📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

جمعہ، 14 فروری، 2025

ایلون مسک کے ناتجربہ کار 19 سالہ ’معاون ‘ کی امریکا کے حساس اداروں تک آزادانہ رسائی


 اعظم علی  ،سنگاپور

 ایلون مسک کے 19  سالہ نوجوان  معاون    کور اسٹائن کو امریکی محکمہ خارجہ   اور  محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی میں سینیر  مشیر  مقرر کیا گیا ہے۔وہ آن لائن   ’’بگ ‘‘ کے نام سے مشہور ہیں ۔ان کے تقرر سے   سفارتی حلقوں میں  ان کے ارب پتی باس (ایلون مسک) کو امریکا کے حساس سفارتی  امور  تک  رسائی  حاصل ہونے پر   تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔اس کے ساتھ  انھیں ڈیپارٹمنٹ آف گورنمٹ ایفی شینسی  (ڈاج)DOGE  اور Office of Personnel Management یعنی افرادی قوت کے معاملات کا جائزہ لینے  کی بھی ذمہ داری سونپی  گئی ہے ۔

کوراسٹائن     آن لائن  تیز  مزاج شخصیت  کا تاثر  رکھتے ہیں۔ان کی ناتجربہ کاری کے پیش نظر  انھیں   واشنگٹن کے حلقوں  میں   کڑی نظر   سے دیکھا جارہا ہے۔  انھوں  نے نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی  میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر ایلون مسک کے دماغ میں چپ لگانے کے اسٹارٹ اپ میں انٹرن شپ کی تھی  اور ان چھے ناتجربہ کاروں میں شامل  ہیں جنھیں مسک کے   ذریعے  امریکی اداروں تک  رسائی  حاصل ہوگئی ہے اور  انھیں  اب  لاکھوں امریکیوں کے مالی  اور  طبّی ڈیٹا تک  دسترس حاصل   ہے۔اس کے والد چارلس کوراسٹائن  کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ  ایسے کاروباری شخص ہیں جنھوں نے خسارے میں جانے والی  اسنیک کمپنی Lesser Evil خرید کر اسے منافع بخش بنایا لیکن  بعد میں ان پر اس کی مصنوعات کے بارے میں غلط و مبالغہ آمیز اشتہاری مہم  چلانے کا الزام عاید کیا گیا۔ بلومبرگ کے مطابق  کوراسٹائن    کو سائبر سکیورٹی  کی ایک کمپنی  نے  انٹرن شپ   کے دوران  میں  اپنے     راز  ایک مسابقتی کمپنی کو فراہم کر نے کے الزام میں بر خاست  کردیا تھا۔ ایک اہلکار نے کوراسٹائن کی کم عمری اور بلومبرگ کی اس  رپورٹ  کی روشنی میں تشویش کا اظہار کرتے ہو ئے کہا  کہ ’’ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے‘‘۔

اب  اسے  محکمہ  خارجہ کے بیورو برائے ڈپلومیٹک ٹیکنالوجی میں بہ طور سینیر مشیر  تعینات کردیا گیا ہے اور یہ   ہر قسم کے حساس   اور  دیگر ڈیٹا کا اہم مرکز ہے۔ وائرڈ Wired نیوز کے مطابق کوراسٹائن ٹیلی گرام  اور  دیگر آن لائن  پلیٹ فارمز کا مستقل صارف ہے  جہاں وہ  مبینہ طور پر سائبر حملوں میں مدد دینے والی تھرڈ پارٹی سروس کی مارکیٹ کرتا ہے۔ بعض اہلکاروں نے کوراسٹائن کو  بیورو برائے ڈپلومیٹک ٹیکنالوجی  میں ذمہ داریاں سونپنے  پر تشویش کا اظہار کیا  ہے۔ محکمہ خارجہ کے ایک  اہلکار کا کہنا ہے کہ، ان کا کردار ڈپلومیٹک ٹیکنالوجی کی حدتک محدود نہیں رہے گا۔اس قسم کی غیر معمولی تعیناتیاں ظاہر کررہی ہے کہ کس طرح ایلون مسک کے  DOGE نے اپنے  لوگوں کو  بیک وقت کئی اداروں میں  بٹھا دیا ہے۔  یہ نوجوان  اور  ناتجربہ کار افراد  اب تر عمومی چھان پھٹک  کے بغیر  حساس  حکومتی معاملات کی نگرانی کررہے ہیں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔

اس صورت حال سے امریکا کے  سفارتی حلقوں میں مسک کے  وفاقی  حکومت میں اثر و رسوخ  پر تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے  اور اب  اس کے  ردعمل  میں عدالتی کارروائیاں بھی شروع ہونے لگی ہیں ۔   صدر ڈونالڈ ٹرمپ  کے آنے کے بعد امریکی محکمے  یو ایس ڈیجیٹل سروس کا نام تبدیل کر کے DOGE یعنی ڈیپارٹمنٹ آف گورنمٹ ایفیشینسی رکھا  گیا ہے اور اس کو  ایلون مسک کے حوالے کیا گیا   ہے۔اس کا ہدف حکومتی اخراجات میں ایک کھرب ڈالر کی کٹوتی کرنا ہے۔ اس مقصد کےلیے مسک نے   ترجیحاً سافٹ وئیر انجینئروں کو بھرتی کیا ہے۔

ان میں سے ایک  پچیس سالہ مارکو ایلز میں محکمہ خزانہ میں  تعینات کیا گیا  لیکن گذشتہ ہفتے  امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایلز کی ایک  نسل پرستانہ پوسٹ کی نشاندہی کی جس  وجہ سے اسے  مجبوراً استعفا  دینا  پڑا۔ایلون مسک نے ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی حمایت سے عہد کیا کہ ایلز کو ہر صورت میں دوبارہ متعین کریں گے ۔ جب وہ  محکمہ خزانہ میں  DOGE کے نمائندے کے طور پر   گئے تو وہاں  ایلز کااسسٹنٹ ٹریژری سیکریٹری ٹام کروزسے جھگڑا ہوگیا کیونکہ  وہ  نہیں چاہتا تھا DOGE کی رسائی  محکمہ خزانہ کے  ادائی کے حساس  نظام تک ہو۔ ٹام کروز بھی سلیکون ویلی میں کام کرچُکا ہے۔ DOGE کے اہلکاروں کو Office of Personnel Management اور  جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن میں بھی متعیّن کیا گیا ہےکہ یہ دونوں ادارے ایلون مسک کے بنیادی ا ہداف  میں شامل  ہیں۔ان اہداف  کے تحت وہ وفاقی حکومت کے ملازمین   کی تعداد میں کمی، حکومت کی ملکیتی عمارتوں  و جائداد  کا جائزہ ، اور  ازکارِفتہ ٹیکنالوجی کی جگہ جدید ٹیکنالوجی  حاصل کریں گے ۔

وفاقی (ملازمین کی) ڈائریکٹری میں اکثر اوقات DOGE کے کارکنان کے ساتھ ایک نہیں بلکہ مختلف  سرکاری اداروں کے نام نظر آتے ہیں ، جس  وجہ سے ان کے کام  اور  ذمہ داریوں کی حقیقی  نوعیت کوسمجھنا مشکل ہے۔ایک ڈائریکٹری میں کوراسٹائن کا نام یو ایس ایجنسی   برائے بین الاقوامی ترقی  USAID (دنیا کا سب سے بڑا  امدادی ادارہ)  میں  آتا ہےجسے  مسک نے ختم کرنے کے عزم  کا اظہار کیا تھا۔    ٹرمپ انتظامیہ نے اس کے دس ہزار ملازمین کو کم کر کے قریباً 600 تک لانے کا منصوبہ بنایا ہے۔  یو ایس ایڈ میں  کوراسٹائن کی ذمہ داری   چیف انفارمیشن افسر کے  انتظامی  بیورو میں دکھائی گئی ۔ اس کے علاوہ  ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی اور FEMA (آفات  اور  ایمرجنسی کا وفاقی ادارہ جو DHS کا حصہ ہے) دونوں  میں    وہ سینیر مشیر کے عہدے  پر بھی  براجمان ہیں۔ البتہ  اب تک کوراسٹائن کی  محکمہ  خارجہ میں ذمہ داری غیر واضع ہے لیکن اہلکاروں نے  کہا کہ  ٹیکنالوجی بیورو میں تعیناتی  کا مطلب یہ ہے کہ وہ غیر مجاز طور پر  حسّاس خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں دیگر ممالک کے ساتھ معاملات اور بیرون ملک  ہونے والی سرگرمیوں کی اطلاعات   کے افشا ہونے کا اندیشہ  ہے۔اب ایلون مسک کی اثر ورسوخ پر  بھی سوالات اُٹھ رہے ہیں  کیونکہ ان  پر پہلے بھی دنیا بھر میں امریکی  ایجنٹوں کی حساس ترین معلومات لیک کرنے کا الزام لگ چُکا ہے ۔یہ واضح نہیں  کہ مسک یا ان کی  ٹیم کے  ارکان   کے  سکیورٹی بیک گراؤنڈ کی جانچ پرکھ   کی گئی تھی یا نہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ مسک کی ٹیم نے DOGE کے کارکنان کو آن لائن چیٹ گروپوں سے بھرتی کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا اصرار ہے کہ DOGE کے کارکنان وفاقی ملازمین ہیں  اور ان کے پاس مطلوبہ سکیورٹی کلئیرنس ہے اور وہ وفاقی قوانین کے مطابق کام کررہے ہیں ۔

کوراسٹائن کے علاوہ  ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس  کے سابق انٹرن 23 سالہ  لیوک فیریٹر  کا نام بھی وزارت خارجہ کی ڈائریکٹری میں  محکمے کے  بیورو آف  ڈپلومیٹک ٹیکنالوجی میں  درج ہے ۔ اب تک کوراسٹائن اور فیریٹر  سمیت  DOGE کے لیے کام کرنے پچیس سال سے کم عمر چھے   انجینئروں کی شناخت کی جاسکی ہے۔ ڈاج  کی ترجمان کیٹی ملّر اور وزارت خارجہ دونوں نے اس سلسلے میں سوالوں کے جواب نہیں  دیے۔ ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ’’  ان انجینئروں کے ٹیکنالوجی پر عبور اور قابلیت میں کوئی شک نہیں لیکن   ڈاج   کے لوگوں  کو مختصر عرصے میں اتنے زیادہ اختیارات دینا  تشویش ناک ہے۔ان کے  پس منظر میں ان کی سیاسی سوجھ بوجھ کی علامت نظر نہیں آتی ، بلکہ وہ  مشکل سوالات کے جواب تلاش کرنے  آئے ہیں، ان کے لیے  مشکل سے مشکل سوال ، ایک معما یا پہیلی ہوتی ہے، مجھے یقین ہے کہ  یہ بچپن سے مشکل سوالوں  اور  معموں کے ساتھ کھیلتے رہے تھے ۔۔ فرق اتنا ہے کہ اب انھیں   صدر  اور  ارب پتیوں کے ساتھ شانے سے شانہ ملانے کا موقع ملے اور یہ  ایک اضافی فائدہ ہے، لیکن  یہ دنیا کو انتہائی تنگ زاویے سے دیکھنا ہے  اور  موجودہ صورت حال  کے پورے معاشرے  اور  دنیا پر وسیع اثرات ہوں گے ،اس لیے اس کو  صرف انجنیئرنگ کے زاویے دیکھنا انتہائی غلط ہوگا‘‘۔

درحقیقت   مشاورت کے شعبے میں انتہائی ذہین نوجوانوں کو   ان کی  ٹیکنیکل  اور  ذہنی صلاحیتوں اور منطقی و غیر روایتی انداز فکر کی بدولت   پیچیدہ  معاملات  کے حل کے لیے  لایا جاتا ہے تاکہ وہ ان مسائل  کا  آؤٹ آف باکس  (غیر روایتی یا اچھوتا) حل تجویز کرسکیں ۔ یہ بھی درست ہے کہ کنسلٹنگ کے میدان میں اترنے کے خواہش مند نوجوانوں کی تیاری کا اہم حصہ ہی  ’’کیس اسٹڈی‘‘ ہے جس میں وہ مختلف اداروں کے مخصوص مسائل پر مبنی رپورٹ کا مطالعہ کرکے  ان کے منطقی حل تلاش کرنے کی کوشش کرنے کی مشق  کرتے ہیں۔اس لحاظ سے مشکل پہیلیوں کا حل تلاش کرنا ان کا شوق و مشق رہی ہے ۔اس شعبے میں کامیاب کنسلٹنٹس   عمر اور تجربے کے ساتھ یقیناً اچھے اور اہم اداروں میں کلیدی ذمہ داریوں پر پہنچتے ہیں  لیکن  امریکا کی موجودہ صورتحال میں یہ نوجوان  چاہے کتنے بھی ذہین ہوں،  بظاہر یہ اپنے کیرئیر کی ابتدائی سیڑھیوں پر ہیں اور  انھیں کوئی بھی عہدہ دیا جائے  ،درحقیقت یہ بطور جونیئر کنسلٹنٹ کے کام کررہے ہیں   جو اپنی رپورٹ اوپر کسی اور کو دیکر اس کی حسب ہدایت کام کررہے ہوں۔

دنیا کے کسی بھی ملک میں حساس مواد کی رسائی کو سختی کے ساتھ کنٹرول کیا جاتا ہے،  اس لیے جنھیں  اس  مواد تک رسائی ہوتی بھی ہے تو بھی انہیں بلا اجازت کسی کو دکھانے یا بتانے کی ممانعت ہوتی ہے۔ یہاں  بظاہر  جونئیر کنسلٹنٹ  کو جو حساس   ذمہ داریاں دی گئی ہیں، وہ اپنے تجربے و ایکسپوژر کے لحاظ سے اس کی قابلیت نہیں رکھتے ۔۔ اس لیے  یقیناً  یہ مواد اور ان کی رپورٹیں  شیئر کرنا اس کی مجبوری ہے ۔ قومی  و  بین الاقوامی  اہمیت کے اداروں میں ذمہ دار عہدوں پر  ناتجربہ کار افراد کی تعیناتی ضرررساں  ہوسکتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template