امتیازاحمد وریاہ
کسی
بھی زندہ زبان کی ساخت، الفاظ کی تشکیل اور لُغت ہمیشہ ایک سی نہیں رہتی۔ زبانیں
وقت کے دھارے کے ساتھ چلتی ہیں۔وہ اپنے اندرنئے الفاظ،نئی اصطلاحات اور نئی نئی
تراکیب سموتی اورارتقاکا اپنا سفرجاری رکھتی ہیں۔انگریزی یا کوئی بھی زبان ہو،اس
میں تبدیلی کا یہ عمل بتدریج اور بہتی ندی
کی طرح جاری رہتا ہے۔کوئی بھی زندہ زبان جامداورساکت نہیں ہوسکتی ہے بلکہ وہ مسلسل
تغیّرپذیراورارتقاپذیر ہوتی ہے۔اس کی کوئی متعیّن منزل بھی نہیں ہوتی کہ جہاں پہنچ کر یہ اعلان کر دیا جائے کہ زبان ہر لحاظ سے مکمل ہوگئی اور اب اس میں مزید الفاظ کو شامل کرنے کی
گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ایسا کسی زبان کے
معاملے میں ہوتا ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔زندہ زبانیں مسلسل تبدیلی کا عمل جاری رکھتی
ہیں۔یہی کچھ انگریزی، عربی ، فارسی ، فرانسیسی اور جرمن وغیرہ کے ساتھ
ہوا ہے۔انھوں نے وقت کے دھارے کے ساتھ
اپنا سفرمسلسل جاری رکھا ہے اور کوئی سائنسی ترقی ، ایجادات یا جدتیں ان کا راستہ
نہیں روک سکیں ۔
انگریزی
زبان وادب میں وقت کے ساتھ بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔مثال کے طور پرتیرھویں
اورچودھویں صدی میں جوالفاظ بولے اور لکھے جاتے تھے،زبان کا شناورکوئی ماہرآج شاید
ہی ان میں سے بیشترالفاظ کی پہچان کرسکے یا ان کے معانی بتاسکے۔انیسویں صدی کے
اوائل میں جوالفاظ وتراکیب استعمال ہوتے تھے،ان میں سے بیشتر اب متروک ہوچکے
ہیں۔زبان میں تبدیلی کا یہ عمل ایک اور چیز سے بھی واضح ہوتا ہے،وہ یہ کہ اس میں
مشکل، نامانوس اورادق الفاظ وتراکیب ایک خودکارتجرباتی عمل کے ذریعے متروک ہوتے
جاتے ہیں اور ان کی جگہ سہل اورعام الفاظ لے لیتے ہیں۔
انگریزی
زبان بین الاقوامی ابلاغیات اور رابطے کی زبان ہے۔اگریہ کروڑوں افراد کی پہلی یا
مادری زبان ہے تو اس سے زیادہ تعداد میں لوگوں اس کودوسری زبان کے طور پربرتتے
ہیں۔وہ اسی میں ابلاغ کرتے ، ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔
انگریزی
آج بین الاقوامی سفارت کاری کی زبان ہے۔یہ سائنس ،ٹیکنالوجی اورکمپیوٹرکی زبان
ہے۔تمام سائنسی ، مالیاتی ،معاشی ، سیاحتی ، سفری،ابلاغی اور میڈیائی اصطلاحیں اسی
زبان میں ہیں۔بین الاقوامی سطح اوربیشترمعاملات میں قومی سطح پر کوئی فردانگریزی
کے بغیر دوقدم آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔اس تناظر میں انگریزی زبان وادب کی تاریخ کا
مطالعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اسی کی روشنی میں ہم الفاظ اوران کے معانی کا
ادراک کرسکتے ہیں اور یہ پتا چل سکتا ہے کہ کوئی نیا لفظ یا نئی ترکیب کیسے
انگریزی زبان میں دخیل ہوئی تھی اور کن
قواعد وضوابط کے تحت اس کو زبان کا حصہ بنایا گیا تھا ۔ عین اسی طرح اس اصول کا اطلاق
اردو اور پنجابی زبانوں پر بھی کیا جاسکتا
ہے کہ کوئی نیا لفظ اور نئی ترکیب کیسے وضع کی جائے گی ،اس کے اصول کیا ہوں گے۔آیا
اس کٹڑ پن کوبرقرار رکھا جائے گا کہ صرف ایک ہی زبان کے دو الفاظ پر مشتمل ترکیب وضع ہوسکتی ہے یا دو مختلف
زبانوں کے الفاظ پر مبنی بھی ترکیب وضع ہوسکتی ہے اور وہ درست بھی ہوگی۔جیسے ہمارے
بہت سے بزرگ سنسنی خیز کو غلط قرار دیتے
ہیں لیکن ویب گاہ کو درست کہتے ہیں۔بعض علماء پنجابی یا دیگر مقامی زبانوں کے
الفاظ کے اردو میں سرے سے استعمال ہی کے خلاف ہیں اور انھو ں نے اردو کی مشہور
لغات میں سے چُن چُن کر ایسے الفاظ ، محاورات اور تراکیب الگ کر دی ہیں تاکہ اردو صاف رہے اور اہلِ زبان کے معیارات کے مطابق
ہو۔مثال کے طور پر ملاحظہ کیجیے ؛فرہنگِ اثر از اثر لکھنوی ۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تاریخ اور اس کے مختلف ادوار ہی سے زبان کے معیاری اور غیرمعیاری ہونے کا اندازہ
ہوتا ہے۔زبان کی تاریخ ایک حوالہ ہے جس کی کسوٹی پرنئے الفاظ وتراکیب کو پرکھا
جاسکتا ہے۔لسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کون سے الفاظ وقت کے دھارے کا ساتھ نہیں دے سکے اور وہ دوچار
قدم یا آٹھ دس قدم چلنے کے بعد ہزاروں دیگر الفاظ کا ساتھ چھوڑ گئے۔ آج کتنے لوگ ایسے الفاظ یا ان کے معنی جانتے ہیں۔ دور
کیوں جائیں۔ ٹھیک ایک صدی قبل کی اردو نثر اور شاعری کا آج کی نثر اور شاعری سے موازنہ کرلیجیے۔ فرق صاف نظر آجائے
گا۔اب تو مصنوعی ذہانت نے زبانوں کی تشکیل کے عمل کو اور بھی تیز کردیا ہے مگر کیا ہمیں مصنوعی ذہانت کے کسی ٹول (آلے)
کی مدد سے لکھے گئے کسی ادب پارے کو من وعن قبول کرلینا چاہیے یا اس کی قواعد ِ اُردُو
کے مطابق نوک پلک سنوارنی چاہیے اور اس میں بیان کردہ حقائق اور معلومات باریک
بینی سے جائزہ لینا چاہیے۔یہ ایک اہم سوال
ہے جس پر گہرے غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔اس پر سوچ بچار کرتے ہوئے ہمیں یہ حقیقت
فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کے مشینی آلات وہی کچھ سامنے لاتے ہیں یا
لائیں گے جو ان کے حافظے کا حصہ ہوگا یا وسیع تر اصطلاح میں جو کچھ اس کے ’’ڈیٹا بیس‘‘ میں شامل
ہوگا۔اس لیے ہمیں اس ڈیٹا بیس کو وقیع اور بااعتبار بنانے کی ضرورت ہے۔
قواعدِ
اُردُو
مصنوعی
ذہانت

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں