امتیازاحمدوریاہ
ہم
اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 13 میں رہتے ہیں۔وفاقی دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے ( سی
ڈی اے) کے ماسٹر پلان کے مطابق ایچ سیریز کے تمام سیکٹر اور ان کے ذیلی سیکٹر
تعلیمی اداروں یا دوسرے سرکاری اداروں کی تعمیر کے لیے مختص کیے گئے تھے۔اس ماسٹر پلان کے مطابق جہاں جہاں تعلیمی
ادارے تعمیر ہونا تھے، سی ڈی اے نے 1980 اور 1990ء کی دہائیوں میں وہاں مقامی
مالکان سے اراضی قیمتاً حاصل کر لی اور
انھیں بتدریج شہر کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ
مختلف اداروں کو الاٹ کردیا ۔ لیکن جو زمین ایکوائر نہیں کی،وہ موروثی مالکان
اراضی نے چھوٹی چھوٹی ہاؤسنگ اسکیمیں یا
کالونیاں بنا کر فروخت کردی۔ایسی کالونیوں کی فروخت شدہ اراضی کی رجسٹری اور
انتقال ہوتا ہے، یعنی ملکیت زمین میں کوئی دھوکا، فراڈ نہیں۔مالک مالکانہ حقوق پر
بیچتا ہے اور خریدار اپنے نام کروالیتا ہے۔سی ڈی اے نے ایچ یا کسی بھی اورسیکٹر میں جو بھی اراضی ایکوائر
کرنا ہو،اس کی رجسٹری اور انتقال وغیرہ بند کردیے جاتے ہیں مگر ہمارے علاقے میں ایسا
نہیں۔لوگ آج بھی پلاٹوں کی خرید وفروخت کررہے ہیں۔
آمدم
برسرمطلب۔ تمہید طویل ہوگئی۔ایسی ہاؤسنگ کالونیوں میں شہری سہولیات نہ ہونے کے
برابر ہیں۔ ان کے مکینوں کو سی ڈی اے یا ایف جی ای ایچ اے کے سکیٹروں کے مکینوں
ایسی سہولیات حاصل نہیں۔ لگتا ہے ، ہم لوگ اسلام آباد میں نہیں بلکہ کسی قبائلی
علاقے کے مضافات میں رہتے ہیں۔سڑکیں اور گلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں، آب رسانی کا کوئی
بندوبست ہے اور نہ مستقبل میں کسی اسکیم کا کوئی اتا پتا۔ پورے سیکٹر میں ایک یا
دوسرکاری پرائمری اسکول ہیں۔وہاں کے پست معیارِ
تعلیم اور سہولتوں کےفقدان کی وجہ سے کوئی بھی باشعور اپنے بچے داخل
کروانے کو تیار نہیں۔علاج و معالجے کے لیے کوئی سرکاری اسپتال یا ڈسپنسری نہیں
جبکہ حکومت کو مختلف النوع ٹیکس ہم لوگ پورے دیتے ہیں۔
اب
آپ کی توجہ ایک مستقل مسئلہ کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ تصاویر میں آپ دیکھ رہے
ہیں۔کیپٹل ہومز ، متصل شمس کالونی کا پورا محلہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ آج 17
اگست 2026کو علی الصباح کوئی تین ساڑھے
تین بجے بجلی اچانک بند ہوئی تھی۔لوگوں نے آئیسکووالوں (واپڈا) کوشکایت کی تو ان
کی ٹیم کوئی گیارہ بجے تشریف لائی۔اس وقت بارش شروع ہوگئی اور وہ دیکھ کر چلے گئے۔بعد
میں دوبارہ آئیسکو کے اہلکار آئے اور بتایا کہ ٹرانسفارمر جل گیا ہے،اس کو تبدیل
کرنا پڑے گا۔اس وقت رات کے پونے گیارہ بج رہے ہیں۔یعنی کوئی 18 گھنٹے سے بجلی بند ہے۔برقی
رو نہ ہونے کی وجہ سے آپ بور والی موٹر یا زیرزمین پانی کی ٹینکی والی موٹر بھی نہیں چلا سکتے ۔ چناں چہ بیشتر گھروں کی چھت والی ٹینکی میں ذخیرہ پانی بھی ختم ہوچکا ہے۔
پانی
اور بجلی دو بنیادی ضروریات ہیں۔ ہر شہری کو یہ ضروریات مہیا کرنا حکومتِ وقت کی
ذمے داری ہے مگر ہمارے وزیرداخلہ ارشاد کرتے ہیں کہ نظام ڈھے چکا ہیں۔ان سے یہ عرض
کرنا چاہتے ہیں، نظام تو ڈھے چکا ہے تو آپ کی کارکردگی کیا ہوئی ؟ سی ڈی اے تو آپ
کےماتحت ہے۔ ہم اسلام آباد کے کسی دیہی
علاقے میں بھی نہیں رہتے بلکہ یہ شہری علاقہ
ہے۔ایک طرف ملک کی ممتاز نسٹ یونیورسٹی ہے تو دوسری جانب سری نگرہائی وے اور اس سے پار سیکٹر جی 13 ہے، مغرب کی جانب سڑک
پار پاک فوج کا گاڑیوں کا مرکزی ڈپو اور
ورکشاپیں واقع ہیں اور یہ سی ایم ٹی ڈپو
کے نام سے مشہور ومعروف ہیں۔جنوب کی جانب
طب کی دنیا میں لوٹ کھسوٹ میں
مشہورقائد اعظم انٹرنیشنل اسپتال ہے۔اس پاس پڑوس اور جغرافیائی محل وقوع میں واقع ہمارے
علاقے میں شہری سہولتوں کا سنگین فقدان ہے اوربنیادی ضروریات کی دستیابی میں ہمارے اور دوسرے سیکٹروں میں اس قدر تفاوت ہے کہ شاید کسی دور دراز گاؤ ں یا
قصبے میں بھی ایسی صورت حال نہ ہو ، جس کا ہمیں سامنا ہے۔ کیا وزیرداخلہ محسن
نقوی صاحب ہمیں درپیش سنگین شہری مسائل کے
حل کی جانب کوئی ادنیٰ توجہ مرکوز کرنا پسند فرمائیں گے۔ہم بھی اسلام آباد کے شہری
ہیں، ٹیکس دیتے ہیں، یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ ہم لوگ سی ڈی اے کے کسی سیکٹر میں
نہیں رہتے تو ہمیں کوئی شہری سہولت بھی مہیا نہیں ہوسکتی ہے۔ہمارے ساتھ امتیازی
سلوک کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
اس کی ایک اور ادنیٰ مثال پیش ہے۔سی ڈی اے نے شاہراہ سری نگر پرموٹرسائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کے آرپار جانے کے لیے لوہے کے پل نصب کیے ہیں۔ کیا نسٹ یونیورسٹی کے سامنے نصب پل کے دونوں اطراف کچے ، اینٹ روڑے والے راستوں سے وزیرداخلہ یا وزیراعظم پاکستان گذرنا پسند فرمائیں گے۔ان آہنی پلوں کو نصب ہوئے تیسرا یا چوتھا سال ہونے کو ہے مگر جونہی کوئی موٹر سائیکل پل سے نیچے اترتا ہے تو حکام کے ترقی کے دعووں کا مُنھ چڑھاتے روڑے اور پتھر اس کا استقبال کرتے ہیں۔ آئے دن موٹرسائیکل سوار تو توازن قائم نہ رکھ سکنے کی وجہ سے کھائی یا نشیبی جگہ میں گرتے بھی رہتے ہیں لیکن کسی پوش سیکٹر میں آپ کو ایسی کوئی کھائی نظر نہیں آئے گی۔ہم توقع کرتے ہیں کہ وزیرداخلہ ہم اہل محلہ کو درپیش ان مسائل کے حل کے لیے خصوصی توجہ فرمائیں گے۔وہ کم سے کم اس علاقے میں ازکار رفتہ ’’سسٹم‘‘ کو ڈھے پڑنے سے تو بچا سکتے ہیں۔ پورے ملک سے بعد میں نمٹ لیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں