سوشل
میڈیا پر اس وقت حاضر سروس’’ چیٹ باٹس‘‘ بہت سرگرم ہیں ۔انھیں ہمیشہ سے نان ایشوز
کو ایشوز بنانے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ بعض صحافتی چیٹ باٹس اس طرح کے عمل میں پیش پیش ہوتے ہیں۔بعض تو باقاعدہ
مہنگی دہاڑی پر اور بہت سے شامل باجا۔ان کا بظاہر وقت گزاری کے سوا کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔
قوم وملک کو درپیش مسائل کے حقیقی حل کی
طرف کوئی پیش رفت یا عالمانہ مباحث کے
بجائے رائے عامہ کو لایعنی موضوعات میں
الجھایا جاتاہے۔آپ کہیں گے، چیٹ باٹس اور
مصنوعی ذہانت تو آج کے دور کی اصطلاحیں اور ٹیکنالوجی ہیں، ماضی میں ان کی طرح کی کارگزاری کون انجام دیتا تھا۔آئیے ذرا ماضی کا
ایک صحافتی کھوج لگاتے ہیں ۔ زیادہ پرانی
بات نہیں ،صرف تیس سال پہلے کا قصہ ہے، ملاحظہ کیجیے۔
پشتو فلموں کی
مشہور زمانہ اداکارہ آنسہ مسرت
شاہین کو 1997ء میں منعقدہ عام انتخابات سے چندے قبل نجانے کیا سوجھی
کہ اچانک سیاست میں وارد ہوگئیں اور
مولانا فضل الرحمٰن کے مدمقابل الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ۔ کچھ
اخبارنویسوں کو اس کھلی ڈلی اداکارہ کو ایک عفیفہ کے روپ میں پیش کرنے کی ذمہ داری
سونپی گئی۔ اب جین زی اور موجودہ الفا نسل کو کیا معلوم یہ مسرت شاہین کس بلا کانام تھا یا وہ کیسے نوجوانوں کے دلوں پر اپنی دل فریب اداؤں
سے غضب ڈھاتی تھیں۔برادر مکرم فاروق فیصل
خان کی وضع کردہ اصطلاح کو مستعار لیا جائے ،تو ذرا ملفوف انداز میں ہم کہہ سکتے
ہیں ،ان کی ’’عقب زنی‘‘ کے چرچے پشاور سے لاہور اور کوئٹہ سے کراچی تک تھے۔ بعضے
پشتون بھائی تو بالخصوص ان کی اداؤں پر مرمٹتے تھے اور بعضے تو ان پر جان چھڑکتے
تھے ،محاورے کی حد تک نہیں ،اصل والی جان
۔ان کی دل پشوری کو آج تک ایسا کردار پشتو فلم انڈسٹری میں پیدا نہیں ہوا تھا۔بس یوں جانیے مسرت شاہین اپنے فن میں یکتا
تھیں۔
جب وہ انتخابی امیدوار ہوگئیں،تو ان کا’’ خبریں‘‘ لاہور
کےپنج محل والے دفتر میں بہت آنا جانا ہوگیا۔وہاں ان کی خوب آؤ بھگت ہوتی۔ان کے
انٹرویوز ہورہے ہیں،وہ رنگین صفحات کی زینت بن رہے ہیں،ان کی انتخابی سرگرمیوں کی
خبریں لگ رہی ہیں۔ مسرت شاہین کا مولانا
فضل الرحمٰن کے خلاف ’’یک طرفہ‘‘انتخابی میدان تو ڈیرہ اسماعیل خان
میں سجا تھامگر ایک بڑا صحافتی کارزار’’ خبریں‘‘ کے صفحات پر برپا ہوا تھا۔
دوسرے اخبارات بھی اپنے اپنے طور پر قومی اسمبلی کے اس حلقے میں انتخابی سرگرمیوں کی لمحہ بہ لمحہ کوریج کررہے
تھے اور اپنے قارئین کو باخبر رکھتے تھے۔یوں اخبارات کی اشتہارات اور بکری کی صورت
میں خوب کمائی ہوتی تھی اور یار لوگوں کے خوب وارے نیارے تھے۔وہ جب زَرق بَرق لباس پہنے خبریں کے دفتر میں وارد ہوتیں تو ہمارے بعض پیروجواں رپورٹروں کی ادائیں دیکھنے والی ہوتی تھیں۔ہم بس ان باذوق صاحبان کو بہ صد اشتیاق دیکھا
کیے اوردو ایک کی اداؤں کو دیکھ کرخوب
محظوظ بھی ہوتے تھے۔سب سے دل فریب
منظر وہ ہوتا تھا ، جب صحافی اس’’ ذابح
عقل ‘‘ نازنین کی بلائیں لے رہے ہوتے
تھے تو ان کے چہروں کے تاثرات ان کا جی کھٹا میٹھا ہونے کی بھی غمازی کررہے
ہوتے تھے۔اب ان کی ژاژخائی کا کیا
لکھنا۔ایک بار تو آنسہ بھی جھینپ کر رہ گئیں اور اپنے ممدوح کو مخاطب کرکے بولیں
:’’ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، کچھ خیال کریں۔‘‘اسلام آباد میں بھی ’’ خبریں‘‘ کے
دفتر میں آنسہ کی ایسی ہی آؤ بھگت ہوتی ہوگی کہ اس وقت تک خبریں کے ایڈیٹر خوشنود علی خان صاحب ہی تھے۔’’خبریں‘‘
اور ’’صحافت‘‘ کا بٹوارا نہیں ہوا تھا۔وہ خود صاحبِ ذوق تھے۔اگلے روز ان کی ایک ویڈیو دیکھی ،عمر ڈھلنے
کے ساتھ کم زور ہوگئے اور وہ صحافتی طنطنہ بھی برقرار
نہیں رہا جو کبھی ان کا طرۂ امتیاز ہوتا تھا۔
آنسہ مسرت شاہین کا آبائی تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے
اور وہ اس وقت تک اس ضلع میں قومی اسمبلی کے اکلوتے حلقے این اے 18 سے امیدوار بنی تھیں۔ یوں تو اس حلقے میں کل 12
امیدوار میدان میں اُترے تھے،لیکن اس وقت اخبارات نے مرچ مسالا اور تیزابی ٹوٹے
کچھ ایسے ڈال دیے کہ اصل مقابلہ مولانا
فضل الرحمٰن اور مسرت شاہین کے درمیان ہی
باور کرایا گیا۔ آج کے یوٹیوبروں کی طرح اس دور کے یوٹیوب چینل دوپہر اور شام کے اخبار ہوتے تھے۔ان کی خبروں
میں بارہ مسالے اور تیرھویں دال جملہ لوازم سمیت شامل ہوتی تھی۔ایسے لگ رہا تھا، آنسہ جی اپنے حریف مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو بھاری ووٹوں سے پچھاڑ دیں
گی۔دونوں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی
خبریں کم وبیش ہر اخبار میں شائع ہوتی تھیں۔اس زمانے میں رحمت شاہ آفریدی کا مشہور
زمانہ انگریزی اخبار فرنٹیئر پوسٹ بھی
پشاور اور لاہور سے چھپتا تھا۔وہ مسرت شاہین کی دل فریب اداؤں والی نیم عریاں
تصاویر چھاپتا تھا۔آج کے دور میں چھپ رہا ہوتا تو بہت نام کماتا۔یوٹیوبر اس کی
خبریں ہاتھوں ہاتھ لیتے۔
مسرت شاہین کی انتخابی مہم خوب چلی اور اس میں ’’باذوق
‘‘صحافیوں نے اپنا حصہ بہ قدر جُثّہ ڈالا۔ جب انتخابی
نتیجہ آیا تو پاکستان مسلم لیگ نون کے امیدوار الحاج سردار عمر فاروق خان میاں خیل
کامیاب ٹھہرے۔ انھوں نے 74486 ووٹ لیے، مولانا فضل الرحمٰن 53948 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے،آزاد
امیدوار فضل کریم خان کنڈی صاحب 16720 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے جبکہ ہمارےپشتون
بھائیوں کی آپی مسرت شاہین صاحبہ صرف 3131
ووٹ لے سکیں۔
اسی حلقے سے نوزائیدہ جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صاحب نے بھی الیکشن میں حصہ لیا تھا ۔انھیں تب کسی جنرل فیض حمید کی بیساکھیاں دستیاب نہیں
ہوسکی تھیں ۔چناں چہ اپنی مدد آپ کے تحت
انھوں نے پورے 6001ووٹ لیے تھے۔نصف
جن کے تین ہزار آٹھ ’’آنے‘‘ ہوتے ہیں۔تب انتخابی سیاست میں ان کی اس خراب کارکردگی
کی ایک وجہ اور بھی تھی ۔ان کے اتالیق ’’نافاتح ‘‘ جلال آباد جنرل حمید گل (مرحوم) انھیں دھکا دے کر
چلتے بنے اور دانشور ہوگئے
تھے جبکہ ڈیرہ وال ایسے مردم ناشناس
نکلے کہ وہ مستقبل کے ’’ امام
انقلاب ‘‘ اور وزیراعظم کی سیاست کو
سمجھ سکے
اور نہ بروقت ان کی قدروقیمت پہچان
سکے۔انھیں پہچان تب ہوئی جب گھومنے
والے لوٹے سے پرچی نکال کر امین اللہ گنڈا
پور کو ان کی قسمت میں لکھا جاچکا تھا۔ہائے رے
ڈیرے والوں کی کھوٹی قسمت۔اب کہ گورنر فیصل کریم کنڈی اس کا ازالہ کرنے کی
کوشش کررہے ہیں۔ وہ بھی ڈیرے سے ہیں ۔
اس انتخابی معرکے کی یک اور دلچسپ حقیقت ملاحظہ ہو ۔ الیکشن کمیشن پاکستان کی ویب گاہ پر اگر 1997 میں منعقدہ عام انتخابات کی رپورٹ ملاحظہ کریں
تو صرف دو جماعتوں یعنی پاکستان
مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کے آگے ان کی جماعت کا نام بھی لکھا ہے۔ باقی تمام
امیدواروں کو آزاد ظاہر کیا گیا ہے۔ نتائج
دیکھیں تو پتا چلتا ہے ، مولانا فضل الرحمٰن دوسرے نمبر پر
رہے تھے۔اب کے ان کے کہاں 53 ہزار نوسو
بلکہ 54 ہزار ووٹ اور 3100 ووٹ، لیکن اخبارات کی کوریج میں یوں باور کرایا
گیا کہ یہ مقابلہ بس ان ہی دو امیدواروں
کے درمیان تھا،باقی تو بس برائے وزن میدان میں اترے تھے۔آنسہ صاحبہ تو یہ سمجھ بیٹھی تھیں، وہ انتخابی کامیابی سے
ہم کنار ہوا چاہتی ہیں مگر قسمت نے یاوری نہیں کی اور وہ مولانا صاحب سے صرف 50 ہزار ووٹ پیچھے رہ گئیں۔تھوڑی اور محنت کرتیں تو عمران
خان کے برابر ووٹ حاصل کرہی لیتیں اور یوں مستقبل میں کسی فیض حمید سے سیاسی طور پر فیض یاب ہونے کے مواقع بھی پیدا ہوجاتے۔اس زمانے
میں فیض حمید شاید کرنل شرنل ہوں گے۔ورنہ آپی کی دال ضرور گل جاتی اور پارلیمان
میں بیٹھی ہوتیں۔انھیں پارلیمان میں دیکھ کر باقی ارکان جی ہی
جی میں خوش ہو لیتے۔
قصہ طولانی ہوگیا،اب دوبارہ انتخابی مہم کی طرف آئیے۔آنسہ کے بھائی جے یو آئی کے ہمدرد
تھے۔وہ اپنی آپی کی مولانا کے خلاف ’’خرمستانہ بیان بازی‘‘ پر سخت نالاں تھے اور انھیں
عملی طور پر بھی اس مشق لاحاصل سے باز رکھنے کو تیار تھے مگر شنیدہے کہ خود مولانا
صاحب نے انھیں اس طرح کی کسی حرکت سے باز
رکھا۔یہ بات ہمیں 1990 کے عشرے میں جے یو آئی کے ترجمان مولانا ریاض درّانی صاحب
مرحوم نے بتائی تھی۔وہ ایک شریف النفس ، علم دوست اور مہمان نواز شخصیت
تھے۔ریاض درانی مرحوم آنسہ مسرت شاہین کے بیانات کے جواب میں اپنا ردعمل دینے
خبریں کے دفتر میں گاہے گاہے تشریف لاتے تھے۔ان کی خبریں اور جوابی کالم ہم چھاپ
دیتے تھے کیونکہ ضیا شاہد صاحب کی اخبار کے شعبہ ادارت اور خبر کو یہ مستقل ہدایت
تھی کہ کسی معاملے کےفریقین کے مواقف من
وعن شائع کیے جائیں اور کوئی اسٹوری یک
طرفہ نہیں چھپنی چاہیے۔اگرکسی کالم نویس یا لکھاری کی تحریر کے ردعمل میں جے یو
آئی یا کسی اور جماعت کے
ترجمان خبریں اور مضامین دیتے ہیں تو ان کو بھی شامل اشاعت کیا جائے۔اسی پالیسی کی بدولت’’ خبریں‘‘ کو دوچار سال ہی میں
اخباری دنیا کے پرانے برگد وں کے مقابلے میں مقبولیت حاصل ہوگئی تھی۔
ان عام انتخابات سے قبل ان پر دُہری ذمہ داری آن پڑی تھی۔وہ جناب خالد سلطان کے ’’باؤنسروں‘‘
کا بھی ہیلمٹ کے بغیر جواب دینے کی کوشش کرتے مگر ان کی رفتار اتنی تیز ہوتی تھی
کہ مرحوم کی جواب آں غزل ابھی خامہ فرسائی کے مرحلے میں ہوتی اور ایک نیا انکشاف
انگیز باؤنسر خبریں کے ادارتی صفحہ پر چھپ جاتا۔ جانتے ہیں چلمن سے ، بلکہ چِک تان
کر یہ کاغذی باؤنسر کون پھینکتا تھا؟اپنے مشہور زمانہ میجر عامر صاحب دامت برکاتہ ۔ وہی
آپریشن مڈنائٹ جیکال والے۔لگتا یوں ہے، اس زمانے میں انھوں نے ہی مسلم لیگ ن بلکہ شریف برادران کی سیاسی ، صحافتی اور
انتخابی میڈیا پالیسی تشکیل دی تھی۔اس کا
مرکزی نکتہ یہ تھا:جس بھی تیز گفتار سیاست دان سے مستقبل میں کسی قسم کی گل افشانیِ گفتار کا اندیشہ ہوسکتا ہے، اس کا کسی ناکسی طریقے سے انتخابات میں مکو ٹھپ دیا جائے اور اس سے گلو خلاصی کرالی جائے تاکہ خاموشی سے حکومت کی
جاسکے۔گلیاں سنجیاں ہوں گی تو اس کے بیچ
صرف مرزا یار یعنی میاں صاحب ہی پھر سکیں گے۔
آپ پوچھ سکتے ہیں،اس اکھرکار کو ’’باؤنسر‘‘ کی حقیقت کا کیسے پتا چلا؟کرنا خدا کا یہ ہوا کہ خالد سلطان
صاحب کی میجر عامر صاحب سے کوئی اَن بن ہوگئی یا موخرالذکر کا اوّل الذکر سے کوئی
اختلاف ہوگیا ۔اس کے بعد چند دن تو باؤنسر کے نام سے آنے والے کالم رُکے رہے۔ہمیں
ایسے لگا، اندوختے سے مال ختم ہوگیا،اس لیے پترکار نے سوچا ہوگا،’’بے برکتی یا
آفتاب اقبالی نثر کا کیا لکھنا،اس سے تو پھر خاموشی ہی بہتر ہے‘‘، لیکن ابھی تھوڑاہی
عرصہ گزرا تھا کہ ایک اور نام سے کالم ہمیں شعبہ ادارت میں موصول ہونے لگے۔فدوی
کو ضیا شاہد صاحب مرحوم نے ایک دن بلایا اور بتایا کہ میجر عامر صاحب کے کالم اب
اس نام(رشید احمد) سے چھپیں گے، ان کا ایک نئے عنوان سے نیا لوگو بنوا لو۔میں نے کہا، جی ٹھیک ، فوری حکم کی تعمیل ہوئی۔پھر
رشید احمد صاحب کے نام سے کالم خبریں کے
ادارتی صفحہ کی زینت بننے لگے۔ان میں بہت
انکشاف انگیز معلومات ہوتی تھیں ۔ ان تحریروں کا بنیادی ہدف ظاہر ہے مولانا فضل الرحمٰن ہی ہوتےتھے۔
پھر سیاسی محاذ آرائی نے زقند بھریں
اور بات عائشہ گلالئی وزیر تک پہنچ گئیں۔انھوں نے دو اڑھائی ماہ قبل مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف سوقیانہ زبان استعمال کی تھی اور ایسے ایسے بے ہودہ الزامات عاید کیے تھے کہ اس پر ہمارے حقیقی
معنوں میں شریف النفس بزرگ دوست ڈاکٹر فاروق عادل صاحب بھی تڑپ اٹھے اور وہ یہ
کہنے پر مجبور ہوگئے:’’ اگر بات عائشہ گلالئی تک آگئی ہے تو پھر خاموشی اختیار کرلی جائے اور اپنی مزید جگ ہنسائی نہ کروائی جائے۔‘‘ان کا یہ صائب مشورہ صدا بہ صحرا ثابت ہوا۔ابھی اس کی صدائے بازگشت جاری تھی کہ
جناب محسن نقوی (نظام ڈھے پڑا فیم )میدان میں اُترآئے۔میدان میں تو خیر پہلے
ہی سے تھے۔اب وہ ہیں، ان کے ساتھی وزراء ہیں اوران کا مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ بیان بازی
کا مقابلہ ہے۔دیکھتے ہیں ، اس’’ بین الکلیاتی‘‘ مباحثے اور مناظرے کا انجام کیا ہوتا ہے اور اس میں حتمی فاتح کون ٹھہرتا ہے؟صحافتی اور سیاسی چیٹ باٹس
بھی اس میں لمحہ بہ لمحہ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
26 اکتوبر2026
پس تحریر
1۔ڈاکٹر خالد سلطان صاحب میجر عامر صاحب کے برادرِ نسبتی ہوتے ہیں۔ وہ
اخباری دنیا سے تدریس کی جانب آگئے تھے ،ابلاغِ عامہ/ صحافت میں پی ایچ ڈی کی، پروفیسر ہوگئے اور آج کل نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لنگویجز (نمل )اسلام
آباد میں ہوتے ہیں۔رشید احمد صاحب کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ میجر عامر صاحب
کے کزن ہیں۔کون سے کزن ہیں، چچا زاد یا
پھوپھی یا ماموں زاد، اس کا معلوم نہیں۔اس کا میجر صاحب یا ڈاکٹر خالد سلطان صاحب
ہی بتاسکتے ہیں۔
2۔فدوی صحافیانہ مشقت کے اس دور میں’’ خبریں‘‘ کے
ادارتی صفحہ کا انچارج تھا۔اس ادارے میں یکم ستمبر 1995 سے 19 نومبر1999 تک اسسٹنٹ
ایڈیٹر (ایڈیٹوریل) کی ذمہ داریاں انجام دیں۔پھر رزق روزنامہ انصاف لاہور لے گیا ،اوراس کے شعبہ
ادارت کا بھی اسسٹنٹ ایڈیٹر مقرر ہوا اور ادارتی صفحہ کا انچارج ٹھہرا۔
اس زمانے کی
صحافت کی تفصیل ان شاء اللہ آیندہ ’’اکھرکار‘‘ میں سلسلہ وار پیش کی جائے گی۔ اپنے
صحافتی ذوق کی تسکین کے لیے’’صحافت آن لائن‘‘ سے جڑے رہیے۔تحریر پسند آئے تو دوست احباب
کے ساتھ اس کی سانجھ کیجیے۔اس پر تبصرے کیجیے ،اپنی قیمتی آراء
اور مشوروں سے نوازیے۔
اللہ آپ کا حامی وناصر ہو۔
--------------
اداریہ
اکھرکار
عائشہ گلالئی
مولانا فضل الرحمٰن
خبریں
کالم نگار
میجرعامر

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں