📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

بدھ، 14 اکتوبر، 2026

وَٹس ایپ پر چینل چلانے والے جین زی کے صحافی

                                             

امتیازاحمدوریاہ

 ہمارے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اس وقت  کونسل ارکان  کی  شناخت کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کی جارہی ہے۔اس  کا مقصد حقیقی اور جعلی صحافیوں کا پتا چلانا ہے اور اتائی گروپ کو معذرت کے ساتھ کلب سے رخصت  کرنا ہے۔نیشنل پریس کلب کے سالانہ انتخابات سے قبل  فاتح  صدر اور سیکرٹری  کے پشتی بان   پینل  ڈیموکریٹس نے  تمام کونسل  ارکان کی بائیو میٹرک کے ذریعے سکروٹنی کا وعدہ کیا تھا اور اس عزم کا اظہار کیا تھا ،اس طریقے سے نشان زد ہونے والے تمام جعلی صحافیوں کی رُکنیت ختم کی جائے گی۔

اس عمل میں تین   بنیادی حقائق  کی تصدیق کی جارہی ہے:

1۔صحافی کا نام  اور پہچان کیا ہے؟

2۔ وہ کس ادارے میں   کب سے ملازم  ہے یا تھا؟ کیونکہ حال ہی جڑواں شہروں کے بہت سے میڈیا اداروں نے اپنے ہاں ملازم صحافیوں کو اچانک ، بلاجوازفارغ خطی دے دی ہے اور ان میں سے بیشتر ہنوز کسی دوسرے ادارے  میں  ملازم نہیں ہوئے  اور بے روزگارہیں۔

3۔ کسی صحافتی ادارے کے ہاں خود کو ملازم ظاہر کرنے والے  مشکوک صحافیوں کی  اس ادارے سے  تصدیق کی جارہی ہے اور یہ دیکھا جارہا ہے کہ آیا  ان کے  نام  متعلقہ ادارے کے سابقہ یا موجودہ ملازمین میں شامل ہیں یا نہیں۔

بائیومیٹرک کا تمام عمل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال خود انجام دے رہے ہیں ۔اس کے لیے انھوں نے دو طریقے وضع کیے ہیں:

1۔ وہ اسلام آباد اور راول پنڈی میں واقع  بڑے  میڈیا اداروں میں خود جاکر پریس کلب کے ارکان صحافیوں کی تصدیق کررہے ہیں۔

2۔فری لانسر ، چھوٹے اداروں یا آن لائن کام کرنے والے صحافیوں کی پریس کلب ہی میں  بائیومیٹرک کی جارہی ہے۔

اس عمل کے دوران  میں انھیں بہت  سے دلچسپ  ،ہوشربا اور  انکشاف انگیز تجربات  ہوئے ہیں۔ان سے ملنے جائیں تو وہ ایسے قصے سنا کر خود بھی خوب قہقہے لگاتے ہیں  اور اپنے  ساتھی  صحاف( صحافی کی جمع) کو بھی  خوب ہنساتے ہیں۔ پریس کلب کے سابق ’’حکمرانوں‘‘ کے  ایسے ’’سنہری کارناموں‘‘ پر کفِ  افسوس  ملتے ہیں۔

گذشتہ کل (منگل کو)  راقم ان سے ملاقات کے لیے گیا  تو تھوڑی دیر میں  جیو نیوز میں ہمارے  سابق ساتھی رپورٹر  عاصم علی رانا  اور اویس یوسف زئی بھی آگئے۔بائیو میٹرک  کے عمل میں اب تک کی پیش رفت کا ذکر ہوا  تو  عبدالرزاق سیال  نے ایک دل چسپ قصہ سنا یا۔پڑھیے ، سر دھنیے اور مسکرائیے۔ان ہی  کی زبانی  ملاحظہ ہو:

’’اگلے روز ایک  اتائی صحافی   میرے پاس آیا اور کہنے لگا :’’جناب ،میری  رُکنیت کی بائیو میٹرک تصدیق کردیں۔‘‘

میں نے پوچھا :بھائی آپ  کس ادارے میں کام کرتے ہیں؟

وہ  جین زی کا پینٹیم  4  بولا:میرا وٹس ایپ  پر چینل ہے اور وہ چینل چلاتا ہوں۔

میں اس کا منھ  تکتا رہ گیا اور اس سے پوچھا کہ وٹس ایپ کے چینل پر آپ کون سی صحافت فرماتے ہیں۔ وہ پھر آئیں، بائیں، شائیں کرنے لگ گیا اور اس کی دال نہیں گلی۔‘‘ مگر وہ اس لحاظ سے  کامیاب  ٹھہرا  کہ کوئی    وٹس ایپ چینل  چلانے والے  ہر  بشیر ، نذیر ، شبیر  کو بھی  صحافی بنا گیا۔گویا  جین زی کی اکثریت  صحافی  ٹھہری ہے۔

سیال صاحب کے دفتر میں وٹس ایپ چینل کے صحافی کے اس قصے پرہم کافی دیر تک محظوظ ہوتے رہے ۔ہماری یہ رائے تھی کہ اصل اتائی  تو وہ صحافتی لیڈر ہیں جنھوں نے ایسے بہروپیوں کو نیشنل پریس کلب کا پہلے ایسوسی ایٹ ممبر بنایا  اور پھر چپکے سے کونسل  کی رُکنیت  بھی  دے دی تھی اور  گورننگ باڈی کے کسی  رکن نے اعتراض نہیں کیا تھا۔ایسے ہی بہروپیوں اور نوسربازوں کے جعلی ووٹو ں سے وہ  گذشتہ کئی برسوں  سےنیشنل پریس کلب کے سالانہ انتخابات جیتتے آرہے تھے۔

غیر پیشہ وروں کو  نیشنل پریس کلب کا ممبر بنانے کے ایسے اور بھی  دل چسپ  قصے سامنے آئے ہیں۔اگلے روز ایک اور صاحب  پتوکی یا چونیاں سے اپنی رکنیت کی بائیو میٹرک تصدیق کے لیے تشریف لائے۔ان پوچھا گیا کہ میاں، تم یہاں کیسے وارد ہوئے ؟ بولے، ادھر منڈی میں آڑھت کرتا ہوں اور ساتھ ’’خبریں‘‘ لاہور کا نمایندہ بھی ہوں،ہم انگشت بہ دنداں کہ جناب  سات ضلعے چھوڑ کر رکن نیشنل پریس کلب کے ہوئے۔راستے  میں آنے والے اضلاع کے کسی پریس کلب نے ان پر دست شفقت نہیں رکھا ۔

ان آڑھتی  صحافیوں ،’کوچوان ٹائمز‘طرز کے ڈمی اخباروں   کے ایڈیٹروں اور بیٹری فروشوں کو چھوڑیے،ہمارے سابق صحافتی لیڈروں نے  الا ماشاء اللہ جنگ/ جیو جیسے ادارے کو نہیں بخشا اور ان  کے  نام پر ایسے لوگوں کو پریس کلب کا ممبر بنا دیا تھا  جو کبھی ان اداروں کے ملازم ہی  نہیں رہے تھے اور ادارے میں بائیو میٹرک  عمل کے وقت بھی ان کی وہاں موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔البتہ بعض خراماں خراماں وہاں مقررہ تاریخ اور وقت پر بائیو میٹرک کرانے کے لیے پہنچے لیکن اپنے تقرر نامے یا ادارے سے کسی طرح کی وابستگی دکھانے میں ناکام رہے۔

ان سے بھی صرف نظر کیجیے۔ جڑواں شہروں اور بھی بہت سے صحاف ہیرے پائے جاتے ہیں۔ ایک مدیر  صاحب ہیں،اپنی ذات میں انجمن اور اقربا نوازی  اور اپنوں کی پشتیبانی کوئی ان سے سیکھے۔رپورٹنگ پہ نکلیں تو اعتماد سے ایسی ’’خوب صورت‘‘  انگریزی  بولتے ہیں کہ شاید ہی  انگریز استعمار  کی زبان کی اتنی مٹی پلید کی ہو ۔انگریزاستعمار اور اس کے ایجنٹ بھی کیا سوچتے ہوں گے۔ماضی قریب کا قصہ ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ کے اختتام پر انھوں نے برجستہ انگریزی بولنے کا ایسا مظاہرہ کیا ہے کہ  بے چارہ  ویرات کوہلی ان کا  چہرہ تکتا رہ گیا۔ اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ بڑے میاں کی بات کا کیا جواب دے۔خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ ہمارے اس سینیر صحافی بھائی نے ایک دو نہیں  اپنے خاندان کے پورے  آٹھ دس افراد کو پریس کلب کا ممبر بنوا رکھا ہے۔اب وہ ان سب کو پلاٹ دلوانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ایک اور صاحب ہیں، الف کا نام کوکو لکھنا نہیں آتا مگر ایک ڈمی  اخبار کے ایڈیٹر ہوتے ہیں اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) سے بھاؤ تاؤ کے ذریعے سرکاری اشتہارات  اینٹھنے کا ہُنر خوب جانتے ہیں۔ ان کے گھر کے تین چار افراد پریس کلب کے رکن ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ پریس کلب کے گذشتہ الیکشن کے موقع پر غل غپاڑا کرنے والے ایک اور صاحب نے اپنے کم عمر  بیٹے کو رکن بنوا رکھا ہے ۔صاحب زادے کی عمر یہی کوئی بائیس ، چوبیس سال ہوگی۔ گذشتہ کچھ عرصے  سے کونسل ممبرشپ بند  تھی، نئے صحافیوں کو ایسوسی ایٹ ممبر ضرور بنایا گیا تھا ۔ ہمارے لیے تو یہ معاملہ سربستہ  راز ہی ہے کہ وہ  اپنے بیٹے کو  پریس کلب کی انتخابی فہرست میں ’گھس بٹھانے‘ میں کیسے کامیاب ہوگئے۔جب اس کے پاس سے کوئی شناختی کارڈ ، پریس کارڈ نہیں نکلا تو شور مچانا شروع ہوگئے تھے۔ساتھ دھمکی بھی دی کہ میں یہ کر دوں اور وہ کردوں گا۔ فدوی بہ طور مبصر یہ سب کچھ  دیکھا کیے۔

پیارے پڑھنے والو،یہ توصحافتی دیگ میں سے چکھنے کے لیے  کڑچھے  پر نکالے گئے ‏چند دانے سمجھیں۔نیشنل پریس کلب کے ‏ممبر صحافیوں کی بائیومیٹرک تصدیق ‏کاعمل مکمل ہوتا ہے تو ہمارا ایک مکمل ‏رپورٹ (بلکہ کتاب) مرتب کرنے کا ارادہ ‏ہے،اس میں ایسے سب نام شامل ہوں ‏گے۔فی الوقت وہ صیغہ راز ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی ہوشربا حقائق ‏منظرعام پر آئیں گے۔جعلی صحافیوں کا ‏پشتی بان کوئی ایک گروہ، شخصیت یا ‏دھڑا نہیں اور بھی بعض شرفاء کے نام ‏سامنے آئے ہیں اور آپ انگشت بہ دندان ‏رہ جائیں گے۔ بس انتظار فرمائیے اور ‏دیکھتے رہیے آگے آگے ہوتا ہے کیا۔

تو جناب عرض یہ ہے پورے پاکستان کی طرح نیشنل پریس کلب میں بھی ، یہاں  تَند نہیں پوری تانڑی بگڑی   ہوئی ہے۔آپ کس کس کو ٹھیک کریں گے لیکن ہمارے ساتھیوں نے رکاوٹوں کے باوجود   مستقبل کی سیاست کو داؤ پر لگا کر بائیومیٹرک  تصدیق کے مطالبے کو عملی جامہ پہنایا ہے کیونکہ اس تطہیری عمل کے بعد وٹس ایپ چینل  چلانے والے  اتائی صحافی تو کہیں کے نہیں رہیں گے۔

یادش بخیر، قارئین کی اطلاع کے لیے ، نیشنل پریس کلب کے کونسل ممبروں کی تعداد تین  ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ ہے۔ان کی بائیو میٹرک تصدیق کے بڑے محرک اور موید جناب مطیع اللہ جان تھے۔انھوں نے اس مطالبے پر اصرار جاری رکھا  اور اب یہ عمل دھیرے دھیرے پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔ان شاء اللہ اس کی تکمیل کے بعد پریس کلب   کی کو کونسل زیادہ سے زیادہ پندرہ ، سولہ سو ارکان پر مشتمل رہ جائے گی۔

پھر عزیز ساتھیو اور بیلیو!، الیکشن لڑنے کا   خوب مزہ آئے گا۔گلیاں سنجیاں ہوں گی اور وچ مرزا یار اکیلا پھرے گا۔






کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template