟

’’بننا کیا ہے، کچھ بھی نہیں۔ کچھ دنوں کے بعد یہ معاملہ ٹھنڈا پڑجائے گا لیکن اگر بات آگے بڑھتی ہے  اور کپتان صفدر اسی طرح ڈگری دکھانے کا تقاضا جاری رکھتے ہیں تو وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ صاحب مسلم لیگ ن کو چھوڑ دیں گے، وہ وزارت کو بھی خیرباد کَہ سکتے ہیں لیکن وہ احسن بھون کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔انھیں معلوم ہے،ان کے کام وکلاء لیڈر ہی آئیں گے،ان کا حال اور مستقبل وکلاء سیاست سے وابستہ ہے اور وکیلوں کی دھڑے بندی کا ساتھ ہی ان کی بقا کا ضامن ہے،وزارت تو آنے جانے کی چیز ہے۔ آج  ان کی جماعت کی حکومت ہے، کل نہیں ہوگی۔‘‘

یہ ایک باخبر صاحب کی گفتگو تھی۔وہ مزید گویا ہوئے، آپ کو معلوم نہیں امتحانات میں معمولی نمبر لینے والے وکلاء کتنی دور کی  اور گہری سوچ رکھتے ہیں۔ان کی دوراندیشی کا  اندازہ  اس بات سے کریں،وہ برسوں پہلے اپنے پیادے چلانا شروع کرتے ہیں اور طے کرلیتے ہیں کہ فلاں ،فلاں جج عدالت عالیہ سے ریٹائر ہوگا تو اس کی جگہ فلاں اور فلاں وکیل جج بنے گا۔عدالتِ عالیہ میں موجود ججوں میں سے فلاں اور فلاں کو عدالتِ عظمیٰ میں بھیجا جائے گا۔ان وکلاء گروپوں  کی اسٹیبلیشیا سے لائن پہلے ہی سیدھی ہوتی ہے۔انھیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ عدالتوں میں لوگوں کو انصاف مل رہا ہے یا نہیں۔ عدالتوں میں ان کے ہزاروں مقدمات برسوں سے زیرالتوا ہیں تو کیوں؟اس کے اسباب کیا ہیں؟پاکستان کا عدالتی نظام  دنیا بھر کے ممالک میں ایک سو تیسویں نمبر پر ہے یا ایک سو چالیسویں نمبر پر،ان کی بلا سے۔

لہٰذا زیادہ ہلکان اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ نظام ایسے ہی چلتا رہے گا اور یہ طبقہ اشرافیہ اپنا حصہ بہ قدرجثہ ہمیشہ وصول کرتا رہے گا۔وکلاء ججی اور بھاری فیسوں کی صورت میں، جج صاحبان بھاری مشاہروں  اور مراعات کی صورت میں۔

اردشیر کاوس جی کے الفاظ مستعار لیے جائیں تو  اعلیٰ عدلیہ کا ایک جج ہمیں روزانہ پچاس ہزار روپے  میں’’ پڑوے ‘‘ہے۔ویسے انھوں نے ایسا جملہ پی ٹی وی پر ایک گفتگو میں سابق صدر فاروق لغاری کے بارے میں کہا تھا:’’(شالا) ہمارا صدر  منڈی بہاول دین میں بطخوں (مرغابیوں) کا شکار کروے ہے اور وہ جو ایک بطخ مارتا ہے، وہ ہمیں 28 ہزار روپے میں پڑوے ہے۔‘‘

اب تو خیر سے  ہمارے سارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہی بطخوں کے شکار پر ہیں ،کوئی روز ہزاروں میں شکار کرتا ہے تو کوئی لاکھوں میں۔ بعض  خوش نصیب  تو کروڑوں تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔

رہے نام اللہ کا۔




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template