سانجھ کاری

بلاگ فہرست

اتوار، 25 اکتوبر، 2026

سعودی عرب میں مزدورغلامی اور قانون کا اطلاق

بہ سلسلہ تراجم قبل ازمصنوعی ذہانت  

عبدالرحمٰن الراشد

ترجمہ : امتیازاحمدوریاہ

ہم نے سعودی عرب میں اس وقت تک انسانی غلامی سے متعلق غیر ملکی الزامات پر کوئی توجہ مرکوز نہیں کی تھی ، جب تک  غیرملکی مزدوروں اور گھریلو ملازمہ خواتین سے بلاحقوق کام لینے سے متعلق کہانیوں کو نہیں سنا تھا۔یہ کہانیاں  زبان زد عام تھیں کہ ان غیرملکیوں  سے ان کے جائز حقوق دیے بغیر کام لیا جارہا ہے مگر پھر بھی ہم نے کان نہیں دھرے۔ دو سال قبل (اب 16 سال قبل)ایک بھارتی چرواہے کی خوف ناک کہانی سامنے آئی تھی۔ وہ سعودی عرب کے شمال میں واقع ایک قصبے کے پولیس اسٹیشن میں پہنچ کر فریاد کناں ہوا تھا کہ اس کو گذشتہ اٹھارہ سال سے صحرا کے وسط میں مویشیوں کے ایک باڑے میں قید رکھا گیا ہے۔
ہم نے اس غریب چرواہے کے بارے میں جو کچھ سنا،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ باڑے کے مالک کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت مزدوری کے لیے سعودی عرب آیا تھا لیکن اس مالک نے اس کی اُجرت میں سے صرف تین سو ڈالرز کے لگ بھگ اس کو رقم ادا کی تھی۔اس مالک نے اس کو اس عرصے کے دوران  میں اپنے خاندان سے ملنے کے لیے آبائی وطن بھارت واپس نہیں جانے دیاتھا۔حتیٰ کہ اس کو اپنے خاندان سے فون پر بات تک کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

وہ بھارتی بے چارہ اس چنگل سے بھاگ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ باس کا اڑا النفوذ صحرا کے وسط میں واقع تھا اور اسے یہ خدشہ تھا کہ اگر وہ  یہاں سے بھاگا تو صحرا ہی میں  کہیں گم ہو کر رہ جائے گا اور یوں اپنی جان ہی گنوا بیٹھے گا۔اس بھارتی کی کہانی نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

اس کے بعد ہمیں پتا چلا کہ اس باڑے کے مالک نے اس بھارتی ورکر کو اس کی اُجرت کی بقایا رقم ادا کر دی تھی اور اس کی کل مالیت قریباً پچاس ہزار امریکی ڈالرز بنی تھی لیکن کیا اس بھارتی کو بیس سال تک جبری غلامی اور زیرحراست رکھنے کا بھی کوئی معاوضہ ادا کیا گیا تھا؟ اور کیا اس غلط کار مالک کو سزا دی گئی؟ ہم اس کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے بلکہ بعد میں تو ہم نے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں پڑھا حالانکہ اس ایشو کی تو پیروی کی جانا چاہیے تھی۔

میں نے  انسانی حقوق کے علمبردار  معروف وکیل عبد الرحمن اللاحم  Abdulrahman Al-Lahimسے پوچھا کہ کیا سعودی مملکت میں اس طرح کے سنگین طرزعمل  پر کوئی قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق جرائم کی بیخ کنی کے لیے قانون موجود ہے اور اس کا اس کیس میں بھی اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ سعودی کابینہ نے چھے (اب 18 )سال قبل اس قانون کی منظوری دی تھی۔ اس کے تحت غلط کار کو پندرہ سال تک قید یا دس لاکھ ریال تک جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے یا یہ دونوں سزائیں بیک وقت بھی دی جا سکتی ہیں۔

اب منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بھارتی مزدور کے کیس کو اس کے خاندان کے پاس  لوٹتے ہی بھلا دیا گیا ہے۔ اس کیس میں تو قانون پر عمل درآمد کرانے کے ذمے دار حکام اور ادارے مورد الزام ٹھہرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے فرائض کماحقہ ادا نہیں کیے۔اس لیے انھیں تو سزا دی جانا چاہیے۔
میں دو سال (اب 14 سال) پرانے اس مسئلہ کو ایک خاص وجہ سے سامنے لایا ہوں اور لوگ شاید بھول گئے ہیں کہ ایسے جرائم کا  شعور نہ ہونے اور سزاؤں کے نفاذ میں نرمی برتنے کی وجہ سے ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ انسانی اسمگلنگ کے خلاف قانونی نظام کو ان لوگوں کے خلاف بھی بروئے لایا جا سکتا ہے جو اپنے ملازموں اور گھریلو خادماؤں کو ان کی (طے شدہ   یا مجوزہ )اُجرتیں ادا نہیں کرتے ہیں۔

یادرہے کہ یہ قانون نابلد لوگوں یا کسی بھی طرح کا جواز پیش کرنے والوں کو تحفظ مہیا نہیں کرتا ہے۔ ہمیں یاد  پڑتاہے کہ ایک مرتبہ الریاض پولیس نے ایک سعودی سفارت کار کو محض اس وجہ سے بیرون ملک سے وطن لوٹنےپر مجبور کر دیا تھا کہ اس نے اپنی گھریلو خادمہ کو اس کی اُجرت ادا نہیں کی تھی۔ اس سفیر نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ اس ملازمہ کی اُجرت ادا کرنا بھول گیا تھا۔اس طرح کے جرائم کے رونما ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے بلکہ وہ جاری وساری ہیں کیونکہ سعودی عرب میں ایک کروڑ سے زیادہ غیر ملکی تارکینِ وطن روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں اور یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ لوگوں کی اخلاقیات اور انسانیت پسندی کا احساس انھیں دوسروں کو غلام بنانے سے باز آنے پر مجبور کر دے گا۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اپنی گھریلو خادمہ سے ہمدردی کا اظہار کرنے والی سعودی خاتون کی کہانی کا اعادہ  بھی ہو سکتا ہے۔ وہ  اپنی گھریلو خادمہ کی حمایت میں پولیس اسٹیشن جا پہنچی تھی کیونکہ اس کے خاوند نے دو سال سے اس کی اُجرت ادا نہیں کی تھی۔

یہ(سعودی عرب کی) قومی سوسائٹی برائے انسانی حقوق کی ذمے داری ہے کہ وہ غیر ملکی ورکروں کے استحصال کے واقعات کو رپورٹ کرنے کی حوصلہ افزائی کرے اور ان کو تحفظ مہیا کرے اور یہ سماجی اداروں کی بھی ذمے داری ہے اور ان کی بھی، جو خود کو معاشرے کا ذمے دار سمجھتے ہیں۔

--------------
صاحبِ طرز کالم نگار عبدالرحمٰن الراشد العربیہ کے ادارتی بورڈ کے چیئرمین ہیں۔اس سے پہلے وہ العربیہ  نیوز چینل کے  جنرل مینیجر  تھے۔ان کا  شمار سعودی عرب کے مایہ ناز اور  عالمی شہرت یافتہ صحافیوں اور تجزیہ کاروں میں ہوتا ہے۔وہ العربیہ سے قبل لندن سے شائع ہونے والے  مشہور روزنامہ  الشرق الأوسط  کے ایڈیٹر انچیف رہے تھے۔اس ادارے سے ان کی وابستگی ہنوز برقرار ہے اور اخبار میں وہ باقاعدگی سے اپنا سیاسی کالم لکھتے ہیں۔ ان کا یہ کالم پہلے اسی  موقر  روزنامے  میں شائع ہوا تھا اور مترجم نے اس کو اردو قالب میں ڈھالا تھا۔یہ ترجمہ  پہلی مرتبہ17 اپریل 2014؁ کو العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کی ویب سائٹ پر شائع ہوا تھا۔ مصنوعی ذہانت  کے خروج  اور فاتحانہ عروج سے قبل کے دور  کے  اس  ترجمہ کو اسی تناظر میں پڑھا جائے ۔اس میں بعض مقامات پر قوسین میں بعض الفاظ اورسال کا عدد موجودہ مدت کے مطابق بڑھا دیا گیا ہے ۔اس تحریر کے وقت کسی وقوعہ کے دورانیے کا تو پہلے ہی ذکرتھا۔

تراجم 

ترجمہ 

اُردُو لفظیات

العربیہ ڈاٹ نیٹ 

العربیہ نیوز چینل 

عبدالرحمٰن الراشد

الشرق الاوسط 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Medium is the Message

Medium is the Message

مقبول تحریریں

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template