📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

پیر، 31 اگست، 2026

’’کچھ دیکھا،کچھ سنا‘‘


امتیازاحمد وریاہ

پاکستان کی صنعتی ترقی میں ایک ادارے اور اس کے پہلے سربراہ کا بڑا ‏بنیادی کردار ہے،یہ ادارہ تھا: پاکستان صنعتی ترقیاتی کارپوریشن (پی آئی ڈی ‏سی) اور اس کے پہلے چئیرمین تھے ؛غلام فاروق خان ۔انھیں وزیرخزانہ ‏غلام محمد بھارت سے 1949میں اپنے ساتھ پاکستان لائے تھے۔تقسیم ہند کے وقت ‏‏1947ء میں وہ ایسٹ انڈیا ریلوے کے جنرل مینجر تھے۔غلام فاروق بہت ‏وژن والے تھے۔بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے انھیں ریلوے کا ‏چئیرمین بنانے کی پیش کش کی تھی مگر وہ اس کو ٹھکرا کر پاکستان آگئے ‏تھے۔انھوں نے 1958 تک مشرقی اور مغربی پاکستان میں بڑے بڑے ‏صنعتی کارخانے کھڑے کردیے تھے۔ اسی صنعتی سلطنت کے ثمرات جنرل ایوب ‏خان کے دور میں برآمد ہوئے اور ان کے دور کو صنعتی ترقی سے معنون کیا گیا ‏جبکہ بڑے کارخانے تو ان کے اقتدار پر قابض ہونے سے پہلے لگ چکے تھے ‏اور ملک بھر میں صنعتی زون قائم ہوچکے تھے۔

‏پاکستان میں ابتدائی برسوں میں صنعتی انقلاب کے بارے میں سابق ایڈیشنل سیکریٹری جناب محمد الیاس لودھی نے حال ‏ہی میں شائع شدہ اپنی خود نوشت ’’کچھ دیکھا،کچھ سنا‘‘میں تفصیل سے لکھا ‏ہے۔وہ ہمیں پُرعزم اور محبِّ وطن غلام فاروق ‏خان کے کارناموں سے تفصیل سے آگاہ کرتے ‏ہیں جن کی شخصیت سے ایک عام ‏قاری تو کیا، خاص لوگ بھی واقف نہیں ہوں گے۔ غلام فاروق خان کے زیرنگرانی  پی آئی ڈی سی نےپاکستان کے دونوں حصوں میں جو بڑے صنعتی کارخانے قائم کیے تھے، ان میں سے دس بارہ   کے نام یہ ہیں:‏

‏۱۔‏ داؤد خیل میں سیمنٹ فیکٹری ،کینیڈا کی مدد سے ایک کھاد فیکٹری ‏اور امریکا کی مدد سے پینسلین ‏فیکٹری کاقیام۔

‏۲۔حیدر آباد میں ذیل پاک سیمنٹ فیکٹری کی تکمیل۔

‏۳۔پنجاب میں ضلع گوجرانوالہ میں راہوالی کے مقام پر شوگر مل کا ‏قیام اور کاغذ کے کارخانے کا منصوبہ ۔

‏۴۔‏ ضلع میانوالی میں واقع مکڑوال کوئلہ کی کانوں سے کوئلہ نکالنے کا ‏منصوبہ ۔

‏۵۔بلوچستان میں ہرنائی ‏وولن ملز کا قیام۔1960ء میں اس مل کو ‏بند کردیا گیا تھا اور اس کی مشینری کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کردی گئی تھی۔‏

‏۶۔صوبہ سرحد میں بنوں شوگر ملز اوربنوں وولن ملز کے منصوبوں ‏کی تکمیل۔

‏۷۔‏ ضلع مردان میں چارسدہ شوگر ملز(چارسدہ بعد میں ضلع بنا)‏۔

‏۸۔کراچی اور چٹا گانگ میں شپ یارڈ کے منصوبوں پر کام کا آغاز۔‏

‏۹۔مغربی جرمنی کے تعاون سے ملتان میں اسٹیل ملز لگانے سے ‏متعلق رپورٹ کی تیاری اور

‏۱۰۔ مشرقی ‏پاکستان میں کرنافلی پیپر ملز کے منصوبے پر کا م کا آغاز۔‎

ایوب خان نے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد نجانے کیوں غلام فاروق خان ‏کو ان کے عہدے ہٹا کر دوسری ذمے داریاں سونپ دی تھیں۔ان کاآبائی تعلق ضلع نوشہرہ میں واقع گاؤں شیدو سے تھا۔الیاس لودھی صاحب نے شیدو کا بھی کتاب میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے۔وہاں خان صاحب سرامکس کی فیکٹری لگانا چاہتے تھے لیکن سرکاری زمین پر ایک معمولی سرکاری ملازم نے قبضہ کررکھا تھا اور بڑی مشکل سے اس سے اراضی واگزار کرائی گئی تھی۔پی آئی ڈی سی کے بعد غلام فاروق صاحب واپڈا کے پہلے چیئرمین بنائے گئے تھے اور انھوں نے واپڈا کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔صدر ایوب خان نے 1962ء میں انھیں مشرقی پاکستان کا چھٹا گورنر مقرر کیا تھا۔وہ 1964ء سے 1967ء تک وفاقی وزیر برائے تجارت، سائنس  اور ٹیکنالوجی رہے تھے۔نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے ٹکٹ پر 1970 میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور مغربی پاکستان ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بحال شدہ صوبہ سرحد میں قائم ہونے والی پہلی حکومت میں وزیرخزانہ بنے تھے۔ اس وقت تک ایک ایم این اے کے صوبائی وزیریا وزیراعلیٰ بننے پر کوئی آئینی قدغن عاید نہیں تھی۔وہ بعد میں نیپ کے ٹکٹ پر سینیٹر بھی منتخب ہوئے تھے۔

ایوب دور میں ایبڈو کے تحت ملک کے سرکردہ سیاست دانوں کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا اور سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی ‏کی گئی تھی۔ ظفرالحسن لاری ایسے محبِّ وطن اور ملک کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ ‏رکھنے والے افسروں کو جبری طورپر سبکدوش کردیا گیا، پی آئی اے ،تھل ‏ترقیاتی منصوبہ ،گلبرگ لاہور،یہ سب ان ہی کے ذہن رسا کے شاہکار ‏تھے۔مصنف لکھتے ہیں کہ ایوب خان بعد میں ان شخصیات کے خلاف اقدامات پر ‏افسوس کا اظہار کیا کرتے تھے۔

مگر افسوس تو ہمارے لکھاریوں پر بھی ہے۔وہ ان ناموں سے آگاہ ‏ہیں اور نہ کتب میں ان کا تفصیل سے تذکرہ ملتا ہے۔بس روایتی مکھی پر مکھی مار ‏قسم کی تحریریں انٹرنیٹ کے طفیل سامنے آجاتی ہیں۔ پھر،یہ بھی جانیے ‏غلام فاروق خان کو بھرپور خراج عقیدت کیوں پیش نہیں کیا جاتا؟ وہ ‏ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد نیپ ( بعد میں  اے این پی) میں شامل ہوگئے تھے۔

صاحب سوانح الیاس لودھی صاحب خطیب ہزارہ حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب ‏کے فرزند ارجمند تھے۔مولانا ‏صاحب فاضل دارالعلوم دیوبند تھے اور انھیں حضرت شیخ الہند محمود حسن کا شاگرد ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔وہ   آل انڈیا مسلم لیگ کے ہزارہ میں ‏سرکردہ رہ نما اور تحریک پاکستان کے مخلص کارکن تھے۔الیاس ‏صاحب نے اپنے والدگرامی کی دینی ، ملی اور سیاسی خدمات کا بڑے دل نشین انداز میں ذکر کیا ہے۔وہ اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ جب انھوں نے ‏شعور کی آنکھ کھولی تو تحریکِ آزادی  اپنے عروج پر تھی اور وہ نوعمری ہی میں ‏اس کے کارکن بن گئے۔ان کے ‏اسکولی زمانے میں پاکستان معرض وجود میں ‏آیا تھا۔انھوں نے سات آٹھ سال کے بعد 1954ء میں بی اے اور ایل ایل بی ‏کے بعد سرکاری ملازمت ‏اختیار کرلی۔ان کی ملازمت کا دوسرا پڑاؤ پاکستان ‏صنعتی ترقیاتی کارپوریشن ہی تھی۔ انھوں نے پاکستان کے دونوں حصوں میں ‏صنعتی کارخانے لگتے دیکھےہی نہیں بلکہ صنعتی ترقی کے عمل کے عینی ‏شاہد اور فعال کردار ‏بھی تھے۔لودھی صاحب اس ‏‏ادارے میں کوئی بیس سال گزارنے کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ‏دور میں 1974ء میں ’’لیٹرل انٹری‘‘ کے انتظام کے تحت وفاقی ملازمت میں آگئے اورجائنٹ سیکریٹری سےترقی کرتے ‏ہوئےایڈیشنل سیکریٹری کے ‏منصب تک پہنچے۔ریٹائرمنٹ  سے چندے قبل انھیں وفاقی سروس ٹریبیونل کا ممبر مقرر کیا گیا تھا اور وہ اسی حیثیت  میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش  ہوئے تھے۔اپنی زندگی کے مہ وسال میں انھوں نے ’’‏کیا دیکھا اور کیا سنا‘‘،اس کو کتاب میں بلا کم وکاست بیان کردیا ‏ہے۔وہ کراچی ، ‏حیدرآباد ، ٹنڈو محمد خان اور لاڑکانہ میں بہ سلسلہ ملازمت مقیم رہے تھے۔وہ ‏ہمیں بالخصوص لاڑکانہ کے مقامی مگر ملکی سطح کی قدآور سیاسی‏شخصیات کے بعض خفیہ گوشوں سے بھی متعارف کرواتے ہیں۔مثلاً بھٹو صاحب ‏نے ایوب دور میں انتخابات میں تعاو ن نہ کرنے پر ایک ڈپٹی کمشنر کا راتوں ‏رات تبادلہ کروا دیا تھا۔وہ صوبہ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ قاضی فضل اللہ کی ‏امانت ودیانت کا بتاتے ہیں جن کا اپنا کوئی ذاتی مکان نہیں تھا اور وہ ایک دوست کے ہاں انھوں نے زندگی بِتا دی تھی۔

اس کتاب میں بعض شخصیات کے احوال کے ضمن میں ایک دوسرا ‏رُخ بھی سامنے آتا ہے۔انھوں نے اسکندرمرزا کے ڈپٹی کمشنر سے صدر ‏مملکت بننے تک حالات تفصیل سے بیان کیے ہیں ‏اور ان کی شخصیت کے بہت ‏سے مثبت پہلو اجاگر کیے ہیں۔ وہ انھیں اکتوبر 1958؁ کے مارشل لا کا تنہا ‏ذمے دار ‏نہیں گردانتے بلکہ جنرل ایوب خان کو ذمے دار قرار دیتے ہیں۔ان ‏کے ساتھ امریکی اور برطانوی سفیر بھی صدر کو ہٹانے میں شریکِ ‏سازش ‏رہے تھے۔ نیز اسکندر مرزا نے پختونستان کے پروپیگنڈے کے توڑ میں اہم ‏کردار ادا کیا تھا۔ان کے بہ قول انھوں نے کوئی مالی بدعنوانی نہیں کی تھی ۔

‏اس کتاب میں سنجیدہ موضوعات کے علاوہ جگہ جگہ شگفتہ ‏واقعات ‏بھی بیان ہوئے ہیں۔ مثلاً جوش ملیح آبادی صاحب کا دل چسپ پیرائے میں ‏ذکر ہے اور صوفی غلام ‏مصطفیٰ تبسم کے ساتھ ٹرین کے ایک ڈبے میں اچانک ‏لاہور سے سکھر تک اکٹھے سفر کا احوال بھی ہے جس میں وہ مصنف اور دیگر ‏ہم سفروں کو ملکہ ترنم ‏نورجہاں کے مزے مزے کے قصے سناتے رہے تھے۔صوفی صاحب کے بہ ‏قول نورجہاں اپنے دوسرے خاوند اعجازدرانی کو منانے کے لیے اپنے بالوں سے ان کے ‏بوٹ صاف اور پالش کیا کرتی تھیں۔

لودھی صاحب پاکستان کی افسرشاہی کی روایتی چکربازیوں،ریشہ ‏دوانیوں اور امریکا کی پاکستان میں مداخلت کے بہت سے واقعات سے بھی ‏قارئین کو روشناس کراتے ہیں اور ماضی قریب   کے بعض معروف  سیاسی اور انتظامی کرداروں ‏مثلاً  ڈاکٹر خان صاحب ، خان عبدالقیوم خان ، عاصمہ جہانگیر،سلمان فاروقی، عبدالرزاق تھہیم اور یو اے عیسانی  وغیرہ کے بعض خفیہ گوشوں کو ‏سامنے لاتے ہیں۔

‎647 ‎صفحات کو محیط یہ کتاب سنگی پبلشنگ ہاؤس اسلام آباد نے ‏شائع کی ہے۔کتاب کے حصول کے لیے اس نمبر ‏پرزاہد کاظمی صاحب  سے  رابطہ کیا جاسکتا ہے:03345958597 

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template