حکمران بالعموم مدح
سرائی ہی کے خوگر ہوتے ہیں۔وہ تو یہی
چاہتے ہیں کہ ہر دم ان کی مدح وستائش ہوتی رہے
اور ان کے گوبر کو بھی حلوہ بنا کر پیش کیا جائے، مگر یہ کیا؟ ہمارے بعض
صحافی بھائی تو ان کی توقعات سے کہیں بڑھ کر چاپلوسی کے فن کو بامِ عروج پر پہنچا
رہے ہیں۔سیاسی جماعتوں اور بعض سیاسی لیڈروں کے راتب خور روز سوشل میڈیا پر اپنی
پوسٹوں اور وڈیوز کے ذریعے ایسے ایسے
شگوفے چھوڑتے ہیں کہ کچھ نہ پوچھیے۔جیسا کہ کہاجاتا ہے:’’کیا پتا بعض چوروں اور
لفنگوں نے ڈاڑھیاں رکھ لی ہوں اور مساجد میں جُوتے چرانے کو آنے لگ گئے ہوں‘‘۔بالکل
ایسے ہی بعض مفاد پرست پیشہ صحافت میں درانداز ہوگئے۔آج ان کی تو پانچوں گھی میں
اور سر کڑاہی میں ہے،مالی ومادی ثمرات اینٹھنا کوئی ان سے سیکھے جبکہ ان کی
کارستانیوں کی وجہ سے لوگ پیشۂ صحافت ہی پر تھو کررہے ہیں۔اس کی ساکھ اور
اعتباریت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ یہ مفاد پرست ، تعلیم فروش ، پیمپر فروش ، پلاٹ
فروش اور صابن یا گھی فروش میڈیا مالکان کی بات نہیں ہورہی ہے بلکہ ان بزعم
خویش ’’مایہ ناز‘‘ صحافیوں کی بات ہورہی
ہے جو خود کو’’ طُرم خان باخبری ‘‘کہلوانے
کے دعوے دار ہیں مگر حقیقت یہ ہے،صحافیوں پر جب جب بُرا وقت آیا، آپ انھیں اربابِ
اقتدار وسیاست کے دسترخوانوں کی زینت پائیں گے جبکہ بعضے تو ایسے جرّی واقع ہوئے ہیں کہ پیشۂ صحافت کی کچھار سے برآمد ہونے کے
بعد سیاسی کارکنوں کی بستی میں جابسے اور حکومت مخالف سیاست دانوں ہی کو کسی پھپھے کٹن کی طرح توں طراخ کرنے اور دھمکیاں دینے پر اُتر آئے۔ایسا رویہ کس وظیفۂ صحافت میں شامل ہے۔ مگر یہ صاحبان وہی چند ایک وزراء اور مشیروں کی زبان بولتے ہیں جن کی تمام روٹی
روزی اور ملازمت گل افشانیِ گفتار کی مرہونِ منت ہے۔جونھی ان کی زبانیں گنگ ہوئیں تو سرکارکی ملازمت سے بھی چھٹی ہوگئی۔
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا،یہ صحافت کی کون سی قسم ہوئی۔
سیاست دان اپنے باہمی اختلافات سے خود نمٹیں یا خود نمٹائیں۔کسی صحافی کو کوئلوں
کی اس دلالی میں مُنھ کالا کرنے اور فریق
بننے کی کیا ضرورت ہے۔یہ الگ بات کہ بعض کا مُنھ کالا نہیں ہوتا بلکہ بیش قیمت
کریموں سے گورا چٹا ہوتا ہے لیکن وہ اپنی ’’سیاہ صحافت‘‘ کا کیا کریں گے؟ہماری
اپنی تاریخ یہ بتاتی ہے، جب جب صحافیوں نے سیاست دانوں کی لڑائی میں فریق بننے کی
کوشش کی تو نقصان ہمیشہ صحافت ہی کا ہوا۔پنجاب میں ممدوٹ ، دولتانہ لڑائی کو یاد کریں۔ اس میں جناب حمید نظامی مرحوم کی جانب
سے ایک فریق کی طرف داری کو تاریخِ صحافت نے کبھی معاف نہیں کیا۔انھیں کچھ مادی مفادات تو
حاصل ہوگئے لیکن اس واقعہ کو اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا جاتا۔ذوالفقار علی بھٹو کے طرف
دار ہوں یا ان کے مخالف جنرل ضیاء الحق کے
حامی صحافیوں کو صحافت کے کٹہرے میں آج بھی کھڑا کیا جاتا ہے تو میاں آپ کس کھیت
کی مولی ہیں، کوئی علمی پہچان ہے اور نہ صحافیانہ ساکھ ۔اس لیے اپنی اوقات پہچانیے
اور اسی میں رہیے۔نہیں تو سیدھے سبھاؤ میدان میں آئیے۔ اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت
کا فارم بھریے اور اس کے سیاسی کارکن ہوجائیے۔صحافت کی بیساکھیاں کیوں استعمال کرتے
ہو اور پیشۂ صحافت کو داغ دار کرتے ہو۔
ہمارے حقیقی عامل صحافی بھائی خود پر پیغمبری وقت کو ایک موقع
کے طور پر لیں۔وہ اپنی بات ڈھنگ اور سلیقے سے کریں اور ڈنکے کی چوٹ پر کریں۔یقیناً
آخری امتحان میں وہی سُرخرو ہوں گے۔انھیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ
صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے،یہ ستون صحافیوں کےاُجلے کردار سے برقرار رہتا ہے۔ان کا
کام انتظامیہ ، مقننہ ،عدلیہ اور بااثر لوگوں کے افعال وکردار کو ملکی آئین
وقوانین کی روشنی میں جانچنا، پرکھنا اور
ان کے حسن وقبح کو واضح کرنا ہے۔ وہ بس اپنے
اس کردار کو پہچانیں اور آئے دن گرتے اس چوتھے ستون کو سنبھالنے کی حتی الوسع سعی کریں۔
آج کے دن کا یہی پیغام ہے۔
فقط
والسلام
امتیازاحمدوریاہ
2 نومبر 2026
۔۔۔۔۔۔۔۔
صحافت
صحافی
اداریہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں