امتیاز احمد وریاہ
بھارت کے ساتھ پاکستان کی واضح برتری پر منتج ہونے والے حالیہ ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے پربرّی جنگ کے دوران میں مرکزی دھارے کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر کئی ایک ایسی تحاریر سامنے آئی ہیں ،جن سے یہ اندازہ ہوا کہ بہت سے نامی لکھاریوں کو ورکنگ باؤنڈری اور بین الاقوامی سرحد کے درمیان فرق ہی معلوم نہیں اور بعض لکھا ری تو لاشعوری طور پر بھارتی موقف کی بہ انداز دیگر حمایت کرتے نظر آئے۔اطلاعاتی ٹیکنالوجی میں روز افزوں ترقی کی بدولت ابلاغِ عامہ میں بھی انقلاب برپا ہوچکا ہے اور صحافیوں کا کام آسان ہوچکا ہے۔ بعض صحافیوں کو لکھی لکھائی خبریں مل جاتی ہیں ۔ وہ انھیں کسی سکتے، کامے اور زنجیرے کو ادھر ادھر کیے بغیرہی سوشل میڈیا پر آگے چلا جاتے ہیں۔چار ،پانچ صاحبان نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایسی ہی ایک اطلاع شیئر کی اور ورکنگ باؤنڈری کو کھینچ کر ضلع شیخوپورہ کے سرحدی علاقے تک لے گئے۔اس سے لگ رہا تھا کہ لکھنے اور شیئر کرنے والوں، دونوں کو معلوم نہیں کہ ورکنگ باؤنڈری کہاں سے شروع ہوتی اور کہاں ختم ہوتی ہے۔ نیز اس کی کیا دفاعی اور قانونی حیثیت ہے۔بعض تو ’’بھارت کے ساتھ ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی‘‘ ، ایسے الفاظ بھی استعمال کردیتے ہیں۔گذشتہ دو ہفتے کے دوران میں پاکستان اور بھارت کی مسلح أفواج کے درمیان جھڑپوں میں ورکنگ باؤنڈری ،بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن ایک مرتبہ پھر ملکی اور بین الاقوامی خبروں کا بڑا موضوع رہے ہیں اور اب تک ہیں ۔
اب ان بزعم خویش
سوشل انفلوئنسروں ، رپورٹروں اور
ایڈیٹروں کو کوئی جا کر بتائے کہ پاکستان کی بھارت کے ساتھ کوئی ورکنگ باؤنڈری
نہیں بلکہ بین الاقوامی سرحد ہے۔ ورکنگ
باؤنڈری بھارت کے زیرقبضہ متنازع ریاست
جموں وکشمیر کے ساتھ واقع ہے۔دو ممالک کے درمیان اتفاق رائے سے طے شدہ
سرحدی لکیر عالمی قانون کے تحت بین الاقوامی سرحد کہلاتی ہے۔پاکستان اور بھارت کے
درمیان ضلع نارووال سے سندھ تک بین الاقوامی سرحد ہے۔یہ قریباً اٹھارہ سو میل طویل
سرحد ہے۔اس میں صرف سرکریک کا تھوڑا سا متنازع علاقہ ہے اور اس تھوڑے سے علاقے کی حدود کی نشان دہی پر دونوں
ملکوں میں اختلاف
پایاجاتا ہے۔
ورکنگ باؤنڈری
اس کے برعکس پاکستان کے ضلع گجرات میں
چھمب جوڑیاں سے لے کر ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں واقع قصبے
بڑا بھائی مسرور تک کی پٹی کے اُس
جانب مقبوضہ جموں (وکشمیر) کا متنازع علاقہ
ہے۔اِدھر پاکستان کا مذکورہ
بالا طے شدہ علاقہ ہے اور اس میں کسی قسم
کا تنازع نہیں ہے۔ کسی ایک ملک کے طے شدہ علاقے اوراس کے ساتھ واقع کسی دوسرے ملک کے زیر قبضہ متنازع علاقے کے درمیان ورکنگ باؤنڈری ہوتی
ہے۔یعنی اس کے دوسری جانب بھارت کے زیرقبضہ یا
زیرانتظام جموں وکشمیر کا متنازع
علاقہ ہے۔بھارت اس کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے
جبکہ پاکستان اس کو متنازع قرار دیتا ہے
اور اس کا موقف ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر
کا تنازع اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں طے کیا
جائے اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق خودارادیت دیا جائے۔ورکنگ باؤنڈری کی
لمبائی 193 کلومیٹر ہے لیکن ایک سیکشن سے
اس کی لمبائی بارہ کلومیٹر زیادہ بیان کی جاتی ہے اور یوں اس کی کل لمبائی 205 کلومیٹر بن جاتی ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران میں بھارت نے ورکنگ باؤنڈری کو بھی بین الاقوامی
سرحد قرار دینا شروع کردیا ہے اور اس نے مقبوضہ جموں میں آبادی کے تناسب کو تبدیل
کرنے کے لیے ہندوؤں کو بھارت کے دوسرے علاقوں سے لاکر بسانا شروع کردیا ہے۔بھارتی
صحافی بھی بھارتی حکومت کے غلط موقف کی جگالی کرتے ہوئے ورکنگ باؤنڈری کو بین
الاقوامی سرحد لکھ رہے ہیں اور پاکستان کے صحافتی حلقوں کی جانب سے اس
کا کوئی مسکت جواب دیکھنے کو نہیں ملا۔
اب آگے آئیں۔بھمبر،گجرات سے لے کر گلگت
،بلتستان (شمالی علاقہ جات) تک پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اوردوسری
جانب بھارت کے زیرانتظام مقبوضہ جموں و کشمیر کے
درمیان حد متارکہ جنگ (لائن آف کنٹرول ) واقع ہے۔اس سرحدی لکیر پر دونوں ملکوں کے
درمیان 1949ء میں اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی ہوئی تھی۔تب یہ سیز فائرلائن
کہلاتی تھی،بعد میں 1972ء میں شملہ سمجھوتے کے وقت اس کو لائن آف کنٹرول کا نام
دیا گیا تھا۔اس کی لمبائی 740 کلومیٹر سے 776 کلومیٹر کے درمیان ہے۔
پاکستان اور بھارت نے 1948-49ء میں ریاست جموں وکشمیر کے اپنی اپنی فوجوں کے زیر قبضہ علاقوں پر حکومتیں
قائم کر لی تھیں مگر آزاد اور مقبوضہ جموں
وکشمیر کے علاقے بین الاقوامی قراردادوں
کے تحت ابھی تک متنازع ہیں اور ان کا کوئی
حتمی تصفیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نہیں ہوا ہے مگر بھارت ریاست مقبوضہ جموں
و کشمیر کو اپنے آئین کے تحت اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔وہ اس کو متنازع تسلیم
نہیں کرتا ہے اور اگست 2019ء میں اس نے مقبوضہ
جموں وکشمیر کو آئین کی دفعہ 370 کے تحت دی گئی
خصوصی حیثیت بھی
ختم کردی تھی ۔اس کے بعد بھارتی
شہریوں کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں لابسانے کے لیے اقدامات شروع کیے گئے اور اب قابض بھارتی حکام بہ زور کشمیریوں کو ان کی آبائی جائیدادوں سے
بے دخل کررہے ہیں اور ان کی جگہ ہندوؤں کو بسا رہے ہیں۔
اس تحریر کا مقصد اس امر کی جانب توجہ
مبذول کرانا ہے کہ بعض صحافی حضرات اور صحافتی ادارے شعوری یا لاشعوری طور پر اپنی
خبروں میں بھارتی مؤقف کی ترجمانی کرتے نظر آرہے ہیں۔خبر لکھتے وقت ہمارے اکثر
صحافی ورکنگ باؤنڈری اور بین الاقوامی سرحد کے درمیان کوئی فرق ملحوظ نہیں رکھتے
ہیں۔اب ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ واقع سیکٹروں کے نام بھی نوٹ فرمالیں : بجوات،ہرپال
،چارواہ ،چوبارہ ،پھوکلیان،چپراڑ اور سچیت گڑھ ۔یہ تمام علاقے سیال کوٹ شہر سے
شمال یا شمال مشرق میں واقع ہیں۔ ماضی
قریب میں ایک چینل کے عملہ کو ''پھوکلیان'' لکھتے ہوئے
جان کنی کے عالم سے گزرنا پڑا تھا اور سچیت گڑھ کو سچیٹ گڑھ لکھا جارہا ہے۔
دلچسپ تقسیم :
1947ء میں پہلی کشمیر جنگ اور بٹوارے کے بعد ورکنگ باؤنڈری کے اس جانب واقع بجوات کے علاقے میں ایک مقام پر سرحدی لکیر اس
انداز میں کھینچی گئی تھی کہ پورا گھر تو پاکستانی علاقے یعنی ضلع سیال کوٹ کی حدود میں واقع
تھا لیکن بیٹھک یعنی ڈرائنگ روم کا دروازہ مقبوضہ جموں کی جانب کھلتا تھا۔اسی طرح
ایک مقام پر کنواں ( چاہ، کھوہ) پاکستانی علاقے میں تھا مگر بیل جب چکر کاٹتے تھے
تو وہ ورکنگ باؤنڈری کے اس پارسے بھی ہو آتے تھے کیونکہ کنویں کا پھیر آدھا
پاکستانی علاقے میں تھا اور آدھا مقبوضہ جموں کے علاقے میں ،مگر کنواں پاکستانی کسان کا
تھا۔ کنویں کے لوہے کی ٹنڈوں والے ڈھول
اور اس کی لوہے کی چرکھڑی(چرخی) اور لٹھ کے درمیان چند فٹ کا فاصلہ ہوتا تھا۔اس کے
ساتھ شہتیر نما لمبی لکڑ لگائی جاتی تھی جس کے آگے بیلوں کی جوڑی کو جوتتے
تھے۔ایسا ہی ایک کنواں راجستھان اور چولستان کے درمیان سرحد پر بھی تھا،وہ چند سال
پہلے تک تو موجود تھے،اب کا پتا نہیں۔اس کنویں کے مشقتی بیل بھی بغیر کسی ویزے کے
بھارت کے سرحدی علاقے سے ہو آتے تھے۔تب بھلے زمانے تھے۔اگر آج کے دور میں ہوتے تو
جاسوسی کے الزام میں اس معصوم کبوتر کی طرح دھر لیے جاتے جسے بھارتی حکام نے چند
سال قبل باقاعدہ طور پر حراست میں لے لیا
تھا اور اس کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے طبی ٹیسٹوں کے مرحلے سے گزرنا پڑا
تھا۔
کھوہ کی بات چلی ہے تو پنجابی کے دو
اکھان قارئین کی نذر ہیں:
''آویں ساڈے کھوہ تے گلاں کریں مُنھ
تے'' اور''واہندیاں دے کھوہ ،ملدیاں دے ساک''۔
اب وہ کھوہ رہے اور نہ وہ ساک (رشتے
دار)۔مُنھ پر باتیں کرنے والے بھی نہیں رہے۔سوشل میڈیا پر اب بیرون ملک بیٹھ کر
پاکستانی ہی ریاست پاکستان کے خلاف
اپنی منافقتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ان میں جائیداد ہتھیانے کے لیے اپنے مرے
باپ کا کاغذوں پر انگوٹھا
لگوانے والا ’’چھاتا بردار‘‘ صحافی پیش پیش ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں