📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

بدھ، 14 اکتوبر، 2026

اے آئی کے دور میں خبرنگاری

 امتیازاحمدوریاہ

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے برپا کردہ انقلاب نے  عمومی زندگی  اور علم وفن کے  ہر شعبے ابلاغیات ، صحافت ، مواصلات ، سیاست ، معیشت ، معاشرت ، تعلیم وتعلّم  ، تحقیق  اور  سائنس   وغیرہ کو شدید متاثرکیا ہے۔اس کے بطن سے پیدا ہونے والی مصنوعی ذہانت نے تو  بہ قول شخصے تباہی پھیر دی ہے۔اب اس کو بنانے والے  خود انگشت بہ دنداں ہیں کہ  ہائے،ہم نے یہ کیا کردیا ؟وہ یہ کہنے پر مجبور  ہیں کہ مصنوعی ذہانت انسان کی ایسی ایجاد ہے جو اس کو کنٹرول ہی میں نہیں رہی ہے  اور آنے والے وقت میں یہ اے آئی ٹولز کیا رنگ دکھائیں گے، اپنی حدود سے کتنا تجاوز کریں گے،اس کا خود موجدین کو بھی  علم وتجربہ نہیں۔

آمدم  برسر مطلب۔ اب آئیے ،پیشۂ صحافت   اور صحاف (صحافی کی جمع )کی طرف ۔ اے آئی سے قبل ہمارے بہت سے صحاف کا’’ لنگ پردہ‘‘ ڈھکا ہوا  تھا۔وہ ایک دوسرے کے معاون ومددگار ہوتے تھے۔ مشکل پیش آتی تو خبریں پول کرلیتے۔اس کو سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ خبرنگاری کی سانجھ کاری کرلیتے تھے۔ ایک صحافی خود خبرلکھنے کے بجائے  اپنے ہم پیشہ  سےخبر کی بُوٹی لیتا اور اس   سے   کام چلا لیتا تھا۔ اے آئی کا دور دورہ ہوا  تو سب کچھ  بدل گیا۔ اب رپورٹر کو سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ سے کوئی خبر ملتی ہے تو اس کا اے آئی کے کسی ٹول کی مدد سے ترجمہ کرتا ہے ،اس کو ایڈٹ یا زبان کی نوک پلک سنوارے اور خبر کے چھہ بنیادی لوازم (پانچ ڈبلیو، ایک ایچ،اردو میں پانچ کاف)  کی جانچ کے بغیر ہی نشرواشاعت کے لیے  اپنے ادارے کو بھیج دیتا ہے۔مثلاً اب عدالت میں مقدمات کی سماعت کی خبر کچھ یوں ہوتی ہے:

عدالت نے مدعی نمبر پانچ کا کیس سنا اور مزید سماعت کے لیے اس کی فلاں تاریخ مقرر کی ہے۔

جواب دہندہ چار نے اپنا جواب داخل کیا اور مقدمے کی سماعت ملتوی ہوگئی۔وغیرہ ۔مدعی نمبر پانچ یا جواب دہندہ چار کیا ہوئے۔یہ اخبار یا ٹی وی چینل جانے اور ان کے قارئین اور ناظرین۔

زیادہ پرانی بات نہیں۔ایک رپورٹر مسلح افواج کو ’’ورزشیں ‘‘کروانے کے شوق میں اپنی نوکری گنوا بیٹھا۔ ہوا یوں کہ پاک فضائیہ کی مشقوں کی  انگریزی زبان میں خبر تھی۔فوجی مشق کے لیے انگریزی اصطلاح ’’ایکسرسائز ‘‘ استعمال ہوتی ہے۔اب اس لفظ کا  ایک اور ترجمہ (معنی)   ورزش یا کسرت بھی ہے۔ ان رپورٹر صاحب نے شاید پریس ریلیز کا گوگل کی مدد ترجمہ کیا تھا اور اس نے جیسی تیسی اردو عبارت لکھی ،اس کو اسی طرح آگے چلا دیا۔ ڈیسک پر  بیٹھے کسی سب ایڈیٹر یا کاپی ایڈیٹر نے بھی اس کی اصلاح کی کوشش نہیں کی۔ جب خبر چھپ گئی تو ادارے نے  اس رپورٹر کو باقی زندگی کے لیے  کسرت پر   بھیج دیا۔  

خبروں کا ایسا مضحکہ خیز  ترجمہ زیادہ تر وٹس ایپ پر میٹا اے آئی کی مدد سے کیا جاتا ہے اور وٹس ایپ ہی کے ذریعے آگے ادارے  میں متعلقہ اسائنمنٹ  ایڈیٹر یا مدیر کو بھیج دیا جاتا ہے۔اس وقت وٹس ایپ اور اس  پر میٹا کا اے آئی ٹول صحافیوں اور طلبہ کی مدد میں پیش پیش ہے کیونکہ وہاں سے سہل انگاروں کو  مواد کاپی پیسٹ کرنے کی بھی نوبت نہیں آتی اورایک انگشت کی حرکت سے  بس وہیں سے آگے چلا دیتے ہیں۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template