امتیازاحمد وریاہ
ہمارےیہاں ، تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد بعض لوگ بڑی ڈھٹائی سے یہ دعویٰ کرتے پائے جاتے ہیں کہ پاکستان کی جامعات میں تو خود بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ پر تحقیق کرنے پر پابندی ہے۔اب اس نامعقول دعوے پر کوئی کیا کہے گا۔ صرف یہی کہ بھائی لوگو، کوئی عقل ودانش کو ٹاکی شاکی مارو، کوئی ہوش کے ناخن لو، یہ دعویٰ کس بنیاد پر کرتے ہو۔کوئی کتاب پڑھ لو، تحقیقی مجلات کی ورق گردانی کرلو لیکن ایسے کاموں سے یہ لوگ کوسوں دور بھاگتے ہیں۔
اگر ان سے پوچھا جائے ، میاں ہیکٹر بولائتھو کا نام توسنا ،پڑھا ہوگا تو آئیں، بائیں، شائیں مارنے لگ جائیں گے۔ اچھا انھیں نہیں جانتے۔ سروجنی نائیڈو کا تو سنا ہوگا، جن کی کتابMohomed Ali Jinnah: An Ambassador of Unity ہے۔اب یہ نہ کہہ دیجیے کہ کتاب کے ٹائٹل میں تو لفظ محمد کے انگریزی ہجے ہی غلط لکھے ہیں اور ’ایم‘ کے بعد’ او‘ نہیں،’ یو‘ ہونا چاہیے تھا۔ نہ بھیّا ، اصل انگریزی کتاب میں بلبلِ ہند سروجنی جی نے ایسے ہی لفظ محمد کے ہجے لکھے ہیں اور اس کا دیباچہ راجا صاحب محمود آباد نے لکھا ہے۔اب کہو گے،یہ راجا صاحب کہاں سے آگئے۔ مطالعہ پاکستان پڑھا ہو تو پتا ہو ، جس پر روز پھبتیاں کستے ہو اور سمجھتے ، یہ مضمون تو بس امتحان میں نمبر لینے کے لیے ہے۔باقی اس کا ہمارے علمِ تاریخ سے کیا لینا دینا۔
ہمارے
پرائمری پاس چالو جملے لڑھکانے والے بزعم خویش یہ دانشور اگر صرف نیٹ گردی ہی کرلیں
تو انھیں معلوم ہو کہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ پر دس پندرہ مقالے
تو دستیاب ہیں۔ یہ سب پی ایچ ڈی کی سطح کے ہیں۔ایم فِل اور ایم اے کی سطح کے
مقالوں کا کوئی شمار ہی نہیں۔ صرف ہائرایجوکیشن کمیشن( ایچ ای سی) کی ویب سائٹ دیکھ لیں تاکہ ان کی
معلومات میں اضافہ ہو، لوگوں کی جگتوں اور خود پر جہالت کی تہمت سے بچ سکیں۔
سارا
دن موبائل پر انگشت زنی کرتے رہیں گے۔ نہیں، مشکل اصطلاح ہے، تو یوں کہہ لیں، انگلیاں گھساتے رہیں گے
یا پھیرتے رہیں گے، پڑھ لیں۔کبھی کوئی درفنطنی چھوڑیں گے تو کبھی کوئی ٹمکیری۔ خود
تشکیک کا شکار ہیں اور سمجھتے ہیں دوسرے بھی ایسے ہیں۔بظاہر خود کو بڑا پڑھا لکھا
ظاہر کریں گے،ایک دم شہری بابو ، یورپ پلٹ،تمام جدید فلسفے اور افکار کے ہنڈ وَرت
، دوسروں پر اپنی علمیت کا رعب گانٹھنے کے لیے بڑی مشکل ،ادق اصطلاحیں استعمال کریں گے
لیکن جب ایسے کسی کھِدّو نما بابو کو پھرولیں تو لیرو لیر۔ اب یہ نہ کہیے، یہ کھِدّو
کیا چیزہوتی ہے۔بھئی ٹاکیوں ، دھگے سے بنی گیند۔ہم پنجابی لوگ اسے کھِدّو بولتے ہیں۔اسی سے لڑکے بالے کسی زمانے میں کھدوٹلا کھیلتے تھے۔
ہاں
،اگر آپ کسی بھی موضوع پر نیٹ پر دستیاب کتاب کو گوگل یا کسی اور سرچ انجن کے ڈیٹا
بیس میں تلاش کرنا چاہتے ہیں تو اس کو اس انداز میں لکھ کر
"Introduction
to Sociology" filetype:pdf
تلاش
کرسکتے ہیں۔بس ’’ تعارفِ سماجیات‘‘ کی جگہ اپنی مطلوبہ کتاب کا نام لکھنا ہے۔ یہ نہ ہو
کوئی ’’دانشور‘‘ صاحب کتاب تو قائداعظم پر تلاش کرنا چاہتےہیں مگر انہی الفاظ کو تلاش کے خانے میں کاپی پیسٹ کردیں۔اس کی جگہ یہ لکھ سکتے ہیں:
اگر آپ
گوگل پر PDF شکل میں کتابیں آسانی سے تلاش کرنا چاہتے ہیں تو اس کے
لیے چند بہت ہی سادہ اورکارآمد نسخے یہ ہیں۔:
1۔ سب سے موثر طریقہ: filetype سرچ
گوگل
میں کتاب کا نام لکھ کر آخر میں یہ الفاظ شامل کریں:filetype:pdf
مثلاً:Psychology
book filetype:pdf
یا اردو میں:اردو لغت filetype:pdf
اس سے
پیر صاحب گوگل شریف دامت برکاتہ صرف PDF فائلیں ہی دکھائیں
گے۔ان میں سے اپنی مطلوبہ کتب ڈاؤن لوڈ کرلیجیے یا آن لائن پڑھ لیجیے۔
2۔ کتاب کے نام کو کاموں/کوٹس (" ") میں لکھیں۔
اگر آپ
کو کتاب کا درست نام معلوم ہے تو اسے کوٹس میں لکھیں تاکہ گوگل بالکل وہی نام تلاش
کرے۔
مثال:"Emergence
of Pakistan" filetype:pdf
3۔ مصنف + کتاب کا نام + PDF
اگر
کتاب مشہور/کثیرالاشاعت ہو تو مصنف کا نام شامل کرنے سے سرچ عمل اور بھی سہل
ہوجاتا ہے۔مثلاً :
Paulo Coelho
"The Alchemist" filetype:pdf
4۔ موضوع کے ساتھ PDF لکھیں۔اگر آپ کو
کتاب کا نام نہیں معلوم، صرف موضوع معلوم ہے تو یوں لکھیں :Islamic history pdf
یا
اردو میں: تاریخِ پاکستان یا پاکستان کی تاریخ pdf۔
5۔ مخصوص تعلیمی ویب سائٹس کو ٹارگٹ کریں۔کئی جامعات کی ویب گاہوں پر PDF کتابیں اور نوٹس دستیاب ہیں۔ ان کو سرچ میں شامل کریں:site:edu sociology pdf
یعنی
پہلے اس یونیورسٹی کی ویب سائٹ سائٹ کا پتا لکھیں اور پھر کتاب کا نام اور پی ڈی
ایف یا site:gov.pk
agriculture pdf
6۔ کتاب کے نام کے ساتھ "download" یا "free" کے الفاظ شامل کریں۔بعض اوقات یہ اضافی الفاظ سرچ کو مزید بہتر بنا دیتے ہیں:Pakistan notes pdf downloads
تو جناب لیجیے ، شروع ہوجائیے۔ دودن کے بعد 14 اگست ہے، پاکستان اور قائداعظم پر نایاب تحقیقی کتب ان بتائے گئے طریقوں کی مدد سے تلاش کیجیے اور پڑھیے۔
.png)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں