امتیازاحمدوریاہ
کیا یہ اشعار حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ (1142 -1236) کےہیں؟جواب یہ ہے کہ یہ اشعار حضرت خواجہ اجمیری کے نہیں ، بلکہ ان ہی کے ہم نام ملّا معین الدین ہروی کے ہیں۔ یہ موصوف ہرات کے رہنے والے تھے اور حضرت ملّا جامی کے ہم عصر تھے۔یار لوگوں نے ان کا پورا کلام کتابی شکل میں مرتب کیا اورحضرت خواجہ اجمیریؒ کے نام منسوب کرکے چھاپ دیا ۔اس پر پروفیسرحافظ محمود شیرانی صاحب کا تحقیقی مقالہ موجود ہے۔انھوں نے ہرانداز سے ان سے منسوب کلام/ دیوان کا تجزیہ کیا ہے،زبان، محاورے ،الفاظ کی نشست وبرخاست،زبان کے تاریخی دور وغیرہ کا تنقیدی جائزہ لیا ہے ۔
وہ
لکھتے ہیں:’’زبان میں کچھ اس قسم کی گھلاوٹ اور لطافت موج زن ہے جو خواجہ معین
الدین (چشتی) کے ایّام میں قطعی نامعلوم تھی۔ناتمام بندشیں اور ترکیبیں متاخرین کے
طرز کی پائی جاتی ہیں۔ادائیگیِ خیالات کے لیے الفاظ کے بوقلموں پیرائے شاعر کے
قبضے میں ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ غزل کی زبان اس عہد تک ترقی اور وسعت بہ
درجۂ کمال پاچکی تھی۔‘‘
واقعہ
کچھ یوں ہوا تھا کہ مطبع منشی نول کشور لکھنؤ نے ان کے نام سے ایک دیوان بلاتحقیق چھاپ دیا تھا
جبکہ ان کے تذکرہ نویسوں کوان کے صاحبِ دیوان ہونے کا ہنوز کوئی سراغ نہیں مل سکا
ہے۔یہ دیوان پہلی مرتبہ 1871ء میں طبع ہوا تھا۔تب سے اس کے متعدد ایڈیشن چھپ چکے
ہیں۔مولوی اور ذاکرحضرات اپنی تقریروں میں
اس رباعی کو بالخصوص محرم الحرام کے ایام میں خوب لہک لہک کر پڑھتے ہیں،حضرت
اجمیری سے فخریہ انداز میں اس کو منسوب کرتے ہیں اور اپنے سامعین وناظرین سے خوب
داد پاتے اور دام وصولتےہیں۔خیر، تحقیق ان
واعظوں یا ذاکروں کے بس کا روگ نہیں۔وہ تو
تاریخ اسلام سے متعلق ایسے ایسےمن گھڑت واقعات ایسے بیان کرتے ہیں جیسے وہ زمانی
بُعد پاٹتے ہوئے ان کےعینی شاہد رہے ہوں
لیکن آپ کو مستند تاریخی کتب میں ان کا
کوئی سراغ نہیں ملے گا۔
سوال
یہ ہے کہ اب یہ کیسے پتا چلے کہ حضرت خواجہ اجمیری صاحب سے منسوب کلام ان کا نہیں بلکہ ملّا معین الدین
ہروی (فراہی) کاہے۔حافظ محمود شیرانی صاحب نے اس موضوع پر خوب دادِ تحقیق دی ہے اور ان کے حاصلِ تحقیق کی تردید کےلیے عشروں گزر
جانے کے باوجود کوئی صاحبِ ذوق نقاد سامنے نہیں آیا ہے۔ملّا معین مصنف کتبِ کثیرہ
تھے اوروہ اپنی کتب میں جابجا اپنے اشعار نقل کردیا کرتے تھے۔ان کی سیرت نبوی صلی
اللہ علیہ وسلم پر ایک مشہورکتاب ’’معارج النبوۃ فی مدارج الفتوۃ‘‘ ہے۔بحرالدرر کے
نام سے قرآن مجید کی تفسیر بھی ہے۔ان میں
اوردوسری کتب میں انھوں نے اپنی پوری پوری غزلیں یا ابیات نقل کیے ہیں۔جب حافظ محمود
شیرانی صاحب نے حضرت اجمیری ؒسے منسوب دیوان کا ملّا معین کے کلام سے موازنہ کیا تو اس میں شامل پندرہ
غزلیں ملّاجی کی صرف ایک کتاب سے نقل شدہ نکل آئیں۔باقی کلام کا انداز خود کیا
جاسکتا ہے۔
وہ
لکھتے ہیں کہ ’’خواجہ اجمیری کے تذکروں میں نہ صرف آپ کے کسی دیوان بلکہ آپ کے
ذوقِ شعر تک کا ذکر نہیں ملتا۔‘‘یعنی وہ سرے سے شاعر ہی نہیں تھے۔اس لیے ان سے
منسوب اس رباعی کی تشہیر سے گریزکرنا چاہیے یاکم سے کم شاعر کے طور پر ان کا نام
نہ لیا جائے تو یہ ان کی ذاتِ گرامی پر بہت بڑا احسان ہوگا لیکن کیا کیجیے ، کون
مان کے دیتا ہے اور بات وہی ،ایک ملّا جی والی ہے،’’ہم نے تو ایسے ہی پڑھا، سنا ہے اور ایسے ہی آگے پڑھائیں
گے۔اگر منظور ہے تو ٹھیک ، ورنہ اپنی راہ لیجیے‘‘۔ملّا معین کے ایک اور پیروکار اس
بات پر اٹک کررہ گئے ہیں کہ کلام کے انتساب کو ایک طرف رکھیے
اور اس کے مفہوم و پیغام کو دیکھیے،اس میں کیا خرابی ہے۔اس
کے بعد تو خاموشی ہی بنتی ہے۔ویسے بھی ہمارے دوست ڈاکٹر عزیراحمد رانا کہتے ہیں،یہ
جین زی کا دور ہے،اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اس نے ’’بھینس اڑتے دیکھی ہے‘‘ تو اس کی
بات مان لینی چاہیے،کیا پتا ،کہیں ڈرون کی شکل میں اڑ رہی ہو۔اب زمانہ ہی ایسا آگیا ہے۔علمی غلطی کو تسلیم کرنے کا تو کسی میں یارا ہی نہیں۔ کیا کیجیے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں