📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

منگل، 6 فروری، 2024

نسیم حجازی کے ناقدین

امتیازاحمدوریاہ


اردو اور تاریخ کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے عرض ہے ۔نسیم حجازی صاحب ناول نگار تھے ،مؤرخ نہیں۔ان دونوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔مؤرخ روایت اور درایت کا پابند ہوتا ہے جبکہ ناول نگار نہیں۔تاریخی واقعات کو صحت کے ساتھ بیان کرنا مؤرخ کی ذمے داری ہے اور تاریخ نویسی کے فن کی روشنی میں ان پر نقد وجرح ماہر نقادوں کی ذمے داری ہے۔ناول نگار واقعات کو من وعن بیان کرنےکا پابند نہیں ہوتا۔وہ بس واقعات کو جوڑتا، اپنی افتاد ِطبع کے مطابق ان کی بنت کاری کرتا اور ان سے اپنی کہانی بناتا ہے۔وہ سب ہیرو اور ہیروئن کے گرد گھومتی ہے۔ہمارے مؤرخین نے جنگوں اور خونریزی ہی کو موضوع بنایا ہے۔ادب ،ثقافت ،علمی ،سائنسی تاریخ کہیں نظر ہی نہیں آتی۔

برصغیر پر انگریز کے قبضے کے بعد تاریخ نویسی کے  اس رجحان کو زیادہ تقویت دی گئی۔دارالمصنفین اعظم گڑھ نے کچھ رُخ موڑا تھا لیکن یہ ادارہ بھی وقت کی دھول میں دب گیا اور نوبت بہ ایں جا رسید اب لونڈے لپاڑیے فلمیں، ٹی وی ڈرامے دیکھ کر اور ناول پڑھ کر ہمیں تاریخ کے اسرار ورموز سے آگاہ کررہے ہیں۔تحقیق ان کی پیر صاحب گوگل شریف تک محدود ہے۔حالت یہ ہے کہ ایک بزرجمہر نے حجاج بن یوسف کے ہاتھوں محمد بن قاسم کو مروا دیا تھا اور ایک نے ولید بن عبدالملک کے ہاتھوں۔اب  یہ صاحبان ہی  بتاسکتے ہیں کہ انھوں  نےقبروں سے نکل کر محمد بن قاسم پر کیسے ہاتھ ڈالا تھا؟

1 تبصرہ:

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template