اعظم علی ، سنگاپور
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے
کہ ڈیپ سیک نے بظاہر یہ کارنامہ اوپن سورس سے
پیدا ہونے والے اے آئی کو اور اپنے LLM کو سکھانے کے لیے استعمال کیا۔ ڈیپ سیک
نے مصنوعی ذہانت کے ’’فائن
ٹیوننگ ‘‘ نام کے ایک عمل کا چیٹ جی پی ٹی ہی کے موجودہ اوپن سورس ماڈل سے تجربہ حاصل کیا ہے۔اس کے ردعمل میں اوپن اے آئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم اس بات
سے آگاہ ہیں اور اس کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ڈیپ سیک نے نامناسب
طور پر ہمارے ماڈلز (چوری کرکے)استعمال کیے ہیں، ہم اپنی ٹیکنالوجی کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کریں گے‘‘۔ڈیپ
سیک نے ایک پری ٹرینڈ ماڈل اپنی ضرورت کے مطابق تیار کرلیا ہے۔ وہ بھی انتہائی کم لاگت سے۔ اس کی لاگت کا تخمینہ قریباً 60 لاکھ
ڈالر بتایا گیا ہے۔ اوپن اے آئی اور دیگرنے
اپنے مشین لرننگ ماڈلز کے سیکھنے میں جو وقت صرف کیا ،ان کے مقابلے میں
ڈیپ سیک نے یہی کام انتہائی سرعت سے کیا ہے۔
ڈیپ سیک کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنا اے آئی
ماڈل این ویڈیا کی تیار کردہ
مصنوعی ذہانت کی اعلیٰ ترین چپ کے بغیر بنایا ہے ۔ جب کہ فی الوقت ٹیکنالوجی کی دنیا میں اے آئی
کے کسی بھی سسٹم کے لیےاین ویڈیا کی چپ کا کوئی متبادل نہیں ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کے بغیر اے آئی کا کوئی
سیکھنے والا ماڈل بن ہی نہیں سکتا۔یہی
وجہ تھی کہ اس اعلان کے جھٹکے سے این
ویڈیا کی مصنوعی ذہانت کی
ٹیکنالوجی میں اجارہ داری کے خاتمے کا امکان پیدا ہوگیا اور نیویارک کی شیئر مارکیٹ میں اس کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو گذشتہ جنوری میں اس کمپنی کے حصص پچاس ڈالر کے قریب
تھے اور ڈیپ سیک کی دھماکے دار انٹری سے ایک دن قبل 148 ڈالر پر تھے۔ ڈیپ سیک کے اعلان کے بعد 118 پر بند ہوئے اور 120/125 کے درمیان مستحکم ہو گئے۔اگر واقعی چین این ویڈیا کی چپ کے بغیر اے آئی سسٹم چلانے کے قابل ہو گیا
تب بھی اس کمپنی کی اجارہ داری ختم ہونے سے منافع میں کمی تو ضرور
ہو گی اور شیئر کی قیمتوں میں کمی کے امکانات رہیں گے لیکن کمپنی کی ساکھ اور بنیاد پھر بھی مضبوط ہے اور
کم سے مستقبل قریب میں اسے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔
بین الاقوامی سیاست پر
دور رس اثرات
ڈیپ سیک کی آمد کے بین الاقوامی سیاست کے دو محاذوں پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
:
پہلا :- ڈیپ سیک نے مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر (چپ) کے باہمی ربط کو دنیا کی توجہ
کا مرکز بنادیا ہے۔ اصول تو یہی ہے کہ جس کے
پاس دنیا کے جدید ترین سیمی کنڈکٹر (چپ) ہیں
وہ اے آئی کی دوڑ بھی کنٹرول کرے گا۔ سیمی کنڈکٹر چپ تمام جدید
ایجادات کی بنیادی ٹیکنالوجی ہےلیکن اگر مصنوعی
ذہانت کے اس ماڈل اور سیمی کنڈکٹر (چپ) کے اوپن سورس اور ہر
خاص و عام کے لیے دستیاب ٹیکنالوجی کے ذریعے
،مگر مہنگی اور جدید ترین چپ کے بغیر کام چلایا جاسکتا ہے تو پھر یہ شعبہ پوری دنیا کے لیے کھیل کا مساوی میدان بن جائے گا۔
دوسرا:- اگر یہ واقعی سچ ہے ( مگراس پر شبہات ہیں) تو اس کے نتیجے میں امریکا
کے ہاتھ سے دیگر ممالک و حکومتوں کو دباؤ
میں رکھنے کے لیے کم از کم مصنوعی ذہانت کی حدتک ، ایکسپورٹ کنٹرول،ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دیگر پابندیوں کا ہتھیار چھِن جائے گا۔بالخصوص اس سے امریکا ، چین کی چِپ وار کی حرکیات تبدیل ہو
جائیں گی۔
ڈیپ سیک کے کارنامے کو
ٹیکنو - قوم پرستی کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔اس تصور کے مطابق کسی ملک کی سالمیت ، سماجی استحکام اور معاشی طاقت
کا منبع قومی اداروں (سرکاری یا نجی) کی ٹیکنالوجی میں مہارت پر منحصر ہے۔چناں چہ اس وقت امریکا اور چین دونوں طاقت کو تیزی سے مہمیز کرنے والی صنعتوں (ایڈوانس مینوفیکچرنگ سے کوانٹم
سائنس (فزکس) تک) کے شعبوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے سرد جنگ میں مصروف ہیں ۔اگر اسے ٹیکنو - قوم پرستی کے تناظر میں دیکھا جائے تو لگتا
ہے کہ ڈیپ سیک بین الاقوامی تعلقات میں حقیقی
وزن کے ساتھ چین کے نئے سال ( 28 جنوری کو آغاز) کا شاندار تحفہ ہے۔
کیا امریکا کے ہاتھ
میں کچھ نہیں بچا؟
واشنگٹن اور اس کے اتحادی چین کے ساتھ جاری چِپ کی جنگ میں نمایاں سبقت رکھتے ہیں کیونکہ وہ
جدید ترین چِپ بنانے کے لیے لازمی ٹیکنالوجی
کا کنٹرول اس کے پاس ہے۔اس وقت اے آئی چپ کے اجزاء میں ہالینڈ کی ASML کے تیار کردہ ایکسٹریم الٹرا وائلیٹ ایکویپمنٹ ، یا ایچنگ اور میٹلرجی مشینیں شامل ہیں اور
یہ امریکا کی اطلاقی تحقیق
(اپلائید ریسرچ )یا LAM ریسرچ
کی کمپنیاں بھی بناتی ہیں ۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک ڈیزائن سافٹ وئیر ،
خصوصی کیمیکل اور دیگر سامان جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور بعض یورپی ممالک کی کمپنیاں بناتی ہیں اور یہ تمام
ممالک مکمل طور پر امریکا کے زیراثر
ہیں ۔ اب تک چین اپنی جدید ترین چپ بنانے کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ان اہم اور
ضروری ٹیکنالوجی کو نہیں حاصل کر پایاہے ۔اے
آئی اور سیمی کنڈکٹر دونوں ایک دوسرے کے لیے
لازم و ملزوم ہیں ۔ اس لیےجدید ترین سیمی کنڈکٹر (چپ) کی
ٹیکنالوجی کے بغیر بہت آگے نہیں جایا جاسکتا
۔جدید ترین چِپ ٹیکنالوجی، جو اس ٹیکنو - قوم پرستی کی طاقت کو کئی
گُنا بڑھا سکتی ہے، دسترس میں نہ آنے کا مطلب یہ ہے
کہ اس کے بغیر ایرواسپیس، ٹیلی کمیونی کیشن،
توانائی، بائیوٹیک، کوانٹم اور پھر اے
آئی بہ شمول سپر کمپیوٹنگ ، مشین لرننگ ، الگورتھم
اور سافٹ وئیر میں مکمل مہارت حاصل کرنا ممکن
نہیں ہوگا۔ڈیپ سیک کی وجہ سے اب اس بات کا امکان ہے کہ دوسرے درجے کے سیمی کنڈکٹر بنانے
والے ممالک بھی مصنوعی ذہانت میں پہلے درجے کا مقام حاصل کرسکتے ہیں اور اپنی فوجی صلاحیت، استعداد کار میں اضافے اور کاروباری مسابقت سمیت کئی معاشی ثمرات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
(جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں