صاحبِ تحریر پیشے کے اعتبارسے انجینیر ہیں مگر ان کی علم و کتاب دوستی مسلم ہے۔مطالعے کے دھنی ہیں اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں ملکوں ملکوں گھومے پھرے ہیں۔یوں وہ مطالعہ کتب کثیرہ ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع مشاہدات وتجربات کے بھی حامل ہیں۔عثمان قاضی اپنے مشاہدات اور تجربات کو اپنی تحاریر کے ذریعے قارئین کے استفادے کے لیے پیش کرتے رہتے ہیں۔ مرحوم جنرل عبدالوحید کاکڑ صاحب سے ان کے خاندانی تعلقات تھے اور ایک زمانے میں ان کے ہاں اٹھنا بیٹھنا رہا تھا۔اس کی ایک جھلک ان کی اس مختصر تحریر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
پاکستان
کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالوحید کاکڑ مختصر علالت کے بعد سوموار کو
راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ ان کا تعلق تحریک ِپاکستان کے رہ نما اور نسبتاً بے
داغ شہرت کے حامل سردار عبدالرب نشتر کے خانوادے سے تھا۔ اجداد کا تعلق موجودہ ضلع ژوب کے نواح سے تھا
جو چند نسل قبل ہجرت کرکے پشاور آ بسے تھے۔
میرا مرحوم سے کچھ گھریلو تعلق رہا ۔سو یہ چند سطور اس کی یادداشت پر مشتمل
ہیں۔
ہمارے ہاں، صحیح یا غلط، یہ تاثر پایا جاتا ہے
کہ اس قسم کے طاقت ور عہدوں پر فائز لوگوں کے لیے اپنی جیبیں بھرنا اور اپنی اولاد
کو بیرون ملک آباد کرنا اوّلین ترجیح ہوتا ہے۔ میں ذاتی معلومات کی بنیاد پر وثوق
سے کہہ سکتا ہوں کہ جنرل صاحب مرحوم کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ بیٹے نے دو
مرتبہ فوج میں شمولیت کے امتحان میں ناکامی کے بعد لاہور کی انجنیئرنگ یونیورسٹی
سے ڈگری حاصل کی، کچھ مدت بے روزگاری کے بعد چند سال ایک پرائیویٹ کمپنی میں
ملازمت کی اور پھر اپنی بچت اور اپنی پرانی دھرانی کار بیچ کر بیرون ملک قانونِ
تعمیرات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اب جز وقتی وکالت سے صرف گھر کا خرچ نکالتا
ہے اور زیادہ وقت تبلیغی جماعت کے ساتھ مصروف رہتا ہے۔ بڑی بیٹی گھریلو خاتون ہیں
اور ان کا شوہر ایک بین الاقوامی ترقیاتی ادارے میں ملازمت کر کے سفید پوشی قائم
رکھے ہوئے ہے۔ چھوٹی بیٹی نے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد طبی تحقیق کا شعبہ
اختیار کیا اور اس میں اختصاص حاصل کرکے، وہ اوران کا شوہر ملازمت کے ذریعے گھر چلا رہے
ہیں۔ کوئی شخص یہ دعوی ٰنہیں کرسکتا کہ
جنرل صاحب نے اپنی اولاد کے لیے اثاثے بنائے ہوں یا ان کے کیریئر میں کہیں ان کی
ناجائز پشت پناہی کی ہو۔
جب
جنرل صاحب کوئٹہ میں کورکمانڈر تھے تو بڑی بیٹی کی شادی کا مرحلہ درپیش آیا۔ جاننے
والے جانتے ہیں کہ اس عہدے پر فائز شخص کے صرف اشارۂ ابرو پر لوگ مال و اسباب کا
ڈھیر لگانے میں دیر نہیں لگاتے لیکن جنرل صاحب نے کراچی میں، کسی مرحلے پر فوج کی
جانب سے عطا کیا گیا پلاٹ اونے پونے بیچ کر خرچ پورا کیا۔
جنرل صاحب کو میں نے سرتاپا پیشہ ور سپاہی پایا۔
سیاسی معاملات میں ان کا دل نہیں لگتا تھا۔ 1983-84میں مرحوم گھریلو محفلوں میں
ہمیشہ اصرار کرتے رہے کہ فوج کے کوئی دور رس سیاسی مقاصد نہیں ہیں۔ لیکن جب ضیاء
الحق نے ایک اور وعدہ خلافی کرتے ہوئے اپنے نام نہاد ریفرنڈم کا اعلان کیا تو جنرل
صاحب میں اتنی شرم تھی کہ اس کے بعد کبھی ان موضوعات پر بات نہیں کی اور گھریلو
محفلوں میں جہاں میں اور دیگر نوجوان ہوتے، دیر تک بیٹھنا ہی بند کردیا۔
جب
ارجنٹینا (ارجنٹائن) نے برطانوی مقبوضے جزائر فاک لینڈز پر قبضہ کرلیا تو ہمارا
خیال تھا کہ برطانیہ کے لیے اتنی دور جا کر لڑنا ممکن نہ ہوگا۔ سچ پوچھیں تو
نوجوانی کے ضد سامراج جذبات کے تحت خواہش بھی یہی تھی۔ اس دور میں چوبیس گھنٹے
نشریات اور انٹر نیٹ وغیرہ کسی کے خواب و خیال میں نہ تھے۔ جنرل صاحب کی پیشہ
ورانہ دلچسپی کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے کہ بی بی سی اور دیگر ذرائع کی خبروں اور اٹلس کی
مدد سے میز پر ایک نقشہ بنا رکھا تھا جسے وہ دستیاب معلومات کی روشنی میں تازہ
کرتے رہتے تھے۔ جنگ چھڑنے کے تیسرے یا چوتھے روز انھوں نے اپنے جنگی داؤ پیچ کے
علم اور تجربے کی روشنی میں پیشین گوئی کردی کہ ارجنٹائن ہار جائے گا۔ ہمیں عجیب
بلکہ بُرا لگا، مگر نتیجہ وہی نکلا جیسا کہ جنرل صاحب نے بتایا تھا۔
جنرل
صاحب پر یہ اعتراض بجا ہے کہ انھوں نے ایک موقع پر اس وقت کے، ضیاء الحق کے تحفہ
آئین کی دفعہ اٹھاون- دو، بی (58-2-بی) کے ہتھیار سے مسلح صدر غلام اسحاق خان اور
بھاری مینڈیٹ کے دعوے دار وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان کش مکش اور عدلیہ کی
اندرونی تقسیم کے سبب پیدا ہونے والے آئینی بحران میں دخل اندازی کرکے دونوں کو
گھر بھجوایا اور نئے، ممکنہ حد تک منصفانہ انتخابات کا انعقاد کروایا۔ اس زمانے کو ذہن میں تازہ رکھنے والے احباب
جانتے ہوں گے کہ اس وقت کسی آئینی حل کی راہیں مسدود ہوچکی تھیں، اور کوئی راہ
سجھائی نہیں دیتی تھی کہ ملک اس بحران سے نکل سکے۔ جنرل صاحب مرحوم کی دخل اندازی
کے قانونی اور سیاسی جواز پر بحث ہو سکتی ہے، مگر ان کی نیک نیّتی کا ایک ثبوت یہ
ہے کہ اس قدام سے انھوں نے کوئی مفاد حاصل نہیں کیا بلکہ جب نئی منتخب وزیر اعظم
شہید بے نظیر بھٹو نے انھیں ملازمت میں توسیع کی پیش کش کی تو انھوں نے معذرت کر
لی تھی۔
اپنے دیگر کئی بزعم خود ہمہ دان سینیر اور جونیئر افسروں کے برعکس، ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل صاحب مرحوم نے نہ تو سیاسی جماعت بنا کر قوم کی مسیحائی کے شوق کا اظہار کیا، نہ اخبارات میں مضامین لکھ کر ملک کا قبلہ درست کرنے کی کوشش کی، نہ ٹی وی پر دفاعی تجزیہ کاری کے دھندے میں ہاتھ ڈالا، نہ ایکس سروس مین سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے اپنے آجر کے گروہی مفادات کے تحفظ میں بولنے کی کوشش کی۔ اپنے، حکومت کی جانب سے دیے گئے گھر میں گوشہ نشینی کی زندگی گزاری اور مختصر علالت کے بعد اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے۔
اللہ پاک ان کے ساتھ رحم کا معاملہ فرمائیں۔
--------------
#پاکستان
#پاکستان_ آرمی
#شخصیات
#جنرل_ عبدالوحید _کاکڑ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں