احسان
غنی
فرطِ جذبات سے سرشار پلکیں،
بھیگی ہچکی بندھی آہوں سسکیوں تڑپ اورغموں سے چور بوجھل دل بے قابو ہونے سے ضبط
کابندھن ٹوٹ گیا۔پہلے پہل ڈبڈبائی پھرتھرائی اورآنکھیں بھرآئیں۔آنکھوں میں تیرنے
والے اشک چھلکنے کے لیے بیتا ب،انسان کی بے اختیاری کاواضح ثبوت اشکوں کا
بحربیکراں،چشم تر،دیدہ پُرنم دلی،کیفیات کااظہار نمناک آنکھوں میں چھپے اشک
ہیں۔انسان کی قیمتی اورانمول متاع بے بہا آنسو، آنکھوں سے رواں ہونے سے دل کا بوجھ
ہلکا ہوجاتاہے۔بے بسی،مجبوری اورلاچاری کی کیفیت میں واحدسہارا اشک ہوتے ہیں۔شکستہ
دل والے آنسوؤں کی قدرومنزلت خوب جانتے ہیں۔دکھ، تکلیف،غم،رنج،راحت،خوشی اور
انبساط کے لمحات میں چشم تر ہونافطری عمل ہے۔پاکیزہ صاف وشفاف،کبھی کبھار نمکین
آنسوؤں کے نمک پارے بن جاتے ہیں۔مولاناروم کہتے ہیں : "آنسو تووہ خون ہے جسے
غم اور صدمے نے پانی بنادیا ہے"اشکوں کی دھند میں کچھ لوگ کمال ضبط کامظاہرہ
کرتے ہوئے بغیرآنسوؤں کے رولیتے ہیں۔کوئی عیاں اورکوئی نہاں اشک بہاتا ہے۔ایسے اشک
بہانے والوں کی آ ہ سے بچنا چاہیے۔اشکوں کی جھڑی دل کی تشنگی سیراب کردیتی ہے۔نالہ
نیم شبی اولیا ء اللہ اوردرویشوں کاشیوہ رہا ہے۔راہِ سلوک کی عبادت وریاضت،روح کی
طہارت ،کیف سرور، جذب ومستی میں ڈوب کر گریہ نیم شبی سے دعاؤں کی مقبولیت وجدان
میں القا ہونے سے چشم ِبصیرت عطاہوتی ہے۔تہی دامن،مفلوک الحال کے پاس اشک ہی تو
ہوتے ہیں جن سے وہ اپنی داستان غم بیان کرتا ہے۔ہجرووصل کے لمحات کا اکسیر نسخہ
آنسو ہیں۔محبت کے سوزونہاں میں ڈوبے اشک، بیتی یادوں کے ترجمان بن کر داستان بیان
کرتے ہیں۔تنہائی کا انس شبِ تاریک میں مچلتا شرر کی مانند حصول رحمت رب العالمین
کا ذریعہ ہے۔دیدہ پُرنم چھلکتے رقت طاری ہونے سے قدسی محوحیرت سے جلوہ قدرت
کانظارہ کر رہے ہوتے ہیں۔روح کی حقیقت اشکوں سے منکشف ہوتی ہے۔شبنم کے آنسو
مرجھائے ہوئے پھولوں کو پھر سے کھِلادیتی ہے۔قلب کی کچھ خاص کیفیات زبان بیان نہیں کرپاتی اور اشک ہی حالِ دل کا راز فاش کرتے ہیں۔ڈبڈ
بائی آنکھوں سے رواں آنسو سخت دل کوپگھلا دیتے ہیں۔سرمگیں آنکھوں سے آنسوٹپ ٹپ
گرتے ہیں توساون کی کالی گھٹاؤں کاسماں بندھ جانے سے دامن میں اشکوں کا ذخیرہ
ہوجاتا ہے۔وصل و فراق کے خوشگوار تلخ لمحات اشکوں سے محبت اورنفر ت کی داستانیں
رقم کرتے ہیں۔کچھ غم جو دل کو بے چین رکھتے ہیں۔ آنسوؤں کی صورت میں دل کی بھڑاس
نکلتی ہے۔اضطراب کے عالم میں گریہ زاری سے رواں اشک انتہائی قیمتی ہیں۔اشک اظہار
بندگی ہوتے ہیں۔اشکِ ندامت کے ساتھ بارگاہ ِرب العزت میں حاضری نصیب والے کوہی ملتی
ہے۔تنہائی کے لمحوں میں اشک بہانا چاہیے۔آنسوؤں سے انسان کا کیتھارسس (جذباتی نکاس) ہوتا ہے۔موتیوں سے زیادہ صاف اشک
رخساروں پرڈھلکے داستان غم بیان کررہے ہیں۔شب کے اُس پہرجب کوئی بھی آپ کے پاس نہ ہو،خلوت میں آنکھیں نمناک ہوجائیں تو یہ زندگی کاحاصل ہوتا ہے۔دل وجان سے چاہے جانے والا
جب رشتے ،ناتے ختم کر کے جفا کی راہ
لیتاہے تووفا کرنے والے کے پاس اشک فشانی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
اشک کمزوری کی علامت نہیں بلکہ یہ بہت
بڑی طاقت ہوتی ہے جوپتھردل کوبھی موم کردیتے ہیں۔آنسو صحت کے لیے بہت مفید ہوتے
ہیں ماہرین امراض چشم کے مطابق آنسوؤں کے ساتھ رونے کا عمل آنکھوں کے لیے موثر
تھراپی کادرجہ رکھتا ہے۔جس کی وجہ سے آنکھوں کی کارکردگی بہترہوتی ہے۔اشک بہانے کا
عمل انسان کے جذباتی زخموں کو مندمل کرنے میں مدددیتا ہے۔ایک تحقیقی رپورٹ کے
مطابق آنسوٹپکنے سے جلد کی حساسیت بڑھ جاتی ہے اورگہرے سانس لینے کاعمل تیز ہوجاتا
ہے جو صحت کے لیے اچھی علامت ہوتی ہے۔رونے کاعمل ہر فرد کے لیے تھراپی کی حیثیت
رکھتا ہے۔آنسو آنکھ کاعدسہ دھو کر شفاف منظر دیکھنے میں مددگار ہوتے ہیں
مٹی،گردوغبار صاف کرنے کے ساتھ آنکھوں کو نمی فراہم کرتے ہیں۔جس سے ہماری بینائی
میں بہتری پیداہوتی ہے۔بے قرار اوربے سکوں دل کی گریہ زاری سے نہ تھمنے والے آنسو
رحمت ابر بن کر صدف امید پراس طرح برستی ہے کہ گوہر مقصود برآمد ہوتا ہے۔آنکھوں
میں بحرِ بیکراں رکھتے ہوئے چپکے چپکے آنسو بہانا اورحسین یادوں میں کھوجانا زندگی
کا خوبصورت ترین لمحہ ہوتا ہے۔مشہور مزاحیہ اداکار چارلی چپلن نے کیا خوب بات کہی
کہ"مجھے بارش میں آنسو بہانا اچھا لگتا ہے کیونکہ بارش میں رونے سے کسی دوسرے
انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ آنکھوں سے ٹپکنے والے اشکوں کاسیلِ رواں ہے۔"شبنم
صبح کے قطروں کی طرح چھلکتے ڈھکتے رخساروں پر آنسوؤں سے آنچل کابھیگانا پھر اچانک
سے کوئی اشک شوئی کردے تو کیا کہنے۔ کبھی کبھارکسی کی سادگی پر آنکھ بھرآتی
ہے۔آنسو کوقطرہ سے قلزم بنتے دیرنہیں لگتی۔دل کی لگی آنسوؤں کے پانی کے بغیر نہیں
بجھ سکتی۔کسی کی جدائی میں بہائے جانے والے اشک حقیقی طورپر اثرپذیر ہو کر اپنا
جلوہ دکھاتے ہیں۔داغِ مفارقت دے جانے والے پیاروں کی جدائی میں اشک تھمنے کا نام
نہیں لیتے ایک کسک دل میں اُٹھتی ہے۔
’’ہرکجا آبِ رواں غنچہ بود
ہرکجا اشک
رواں رحمت بود‘‘
ترجمہ :جب آسمان سے پانی برستا ہے تو
زمین پر پھول اورغنچے کھلتے ہیں -جب آنسو جاری ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت
برستی ہے۔(مولانا روم)
اشکوں کی اہمیت کااندازہ سورۃ یوسف (آیت 86)سے بخوبی ہوتا ہے۔حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام بیٹے کی جدائی کے غم میں مبتلا خاموشی سے روتے رہتے کہ آنسو ختم ہوگئے اور آنکھیں سفید پڑگئیں، بینائی چلے گئی۔ انھوں نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا:’’ بے شک میں اپنا رنج وغم صرف اپنے اللہ پاک سے بیان کرتا ہوں۔وہ میری دلی کیفیات کو مجھ سے بہتر جانتا ہے وہی سکون دینے والا ہے۔وہ میرے بچے سے مجھے ملانے والا ہے‘‘۔اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب کی گریہ زاری کی بدولت بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام سے ملوادیا۔پدرانہ شفقت اورجوش محبت سے یہ معجزہ ہوا۔خزن وملال کی کیفیت میں مانگی جانے والی دُعائیں کبھی رد نہیں ہوتی ہیں کیونکہ اللہ رب العزت کی رحمتیں آنسوؤں میں رہتی ہیں۔شوق دید کو دل میں رکھ کر نگاہِ الفت سے نہاں خانہ جھوم جاتاہے۔خوف اورخشیتِ الٰہی سے رات کی تاریکی میں نمناک آنکھوں سے ٹپکنے والا بندہ مومن کے آنسو کا قطرہ اللہ تعالیٰ کوبے حد پسند ہے اوریہی لمحہ قرب ہے جب یزداں شہ رگ سے بھی قریب ہوتا ہے۔وجدانی کیفییت میں رازونیاز کالطف نرالا ہے۔دل کی نرمی،روح کی بالیدگی خوف خداکی واضح دلیل اشک ہیں۔روٹھنے والوں کو منانے کے لیے آنسو کارگر ثابت ہوتے ہیں۔آنسوؤں سے داغ دل دھل جاتے ہیں اس کے لیے اشک ندامت بہانا لازم ہے۔کوشش کرنی چاہیے کہ کسی کی چشم تر ہونے پراُس کی ڈھارس بندھائی جائے۔ہماری وجہ سے کسی کے اشک رواں ہونے سے تھم جائیں تو یہ بہت بڑی نیکی ہوگی۔ آنسو آپ کا بہت ہی قیمتی اثاثہ ہیں۔ کسی کو دکھ، درد،تکلیف میں مبتلاپاکر اس کے غم کومحسوس کرتے ہوئے آنکھوں سے چھلکنے والے اشکوں کو خاک بسر ہونے سے پہلے اپنے دامن میں سمو لیناچاہیے۔سکوتِ شب تنہائی میں اشک بہانے سے مرادیں برآتی ہیں۔خشوع وخضوع،سچے،پاک وشفاف،خشیتِ الہٰی سے لبریز متبرک اورقابل رشک،اشک محسن انسانیت ﷺکے تھے۔

بہت خوب کسی شخص کے درد کو سمجھنا اور پھر اس کے درد کا مداوا کرنا کسی بھی معاشرے اور کسی بھی ملک میں یہ ایک اچھا عمل ہے اور بطور مسلمان اللہ تعالی نے ہر مسلمان کے ذمے اس بات کو رکھا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی عزت کا عزت نفس کا خیال رکھے اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا نچوڑ بھی یہ ہے کہ دنیا کے لیے خیر خواہی کی جائے تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے کہ تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے کہ جو 200 کے لیے بہتر ہے دوسروں کے لیے نیکی کرنا اچھائی کرنا سہولت فراہم کرنا یہ عمل صالح ہے اور سر امتیاز نے جس خوب طریقے سے اس عبارت کو لکھا ہے وہ پڑھنے کے لائق ہے اور اس بات پہ ان کو مبارکباد بھی ہے کہ اس حساس موضوع پہ انہوں نے اپنا قلم اٹھایا ہے اور اج کل کے دور میں ایسے جذبات کی طرف لوگوں کی توجہ کو مرکوز کرنا اور ان کی اہمیت کو اجاگر کرنا ایک ایک نیکی سے کم نہیں ہے اور میری گزارش ہے کہ ہر امتیاز اس کو ائندہ دنوں میں بھی اس کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے رہیں گے جو انسانیت کے لیے اور ہمارے معاشرے کے لیے بالخصوص بہت مفید رہے گا اپ کا شکریہ سر
جواب دیںحذف کریںحافظ صاحب، یہ تحریر ہمارے عزیز دوست احسان غنی صاحب کی انشا پردازی کا شاہکار ہے۔
جواب دیںحذف کریں