حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے قریباً ایک صدی قبل جو کہا، آج درست ثابت ہوتا نظر آرہا ہے۔زمانہ قبل از مشین میں ہم اپنے دل، دماغ و جسم استعمال کرتے تھے ۔ پھر مشینیں آ گئیں اب نہ پہلے جیسی جسمانی توانائیاں رہیں اور نہ دماغ کا وہ حال ، پہلے ہم اپنے حافظے کو استعمال کرتے تھے ۔ اب ہمارے جسم ،ہاتھ، دل اور دماغ مشینوں کے محتاج ہو چُکے ہیں ۔
زمانہ قبل از کمپیوٹر میں جب آتش نوجوان تھا ۔ روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقے صدر میں ہماری الیکٹرانکس کے پرزہ جات کی دُکان ہوا کرتی تھی ۔ ہمارے پاس ہزاروں مختلف اقسام کے آئی سی اور ٹرانسسٹرز نامی چھوٹے چھوٹے پرزہ جات ہوتے تھے۔ ان مختلف النوع اشیاء کے نمبر، قیمتیں، رکھنے کے مقامات اورتعداد سب کچھ یاد رہتا تھا ۔ پھر کمپیوٹر آیا تو رفتہ رفتہ ہمارا حافظہ جاتا رہا ۔ اب ہماری ’’دماغی میموری‘‘خالی ہوچکی ہے۔ ساری معلومات کمپیوٹر اور موبائل فون میں سمٹ کر رہ گئی ہیں ۔
کبھی میں سوچتا ہوں کہ اب تو مجھے اپنے بیٹے ، بیٹیوں ،بھائی، بہنوں کے موبائل فون نمبرز بھی یاد نہیں رہتے ہیں ۔اگر خدانخواستہ کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے کہ جب کسی انجان جگہ پر ہوں اور موبائل سے محروم ہو جاؤں، ہنگامی صورت حال کا سامنا ہو تو میں کسی فوری مددگارکارکن کو ایک فون نمبر تک بتانے کے قابل بھی نہیں رہا ہوں۔
ایلون مسک نے حال ہی میں آرٹی فیشیل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کو ایک’’سپر سانک سونامی‘‘سے تشبیہ دی ہے ۔ یہ سونامی انتہائی تیزی سے کمپیوٹر کے ذریعے کیے جانے والے کاموں کو اے آئی اور روبوٹس کے ہاتھوں میں دے کر افرادی قوت کی ضرورت کم کردے گا۔اب تک مصنوعی ذہانت کی پیش قدمی کی یہ ابتدائی شکل ہے لیکن اس کے اثرات ہر طرح کی ملازمتوں پر سامنے آنے لگے ہیں۔ یہ جن اب بوتل سے پوری طرح باہرآ چُکا ہے ۔ خدا جانے اس کا انجام کیا ہو گا لیکن اے آئی صرف ملازمتوں میں تصرف کا نام نہیں ۔ اس کا معاملہ بہت دور تک بلکہ حساس شعبوں تک جاتا ہے۔
ہمارے لڑکپن کے دوست برادر طارق جمیل بھولا والے، جو مختلف ادبی تنظیموں کے سرپرست اور شہر کی معروف ادبی تنظیم بزم شعرو سخن کے بانی صدر بھی ہیں، کے تشکیل کردہ علمی فورم’’ بزم مکالمہ‘‘ کے تحت ماہانہ نشست میں اہم موضوعات پر گفتگو ہوتی ہے اور اہل علم و دانش کو عالمانہ گفتگو کے لیے بُلایا جاتا ہے۔چند سال قبل ’بزم مکالمہ‘ کے تحت آرٹی فیشیل انٹیلی جنس کے موضوع پر پی ایچ ڈی اور آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ڈاکٹر مسعود محمود نے اپنی گفتگو کے دوران میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ جس طرح ایٹمی ہتھیاروں پر بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے کنٹرول اور پابندیاں ہیں، اسی طرح اے آئی کے جن کو بھی کسی بین الاقوامی معاہدے اور پروٹوکول کا پابند کیا جائے ۔اس کی بازگشت گذشتہ ہفتے اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی سُنی گئی ۔سنگاپور کے وزیر خارجہ نے اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اے آئی سے لاحق خطرات سے خبر دار کرتے ہوئے کہا:
’’دنیا کو AI کو کنٹرول اور ریگولیٹ کرنے کے لیے کسی بین الاقوامی ادارے اورسمجھوتے کی ضرورت ہے کہ اس کا استعمال صرف کاروبار ہی نہیں بلکہ بعض ایسی جگہوں پربھی ہورہا ہے جو انٹر نیشنل ٹیلی کمیونی کیشن یونین اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔یہ جن بوتل سے نکل چُکا ہے، اب اسے دوبارہ بند نہیں کیا جاسکتا۔ بہتر یہ ہوگا کہ دنیا اے آئی پر کام جاری رکھتے ہوئے اس کے بین الاقوامی حفاظتی قوانین کا نظام تیار کرے۔‘‘
اے آئی کے دفاعی اور جنگی استعمال کے بارے میں محدودعلم کی بنا پرراقم تبصرہ کرنے سے قاصر ہے اس لیے اپنی تحریر کو معیشت اور جاب مارکیٹ پر مصنوعی ذہانت کے اثرات تک ہی محدود رکھتا ہے۔اے آئی کے طوفان نے بازار میں ملازمتوں کا بحران پیدا کردیا ہے۔ اس کی ہرشعبے میں مداخلت کے نتیجے میں نو تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمتیں حاصل کرنے میں ہی دشواری کا سامنا نہیں بلکہ سینیر درجوں پر بھی ملازمتیں حاصل کرنے میں مشکلات درپیش آرہی ہیں۔
گولڈمین ساچ کے اندازے کے مطابق اے آئی کی وجہ سے دنیا بھر میں ابتدائی طور پر 30 کروڑ کارکنان متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کی اے آئی کے شعبے میں اب نئے پیشے وجود میں آئیں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے ۔اس لیے ملازمتوں کا حقیقی نقصان تو کم ہی ہوگا لیکن اس نئی جنگ میں جیتنے کے لیے غریب اور کمزور ممالک کے پاس وہ علمی ،فنی اور سائنسی وسائل نہیں کہ جن کو بروئے کار لار کر وہ اپنے نوجوانوں کے علاوہ پہلے سے جاب مارکیٹ میں برسرورزگار درمیانی عمر کے کارکنان کو بھی آنے والے وقت کے لیے تیار کر سکیں۔ فی الوقت اس سونامی کی ابتدائی لہریں زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں ہی محسوس کی جارہی ہیں۔ان کی انڈسٹری اورکاروبار نئی ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے میں ہمیشہ سبقت لیتے ہیں لیکن اس طوفان کے ابتدائی مگر قدرے کم زور جھکّڑ تیسری دنیا کے ممالک میں بھی چل رہے ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ بین الاقوامی اداروں نے دنیابھر میں اپنی افرادی قوت میں چھانٹیوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اس کی ایک وجہ مصنوعی ذہانت کے اس کھیل میں آئی ٹی ٹیکنالوجی سے وابستہ قریباً ہر بڑا بین الاقوامی کھلاڑی نئی ٹیکنالوجی کے حلوے میں اپنا حصہ چاہتا ہے ۔اس کے اثرات پوری دنیا میں نظر آ رہے ہیں ۔ ان کمپنیوں نے جنوب مشرقی اور جنوبی ایشیا کے ترقی پذیر ممالک میں اپنے دفاتر بند کرکے افرادی قوت میں کمی کی ہے۔اس طرح اخراجات میں بچت کے ذریعے اس ٹیکنالوجی سے منسلک ڈیٹا مراکز کی تعمیر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے اور مقصد کے لیے وسائل پیدا کیے جارہے ہیں۔اے آئی ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی کے عمل کے دوران میں گذشتہ دوسال میں ٹیکنالوجی سیکٹر نے دنیا بھر میں قریباً پانچ لاکھ ملازمین کو فارغ کیا ہے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ملازمین کی چھانٹیوں میں مائیکروسافٹ، اوریکل، میٹا (فیس بُک) اور سیلز فورس ایسے ادارےقابل ذکر ہیں۔
کئی کمپنیوں نے پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک میں اپنے دفاتر بند کرکے سارے عملہ کو گھر بھیج دیا ہے۔ ان ممالک میں کثیر قومی کمپنیوں کی کی افرادی قوت مختصر ہوتی ہے اورزیادہ تر سیلز اور ٹیکنیکل سپورٹ کے افراد ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کمپنیوں کی رخصتی کی خبریں شہ سرخیاں نہیں بنتی ہیں لیکن جن افراد کی ملازمتیں ختم ہوتی ہیں، ان کے خاندانوں پر منفی اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی کمپنیوں کی ملازمت چھوٹنے کے بعد مقامی اداروں میں ملازمت مل بھی جائے تب بھی پہلی جیسی تن خواہیں ،فوائد اور سہولتیں ملنا مُشکل ہوتا ہے ۔ اتفاق سے کسی اور بین الاقوامی کمپنی میں ملازمت مل جائے تو اوربات ہے۔میرے ایک عزیز ایک بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں، انھیں پاکستان،سری لنکا اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی فہرست دی گئی ہے اور انھیں کہا گیا ہے کہ ان افراد کو مناسب طریقے سے کمپنی کی طرف سے ملازمت کے خاتمے کی خبر دے دی جائے۔یہ ان کے لیے ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ ان میں سے چند ایک کو اس ادارے میں وہ خود ہی لائے تھے لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ اس سلسلے کی پہلی قسط ہے۔ ان کا فیصلہ سازی میں کوئی کردار نہیں ہے ۔ وہ تو صرف پیغام رساں ہیں ۔آج وہ کسی اور کو پیغام دے رہے ہیں کل کوئی اور ان کے لیے ایسا ہی پیغام لائے گا۔ اُنھوں نے بھی وقت کے اشارے کو سمجھ کر خاموشی سے اپنے لیے نئی منزل کی تلاش شروع کردی ہے لیکن سیلابی موسم میں پانی کی قدر کوئی نہیں کرتا۔اچھی بات یہ ہے کہ ایسے اداروں میں کام کرنے والے اپنے اپنےشعبے کے بہترین افراد ہوتے ہیں اور وہاں چند سال کام کرکے نکلنے والے افراد کو مقامی انڈسڑی میں ہاتھوں ہاتھ لیاجاتا ہے۔ انھیں ملازمت سے فراغت کے بعد کچھ عرصے کے لیے پریشانی تو ضرور ہوتی ہے لیکن پھر کہیں نا کہیں انھیں اچھا روزگار مل ہی جاتا ہے۔
(جاری ہے)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں