ہمارے دور کے
بزرگوں کا اردو املا کے باب میں جین زی سے
اتفاق ہے۔ ہر دو فریق فرماتے ہیں: لفظ
فوتیدگی کا استعمال درست ہے، کیونکہ یہ اب
عام ہوچکا ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے عام ایسا
ہوا ہے کہ اس کو عامی ہی برتتے ہیں،خواص اس لفظ کی
ترکیب وتشکیل سے چڑتے ہیں۔بعض کا تو بس نہیں چلتا ، ورنہ وہ فوتیدگی کو جناب اسداللہ خان غالب اور انشاء اللہ خان انشاء
مرحوم کے ہاں چھوڑ آئیں اور انھیں یہ کہہ آئیں:’’ بھائی بڑے میاں صاحب اس لفظ کو ذرا دیکھ لیجو ،اس نے بہت سوں کو
پریشاں کررکھا ہے۔ خیر جو سرے سے اس لفظ کو منھ ہی نہیں لگاتے ،ان کی بلا سے ۔انھیں
کیا پڑی ہے، اس غیر ضروری بحث میں کُودنے کی۔ وہ اللہ کے پاس جانے والے کے کفن ہی میں ایسے الفاظ کو رکھ کر دفن کردیتے ہیں۔ وہ سیدھے سبھاؤ اعلان کرتے ہیں:
’’بھائی بشیر مشین والے کی نُوں ، اللہ دتے بیری والے
کی بھابھی ، بھائی نذیر فوجی کی بیوی ، بابو مسکین کی والدہ اور کاشی سربلند کی دادی قضائے الٰہی سے وفات پا
گئی ہیں۔ان کی نمازجنازہ شمال والے قبرستان
میں ٹھیک دوپہر دوبجے ادا کی جائے گی۔‘‘
یوں وہ ’’فوتیدگی ‘‘کے درست یا غلط استعمال سے بچ جاتے ہیں اور وفات ہی سے بڑے احسن
طریقے سے کام چلا لیتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں