ملازمتیں بالخصوص وائٹ کالر روزگار مصنوعی ذہانت کے بڑے
شکاروں میں سے ایک ہیں جس کی وجہ سے لندن کے
کاروباری اور مالیاتی ادارو ں کے علاقے سنسان ہوتے نظر آر ہے
ہیں۔ پیشہ ور ماہرین کا بین الاقوامی مرکز لندن میں ملازمتوں کی اے آئی کی جانب منتقلی کے عمل سے
گراؤنڈ زیرو میں تبدیل ہو چُکا ہے ۔ ریکروٹمنٹ ویب سائٹ کے ڈیٹا کے مطابق نئی ملازمتوں کی تعداد میں انتہائی کمی آئی ہے ۔
پہلے
کبھی کارپوریٹ وکیل، سافٹ وئیر ڈویلپرز،
مینجمنٹ کنسلٹنٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ مینجر کی اسامیوں کے سیکڑوں اشتہارات ہوا
کرتے تھے ،وہ اب کم ہو کر پچاس ساٹھ تک رہ گئے۔ اسی طرح دفتری کارکنان (وائٹ کالر
جابز) ان کی ڈیمانڈ بھی 2022 کی بہ نسبت
نصف تک رہ گئی ہے۔ہیج فنڈ (نجی سرمایہ کاری کے ادارے جو اسٹاک ایکسچینج اور دیگر ابھرتی ہوئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری
کرتے ہیں) ایک زمانے میں کمپنیوں کے حسابات اور دیگر ریکارڈ کی چھان بین کے لیے آٹھ
دس جونیّرتجزیہ کار(اینالسٹ) رکھا کرتے تھے۔ اب یہ سارا کام اکلوتا اینالسٹ اے آئی کی مدد سے کررہا ہے۔
مشاورتی
کمپنیوں میں سیکریٹریوں اور دفتری معاونین
کی ملازمتیں کم ہوتی جارہی ہے کہ ان کے ذمے تفویض کردہ کام (باس کے سفری انتظامات،
ملاقاتوں اور دیگر شیڈول) اب اے آئی کے ذریعے بآسانی انجام دیے جاسکتے ہیں۔ بینکوں کا بھی یہی حال ہےکہ جونیّر اینا لسٹوں کی
تعداد میں کمی، اندرونی دفتری
کاموں کی نگرانی، کسٹمر سروس، اور ٹرانزیکشن مانیٹرنگ کے کام
(اے آئی کی مدد سے) مختصر افرادی قوت کے ذریعے کیے جارہے ہیں۔بینکوں کے اعلیٰ عہدے دار اپنے اداروں کے اخراجات کم اور منافع
بڑھانے کے لیے اے آئی کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ اے آئی کی وجہ سے کام کے بہتر اور تیز ہونے کی وجہ
سے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اپنے قریباً 8000
ملازمین کو فارغ کررہا ہے۔
اسی طرح ہانگ کانگ ،شنگھائی بینکنگ کارپوریشن نے اپنی افرادی قوت میں 20 ہزار
ملازمین کی کمی کا عندیہ دیا ہے۔ایک گرافک ڈیزائنر نے چھہ ماہ قبل ملازمت کھوئی تھی ۔ وہ اب تک ملازمت کے حصول میں ناکام رہنے کے بعد فری لانسنگ پر مجبور ہو گیا لیکن اس مارکیٹ میں بھی اس
کے دو ڈیزائن مصنوعی ذہانت کے ٹول کے تیار
کردہ ڈیزائن کے مقابلے میں رد کردیے گئے۔
برطانیہ
کی مشہور کاروباری خاتون مارتھا لین فاکس
جو ڈاٹ کام کے طوفان کے دور عروج میں lastminute.com
کے بانیوں میں سے ایک
ہیں ،انھیں لندن کے میئر صادق خان نے
برطانوی دارالحکومت کو مصنوعی ذہانت سے
خدمات حاصل کرنے کے اقدامات کی ذمہ داری سونپی ہے ۔انھوں نے کنگز کالج لندن میں منعقدہ اے آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
’’ہمارے دفاتر، اسپتالوں، تعلیمی اداروں ، فلم اسٹوڈیوز
اور عوامی خدمات کے اداروں میں عظیم
تبدیلیاں وقوع پذیر ہورہی ہیں اور ہماری پہچان ان
اداروں میں یہ سب کچھ انتہائی سرعت اور برق رفتاری سے ہورہا ہے۔‘‘
اکاؤنٹنگ
فرم KPMG
برطانیہ کے سابق سربراہ برائے ایجادات شمس رائے نے ، جو ذاتی طور پر اے آئی
سے منسلک کاروباروں میں سرمایہ کاری بھی
کررہے ہیں ، اسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا :
’’ایسا
ممکن ہے کہ زیادہ تر بیزار کُن اور تھکادینے
والا کام آڈٹ، فنانشیل ریکارڈ کا
تجزیہ یا ٹرانزیکشنر کو دیکھنے کا کام اے آئی کی مدد سے کیا جائے اور انسانی عمل اس پرصرف آخری مرحلے
میں دست خط ثبت کرنا رہ جائے۔ (یہ صرف ممکنات کی بات ہورہی
ہے یہاں تک پہنچنے میں وقت لگے گا)۔‘‘
لندن
کے میئر صادق خان کے زیر قیادت ’’گریٹر لندن اتھارٹی‘‘کے ایک سروے کے مطابق : ’’لندن کے ملازمت پیشہ افراد
میں قریباً نصف یعنی چوبیس لاکھ
افراد ایسے پیشوں میں ہیں، جہاں اے آئی
کسی حدتک ان کے کام پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔‘‘
یہ اے آئی ٹیکنالوجی ایسی ذمہ داریوں میں جہاں
کام کی
نوعیت کثیرالجہت ہے اور جس میں فیصلہ سازی، تخلیقی صلاحیت اور تعلقات
سازی کی ضرورت کے لیے مواد کی تیاری
میں ( کم افرادی قوت کے ساتھ) زیادہ اور تیز رفتار کام میں مدد دے سکتی ہے لیکن
فیصلہ سازی اور باہمی ربط کے لیے انسانی
ضرورت تو رہتی ہی ہے۔ اس کی بہ
نسبت پس منظر میں رہ کر دفتری کام کرنے والوں کی ملازمتیں اے آئی کے ہاتھوں
شدید خطرے میں ہیں۔ان میں جونیّر معاشی
تجزیہ کار، اکاؤنٹینٹ اور سافٹ وئیر ڈویلپرز
شامل ہیں۔
مارکیٹنگ کے شعبے میں بھی ، اے آئی ٹول کسی بھی مہم
، ویب سائیٹس کی سرگرمی کی تجزیاتی
رپورٹ لمحوں میں دے دیتے ہیں ۔ یہ وہ کام
ہے جو اس سے قبل جونیّر تجزیہ کاروں کی
ایک ٹیم کیا کرتی تھی۔ اس لیے اب اس تمام عمل کی نگرانی کے لیے واحد شخص ہی کافی ہوتا ہے۔ایک
روبوٹکس کمپنی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اے
آئی سافٹ وئیر انجینئروں کو اپنے کام دس گنا تیز رفتارئ سے مکمل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔
بینک
آف انگلینڈ نے اپنی جولائی کی رپورٹ میں اس بات کی نشان دہی کی تھی کہ
کاروباری ادارے اے آئی کے
استعمال کے ذریعے کم افرادی قوت
کے ساتھ بہتر نتائج حاصل کررہے ہیں ، جس کے نتیجے میں ان اداروں میں
نئی بھرتیوں کی رفتار سست ہو کررہ گئی ہے۔حالت یہ ہے کہ برطانوی طلبہ کو
دفتری بابوگیری یا سفید کالر ملازمتوں کے مصنوعی ذہانت
کے ہاتھوں خاتمے کا خوف لاحق ہے ۔اب اس سے نجات کا واحد راستہ انھیں ہاتھوں کے ہُنر سیکھنے میں نظر آرہا ہے۔چناں چہ
اس کے نتیجے میں ہُنر سکھانے والے اداروں میں داخلے کے رجحان میں نسبتاً اضافہ دیکھا
گیا ہے۔
مصنوعی
ذہانت
اُردُولفظیات اور اے آئی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں