منطق اور ترقیِ علوم
تمام علوم اور سائنسی ترقی زیادہ تر منطق استخراجیہ کی مرہونِ منت ہے۔سائنس اور تحقیق کے پانچ اساسی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ تحقیقی عمل زینہ در زینہ آگے بڑھتاہے۔اگر ایک زینہ نکال دیں تو سائنسی یا سماجی علوم کی ترقی کا عمل رُک کررہ جائے گا۔ بہ الفاظ دیگر تحقیق خلا میں نہیں ہوسکتی اورسابقہ علمی ترقی کو لے کرہی محققین آگے بڑھتے ہیں یا بڑھ سکتے ہیں۔یوں، علمی ترقی کے لیے منطق استخراجیہ اور استقرائیہ دونوں ناگزیر ہیں۔تحقیق کے پہلے باب میں یہی سبق پڑھایا جاتا ہے مگرہمارا المیہ ملاحظہ ہو، بڑے بڑے نام تحقیق کے نصف اصول اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اورجو اصول یا ضابطہ ان کے موقف کی نفی کررہا ہو، اس کو نظراندازکردیتے ہیں۔
مقبول تحریریں
-
امتیازاحمدوریاہ ’’ غریب 50 ہزار کی گاڑی کرواکر آیا ،ایک لاکھ کا موبائل گنوا بیٹھا۔ کوئی خانیوال سے پانچ ہزار روپے لگا کر آیا،مگر کچھ ہاتھ نہ...
-
امتیازاحمد وریاہ کسی بھی زندہ زبان کی ساخت، الفاظ کی تشکیل اور لُغت ہمیشہ ایک سی نہیں رہتی۔ زبانیں وقت کے دھارے کے ساتھ چلتی ہیں۔وہ اپنے...
-
اعظم علی، سنگاپور بین الاقوامی کاروباری کمپنیوں کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ ملازمین کو فارغ کرنے یا ان کےاستعفے کی صور...
-
عثمان قاضی صاحبِ تحریر پیشے کے اعتبارسے انجینیر ہیں مگر ان کی علم و کتاب دوستی مسلم ہے۔مطالعے کے دھنی ہیں اور پیشہ ورانہ فرائض ک...
-
امتیازاحمد وریاہ سوشل میڈیا پر اس وقت حاضر سروس’’ چیٹ باٹس‘‘ بہت سرگرم ہیں ۔انھیں ہمیشہ سے نان ایشوز کو ایشوز بنانے کی ذمہ داری سو...
-
امتیازاحمدوریاہ پاکستان میں پیشہ ٔصحافت اور صحافیوں کو جن معاشی ، پیشہ ورانہ اور عملی مسائل کا آج سامنا ہے اور پیشہ صحافت کی ساکھ ...
-
نظیر اکبرآبادی ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی ابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئے منکر بھی آدمی ہوئے اور کُفر کے بھرے کیا کیا کرشمے...