📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

بدھ، 3 دسمبر، 2025

تحقیق سے ’بوس وکنار‘ کرتی ایک یادگار تحریر

امتیازاحمد وریاہ

پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق رہ نما اورموجودہ دانشور جناب قیوم نظامی کی تحقیق سے ’’بوس وکنار‘‘ کرتی ایک تحریر’’کتاب  چہرہ ‘‘ پر زیرِگردش ہے اور ہمارے بزرگ  جناب پروفیسرفتح محمد ملک صاحب نے اپنی وال پراس کا اشتراک کیا ہے۔ویسے تو اس کے تمام مندرجات ہی الا ماشاء اللہ تحقیق طلب ہیں اور تمام مضمون ہی سنی سنائی کہاوتوں کا مرقع ہے لیکن ایک تاریخی’ ٹمکیری ‘پر ہماری نظر ٹک کررہ گئی۔آپ بھی پڑھیے اور سر دھنیے۔فرماتے ہیں:’’سرسید احمد خان ؒاور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ دونوں حضرت شاہ ولی اللہؒ کے شاگرد تھے۔‘‘

اب تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے چند تاریخی حقائق  پیش کیے جاتے ہیں:

حضرت شاہ ولی اللہؒ محدث دہلوی 21 فروری 1703ء کو پھلت، مظفر نگر میں پیدا ہوئے  تھےاور انھوں نے 20 اگست 1762ء کو دہلی میں انتقال فرمایا تھا، اس وقت ان کی عمر قریباً 59 برس تھی۔
سرسید احمد خان 17 اکتوبر 1817 کو دہلی میں پیداہوئے تھے اور انھوں نے 27 مارچ 1898 کو علی گڑھ میں وفات پائی تھی۔
حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ ؁1832 یا بعض روایات کے مطابق 1833 میں قصبہ نانوتہ (ضلع سہارنپور) میں پیدا ہوئے اور 1880ء میں دیوبند میں وفات پائی تھی۔
گویا دونوں بزرگ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی وفات سے بالترتیب 55 سال اور 70 سال کے بعد پیدا ہوئے تھے۔
اب یہ قیوم نظامی صاحب ہی بتاسکتے ہیں کہ مذکورہ دونوں بزرگ حضرت شاہ ولی اللہؒ کے حلقۂ درس میں کب اور کہاں شامل ہوئے تھے اور ان سے کیسے استفادہ کیا تھا۔ان میں استادی شاگردی کی رسم کہاں ادا ہوئی تھی؟ کیا یہ عمل عالمِ ارواح میں وقوع پذیر  ہوا تھا؟ کیونکہ اس دنیامیں تو ان کے درمیان استادی شاگردی کا کسی صورت امکان نہیں۔
ایک اور تاریخی مغالطہ بھی پھیلایا جاتا ہے۔ یہ کہ برصغیر کی دینی ، تعلیمی ،سیاسی اور ثقافتی تاریخ پر انمٹ نقوش مرتب کرنے والی یہ دونوں  جلیل القدرشخصیات حضرت مولانا مملوک العلیؒ کی شاگرد رہی تھیں۔اس مغالطے کے موجد  جناب ایس ایم اکرام ہیں۔ان کی برصغیر کی مذہبی ، علمی اور ثقافتی تاریخ پر مبنی تین مشہور تصانیف ہیں:  موجِ کوثر ، آبِ کوثر اور رودِ کوثر ۔انھوں نے  اوّل الذکر موجِ کوثر میں مولانا مملوک العلی نانوتوی کو سرسید کا استاد قرار دیا ہے۔پاکستان میں دیوبند مکتبِ فکر کے  بعض خطباء بھی اس کا چرچا کرتے رہتے ہیں لیکن اس اطلاع میں کوئی صداقت  نہیں۔نیز  ایک اور دعویٰ  تاریخی ’فیک نیوز‘ ہے کہ سرسیداحمد خان اور مولانا قاسم نانوتوی ہم مکتب یا ہم درس رہے تھے کیونکہ دونوں کی عمروں میں  پندرہ، سولہ سال کا فرق ہے۔جب  بانی دارالعلوم دیوبند  ابتدائی  تعلیم حاصل کررہےتھے تو سرسیداحمد خان اس وقت مروج  رسمی تعلیم سے  فارغ التحصیل ہونے کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھ  چکے تھے۔انھوں نے 1839ء میں آگرہ میں نائب منشی کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا اور1841ء میں ان کا فتح پورسیکری میں تبادلہ ہوگیا تھا۔1847؁ میں انھوں نے دہلی کی تاریخی عمارتوں پر اپنی مشہور کتاب ’’آثار الصنادید‘‘ لکھی تھی۔

قیو م نظامی صاحب کی اطلاع کے لیے عرض ہے  کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سابق ناظم  (ڈائریکٹر) شعبہ دینیات مولانا عبداللہ انصاری مرحوم بانی دارالعلوم دیوبندمولانا قاسم نانوتویؒ صاحب کے داماد تھے۔ علی گڑھ اور دیوبند کے نظام ِ تعلیم وتربیت،  دینی ونظریاتی  شناخت  میں فرق ضرور تھا   اور ان کی الگ الگ پہچان  تھی لیکن ان کے وابستگان میں عملی طور پر ایک دوسرے سے تعلق داری میں کوئی زیادہ مغائرت نہیں تھی اور دونوں مکاتب ِ فکر کے مخلص بزرگوں نے دونوں اداروں کو قریب  لانے کی کوشش کی تھی اور اس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے تھے۔

1 تبصرہ:

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template