📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

ہفتہ، 15 اگست، 2026

ستارہ اور تمغاامتیاز پانے کے’سفارش یافتہ‘ پہلے اورآخری صحافی

 


امتیازاحمدوریاہ

 ہمارے دیرینہ دوست  ، خبریں اسکول  آف تھاٹ کے دنوں کے رفیق کار اور مشقتی شاہزادأنور فاروقی  بڑے کایاں صحافی ہیں۔لوگ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے ہیں مگر ہم  مشقتی صحافی   میڈیا اداروں کے گھاٹ گھاٹ کی ’’  بھوک‘‘ کاٹتے ہیں۔ان جدید ، چکا چوند’’خرکار کیمپوں‘‘  میں کئی کئی ماہ کی تن خواہوں سے  محروم  رہتے   ہیں تو اس پر صبرو شکر کرلیتے ہیں ، لیکن اصل المیہ تو اس وقت ہوتا ہے جب کبھی سرکار حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کو آتی ہے  تو اس کا ’عدلِ جہانگیری جدید‘ ہم سے سنبھلے نہیں سنبھلتا۔کیوں، اس کے سامنے  وہی سدابہار  چار پانچ چہرے ہوتے ہیں، مجال ہے اِدھر سے اُدھر نظر چلی جائے۔ چلیں  ، اگر کم ہیں  تو  اب دس ،بارہ کرلیں۔

سرکار ہرسال 14 اگست کو مختلف شعبہ ہائے زندگی   میں کارہائے نمایاں  انجام دینے والی شخصیات کو  تمغا امتیاز، تمغا  حسنِ کارکردگی ،نشانِ امتیاز وغیرہ   عطا کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ایسے خوش نصیبوں  کی ان کے پیشے کے حساب   سے کئی کئی خانوں  پر مبنی فہرستیں  جاری کی جاتی  ہیں جن  میں شامل  افراد میں  نصف تک تو  انیس بیس کے فرق سے  مستحق ہی ہوتے ہیں  مگر باقی  شامل باجا اور اربابِ اقتدار کے منظورِ نظر۔ان کے نام شامل  کرنے کے لیے تانگے کی سواریوں کی طرح ’کو چوانی ترکیب‘ لڑائی جاتی ہے اور  تانگے کا  ’’بھار یا وَتَربرابر‘‘ کرنے کے لیے ہما شما کو بھی اعزازت سے نواز دیا جاتا ہے۔ کوئی اس عمل  کو’’ اندھا بانٹے ریوڑیاں  ہر پھر کے اپنو ں ہی کو دے‘‘،کے مصداق قرار دیتا ہے تو کوئی تمغا ہائے چاپلوسی کہتا ہے۔اس  پر ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ کیسے کیسے ناہنجار اور بے ذوق لوگ  ہمارے یہاں رہتے ہیں۔انھیں کسی کی خوشی راس ہی نہیں آتی۔خوشی سے باچھیں کھلتی ہیں اور نہ دل میں لڈو پھوٹتے ہیں۔ عجیب بے حس لوگوں سے پالا پڑا ہے۔

اوہ ،یہ تو جملہ معترضہ تھا اور بات کہاں سے کہاں چلی گئی اور کسی کتاب کا دیباچہ ہوگیا۔خیر ،جناب  فاروقی نے  شکر الحمد للہ لکھ  کر اعزازات کے مستحق قرار دیے گئے صحافیوں کی فہرست ایک پوسٹ میں جاری کی۔ ’’کتاب چہرہ‘‘ کھولتے ہی سب سے پہلی نظر ان کی پوسٹ پر پڑی۔

شکرالحمدللہ ۔ پڑھ کر ایک دم  دل خوشی سے سرشار ہوگیا،آنکھیں چمک اٹھیں کہ چلو ہمارے ایک دیرینہ مستحق دوست کو حق ملا ، گویا حق  بہ حق  دار رسید ہوگیا کیونکہ ساتھ شکر سے توثیق  کی گئی تھی لیکن جب فہرست دیکھی تو اس میں ان کا تو سرے سے  نام ونشان تک نہیں تھا۔پھر ہم   نے ان کی  پوسٹ پر تبصرے میں کہا کہ آپ نے ہماری خوشیوں کا خون کیا ہے،اس لیے آپ پر  جرمانہ بنتا ہے۔ ہمارے ایک اور دیرینہ بزرگ دوست مشہور زمانہ بابا احمد لطیف نے لکھا ، ’’وہ تو تمغا نہ ملنے پر شکر ادا کررہے ہیں۔‘‘

ہم ٹھہرے،سدا کے بھولے بھالے ،سیدھے  سادے اور شہراقتدار میں پینڈو کے پینڈو، پھر ہم نے خوش نصیب صحافیانِ وطن کی فہرست ملاحظہ کی۔ہمارے ملک کے مشہور ومعروف صحافی جناب صالح ظافر کا نام  ستارہ ٔامتیاز پانے کے مستحق  سفارش کنندگان  میں سرفہرست تھا۔  ہمیں جھٹکا  لگا۔ یہ صالح  بھائی کے ساتھ زیادتی  نہیں ہوگئی۔انھیں توان کی  شاندارصحافتی خدمات کے صلے میں پاکستان کے   اعلیٰ ترین اعزاز ’’نشانِ حیدر‘‘  سے نوازا جانا چاہیے  ۔اس مقصد کے لیے اگر پارلیمان  سے ترمیم  وغیرہ کی ضرورت پیش آتی ہے تو حکومت کو  یہ بھی کرگزرنی چاہیے۔آخر ہماری حکومتیں 28،27 ترمیمیں تو  آئین میں کرچکی ہیں۔ایک اور سہی۔  صالح  بھائی کا فہرست میں پہلے نمبر پر نام لکھنے سے سارے دلدر دور تو نہیں ہوتے۔آخر ان ایسا آزمودہ کار ،سردوگرم چشیدہ مایہ ناز صحافی کہاں ملے گا۔اپنی ’حیاتِ صحافت‘ میں انھوں نے کئی وزراء اعظم اور صدور کے گھاٹوں کا پانی پی رکھا ہے۔پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) میں ان کے نا م کی گونج ہے۔حتیٰ کہ اس کے فیض یافتگان کی فہرست میں  شامل ان کا نام عدالتِ عظمیٰ تک پہنچا ہوا ہے۔

 آپ مذاق سمجھ رہے ہیں کیا؟ بھائی جان ،ہمارا آپ کا کوئی مذاق نہیں۔ آپ بھول چکے ہیں ، حافظہ ساتھ نہیں دے رہا تو ہمارا قصور؟تو جانیے، یہ صالح ظافر ہی ہیں  جن کی تفتیشی اور تحقیقاتی صحافت ہر حکومت کے جانے اور ہرنئی حکومت کے آنے کے  وقت  بروئے کارآتی ہے ۔وہ ایسے مواقع پر شاندار، جاندار  اور سدابہار زندہ کہانیاں سامنے لاتے ہیں۔ان کے  اندوختے میں ایسا ایسا  نادر ونایاب’’مال   ‘‘ ہے کہ کوئی دوسرا صحافی کیا جانتا ہوگا۔وہ جانے بھی کیونکر ، یہ مال تو صرف چند ایک خوش نصیبوں ہی کو ’’عطائے ماخذ‘‘ سے ملتا ہے۔وہ اپنی خبرنگاری میں ایسے  الفاظ ،تراکیب اور اصطلاحوں  کاچناؤ کرتے ہیں کہ صاحبِ اقتدار کوئی بھی ہو،اس سے ان کی ہجو اور مدح سرائی کی صفت پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔

جانتے ہو،یہ صالح ظافر ہی تھے ، جنھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ 12 اکتوبر 1999ء کو میاں نواز شریف کی دوسری حکومت ختم ہونے کے بعد وزیراعظم ہاؤس  کے کس بیڈ سے  کون سی  اور کتنی مقدار میں قوت  بخش حُبوب برآمد ہوئی تھیں۔ کس بستر پر کون سا رنگ چڑھا ہوا تھا۔ وغیرہ ۔اب بھی وہی ہمیں اندر کی خبر وں سے باخبر رکھتے ہیں۔ان ایسی صحافت کوئی مشقتی کہاں کرسکتا ہے۔وہ تو بے چارہ سیدھی سیدھی منشی گیری کرتا ہے۔

اب آپ کہیں گے ،  یہ لکھاری  بھی عجیب شخص ہے، ملک کے ایک ہی  ممتاز صحافی کا قصہ سنانے بیٹھ گیا اور باقی خوش نصیبوں کا کچھ نہیں بتا رہا۔ایک مرتبہ پھر فہرست پر نظر دوڑاتے ہیں ۔درمیان والے سارے نام چھوڑ دیتے ہیں کہ اہلِ وطن ان کے چہروں ، خامہ فرسائیوں اور گل افشانیِ گفتار سے آگاہ  ہیں۔ بالکل آخر میں ایک  نیا ، ناآشنا سا نام  نظر نواز ہوا۔تمغا امتیاز کے لیے سفارش کردہ  گیارھویں نمبر پر جناب تصور عرفات   کا اسم گرامی  موجودہے۔ہم نے اپنی بے خبری کو کوسنے دیے۔ بڑے میاں، تمھارے شہر میں اتنا بڑا صحافی  ’پروان ‘ چڑھ  گیا  ،صحافت (ابلاغِ عامہ) میں  تمغا امتیاز بھی آیندہ  23 مارچ 2027ء کو  اپنے  گلے میں سجانے کو ہے اور تمھیں اس کے بارے میں ککھ پتا ہی نہیں۔  اپنی بے خبری اور علمی  بے بضاعتی  پر کفِ افسوس مل ہی رہے تھے  اوراسی ادھیڑ بن میں تھے کہ یہ  عفیف کب شہراقتدار میں پیشہ صحافت میں وارد ہوئے ۔کس  میڈیا ادارے سے وابستہ ہیں۔ رپورٹر ہیں تو کون سی بیٹ کرتے ہیں۔سب ایڈیٹر، کاپی ایڈیٹر یا نیوز ایڈیٹر ہیں تو کس ادارے میں؟ کوئی اینکر شینکر ہیں تو کس ٹیلی ویژن چینل پر سرِ شام نمودار ہوتے ہیں  یا   اے بی سی تصدیق  شدہ  کسی روزنامہ ’’پھتو ٹائمز‘‘ کے ایڈیٹر ہیں جس کا  سال، چھماہی کے بعد دیدارِ عام ہوتا ہے، وہ بھی پی آئی ڈی  کی ویب گاہ پر اخبارات کی حاضری کی فہرست میں۔

وہ اس کو کیا کہتے ہیں ، فیڈ۔ اس   کوا سکرول ڈاؤن کیا تو پتا چلا ،حضرت تصور عرفات سرکاری ملازم ہوتے ہیں اور وایا بٹھنڈا پی ٹی وی پہنچے تھے۔ شاید وزیراطلاعات جناب عطاءاللہ تارڑ کے ساتھ قوم کو حکومت  کی سرگرمیوں کی اطلاعات بہم پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ہم نے دماغ پر تھوڑا اور  زور  ڈالا کہ انھیں پھر صحافیوں کے زمرے یا کوٹے میں کیوں تمغا امتیاز سے نوازا جارہا ہے۔اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آسکی ،شاید جن صحافیوں  کے کاغذات کا پلندا سرکار کو پہنچا ، وہ دس ہی تھے، باقی ناموں  پر غور کرنےکی ضرورت ہی  پیش نہیں آئی۔ورنہ انعامات واعزازات کے  مستحق صحافی  تو دسیوں ، بیسیوں  ہیں ۔ اس لیے سرکار نے سوچا لگے ہاتھوں اپنا بندہ  اسی فہرست میں  اڑس دیتے ہیں۔وہ بھی تو دوسرے  صحافیوں کی  طرح سرکاری مواد ہی کی تشہیر کرتا ہے۔اگر کوئی اعتراض کرتا ہے یا اعتراضات کی بھرمار ہوگئی  تو  کہیں  گے غلطی ہوگئی لیکن کون جیتا ہے، تیری زلف کے سر ہونے تک۔

اللہ اللہ ، خیر سلّا۔

لیکن  یہ کہہ کر بات ختم  نہیں ہوئی۔ صالح بھائی سے زیادتی پر ہمارا احتجاج برقرار ہے۔

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template