امتیازاحمدوریاہ
پنجاب
میں مولوی صاحبان جذباتی مزاج کے حامل کیوں ہیں؟اس کی ایک وجہ خالصتاً شخصی کیمیا
(کیمسٹری) سے بھی تعلق رکھتی ہے۔پنجاب کی مٹی کی تاثیر ہی ایسی ہے۔یہ کچھ لوگوں کو
نچلا نہیں بیٹھنے دیتی۔ زور ’’کچھ لوگوں ‘‘پر ہے۔اگر آپ عبداللہ المعروف دلا بھٹی اور
مغل بادشاہ اکبر کے مناقشے کی داستان پڑھیں تو اس میں شاید آپ کوکوئی جواب مل سکے اور بات کو سمجھنے میں آسانی بھی ہوگی۔
پھر ایک اور فرق آپ کو بڑا نمایاں نظر آئے گا۔ کھپ شپ ڈالنے والے چند ایک مولوی صاحبان ہیں اور وہی ہر جگہ اسٹیج پر چھائے نظر آئیں گے،سوشل میڈیا پر بھی ان کا غلغلہ بلند ہے۔اس مظہریت کو ایجنڈا سیٹنگ تھیوری کے تناظر میں ملاحظہ کریں۔ایسے دینی موضوعات کو نمایاں کردیا گیا ہے جن کا اصل وفرع تو کیا مستحب میں بھی شمار نہیں۔یوں ہمارے حصے میں آنے والے’’ غزالی ہائے دوراں‘‘بڑے خلوص سے یار لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہوجاتے ہیں اور انھیں تب پتا چلتا ہے، جب دوچار مقدمے دائر ہوجاتے ہیں۔اگر طلاقتِ لسانی کے ان ماہرین جبہ ودستار سے صرفِ نظرکریں تو پنجاب میں ایسے ایسے صاحبانِ علم و فن موجود ہیں کہ آپ نے کبھی ان کا نام تک نہیں سنا ہوگا۔وہ بڑی خاموشی سے علوم وفنون اور دین کی خدمت کررہے ہیں۔
پنجاب کے چپّے چپّے میں ایسے علماء اور اساتذہ موجود ہیں کہ پورا درس نظامی یاد ہے مگر نمود ونمائش سے کوسوں دور ہیں۔اہلِ عرب کے ہم پلّہ عربی زبان وادب میں مہارت ہے مگر کیا کیجیے اب سوشل میڈیا پر نمودونمائش کے خوگرو عادی ہی چھائے ہوئے ہیں اور مخلصین کونے کھدروں میں پڑے ہیں۔ویسے بھی سوشل میڈیا اور مرکزی دھارے کے میڈیا کی چکا چوند میں ان اہلِ علم کا کیا کام؟ جہاں ایک بالکل غلط تاریخی واقعہ نقل کرنے والا اور واقعات کے بیان میں دو مختلف شخصیات کو گڈ مڈ کرنے والا بڑا دانشور کہلاتا ہے اور صحابیِ رسول حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا درست نام تک لینے سے قاصر مورخِ اسلام ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں