📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

پیر، 10 اگست، 2026

مُغوِی، مُغوَی(مُغوا) اور اِغوا


 

امتیازاحمدوریاہ

ہمارے اردو کے خبری میڈیا میں بالعموم ایک لفظ کا غلط استعمال کیا جاتا ہے اور یہ لفظ ہے مُغوِی (اسم فاعل)۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اغلب   گمان ہے کہ اس کو لاعلمی کی بنا پر اسم مفعول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس کو غلط العوام قرار دے کر قبول کرلیا گیا ہے لیکن  ہے  اس کا یوں استعمال غلط ہے۔  خبروں میں اکثر آپ نے پڑھا ، سنا ہوگا: کچے کے علاقے یا فلاں جگہ سے مغوی بازیاب۔اغواکاروں کا مغوی کو رہا کرنے کے لیے اتنے لاکھ روپے تاوان  دینے کا مطالبہ، وغیرہ۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایسی خبروں میں لفظ ’’مغوی ‘‘کا درست استعمال کیا جاتاہے؟
لفظ مغوی  اسم فاعل ہے، مفعول نہیں۔ جس طرح لفظ  مُغنِی (گانے والا) ہے۔
مُغوی کا عربی وزن مُفعِل ہے۔اس کا اصل فعل اِغویٰ (اغوا) یُغوی باب اِفعال ہے۔یہ اسم ‏فاعل ہے اور اس کا معنی گم راہ کرنے والا یا بہکانے والا ہے۔عام ‏خبری اصطلاح میں اس سے مراد کسی دوسرے فرد کو اِغوا کرکے لے ‏جانے والافرد ہے۔ یعنی اغوا کرنے والا نہ کہ اغوا ہونے والا۔
یوں اس کا اغوا ہونے والے شخص کے معنی میں  اسم مفعول کے طور پر ‏استعمال غلط ہوگا۔اغوا شدہ کے لیے یرغمال یا اغوا کیا گیا یا اغوا کرنا ‏وغیرہ جملے کی ساخت کے مطابق استعمال کرسکتے ہیں۔
مغوی کے ضمن میں ریختہ کی لغت میں اندراج غلط ہے اور اس نے م پر زبر لگا کر لفظ کو مَغوی  (مغ وی) کردیا ہے لیکن اسم مفعول کے اوزان میں یہ معروف نہیں بلکہ خود وضع کردہ ہے۔پھر اس نے اس  کے مونث لفظ ’’مغویہ‘‘ کے معنی مذکر لکھے ہیں :  اغوا کرنے والا اور اس کو درست املا قرار دیا ہے۔نجانے کیسے؟
مُغوی میں م پر پیش (ضمہ) ہے ،اگر اسم مفعول بنانے کے لیے اعراب میں تصریف ہوگی تو م پر نہیں بلکہ تیسرے حرف واؤ (و) پر ہوگی اور اس پر زیر(کسرہ) کے بجائے زبر(فتحہ) آئے گی اور لفظ مُغوَی (مغوا) بنے گا۔ یعنی اغوا کیا گیا یا اغوا ہونے والا۔

اب اتنے تردد میں کون پڑے۔ پھرہمارے نیوز اینکروں یا نیوز اینکرنیوں کی جو علمی استعداد ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ ان دونوں لفظوں کے تلفظ میں کوئی تمیز نہیں کرسکیں گے کہ یہ مُغوِی یا مُغوَی (مغوا)ہے۔اس کے لیے اچھی خاصی مشق کرانا پڑے گی ، ورنہ ہمارے یہاں تو مایہ ناز اینکر/ اینکرنیاں   لفظ  بارودی کو ’’باوردی‘‘ اور کتابچہ کو  کُتا و بچہ پڑھتے  سنے گئے ہیں۔ وعلیٰ ہٰذالقیاس۔

اردو کی دو بڑی لغات ؛ فرہنگ ِ  آصفیہ اور نُوراللغات میں اس لفظ مغوی  کا سرے سے اندراج ہی نہیں۔البتہ فرہنگِ عامرہ میں  ’’ مُغوِی‘‘ کا اسم فاعل  کے طور پر اندراج  ہے اور معنی گم راہ کرنے والا لکھے ہیں۔(صفحہ601)

’’اُردو لغت تاریخی أصول پر‘‘ میں  مغوی کے تحت درج ذیل الفاظ اور معانی کا اندراج ہے:

’’مَغوی:جسے اغوا کیا گیا ہو ۔

 مُغوی:۱۔ بہکانے والا ، گمراہ کرنے والا ۔۲ ۔ اغوا کرنے والا

 مَغوی:جسے اغوا کیا گیا ہو ۔

 مُغوی:۱۔ بہکانے والا ، گمراہ کرنے والا ۔۲ ۔ اغوا کرنے والا

 مُغویانَہ:گمراہ کرنے والوں کا سا ، گواہی پر مبنی ، گمراہ کن ۔

 مَغویَہ:وہ عورت جس کو اغوا کیا گیا ہو ، اغوا شدہ ۔

مُغوِیَہ:رک : مغویہ جو اس کا درست املا ہے۔‘‘

اس تفصیل کے بعد اب آپ کی مرضی آپ  مغوی کواپنی تحریر یا بول چال میں کیسے برتتے ہیں۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template