امتیازاحمدوریاہ
اسلام
آباد میں دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر خون
کی ہولی کھیلی ہے اورنمازِ جمعہ کے وقت ایک عبادت گاہ کو نشانہ بنایا ۔اللہ تعالیٰ
کا فرمان تو یہ ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔اس واقعہ
میں تو دمِ تحریر 31 جیتے جاگتے عبادت گزار
جاں بحق ہوگئے اور170 زخمی ہوئے لیکن المیہ ملاحظہ کیجیے، ٹیلی ویژن چینلوں نے دہشت
گردی کے واقعے کی پوری خبر نہیں دی۔کسی نے اس افسوس ناک سانحے کی خبر دی ہے تو ساتھ بسنت
کے بوکاٹا والے کلپ چل رہے تھے۔حمیّت نام تھا جس کا۔۔۔۔۔۔۔۔افسوس ۔یہ کون سی
صحافت ہے؟میڈیا مالکان کا یہ رویہ افسوس
ناک ہی نہیں، شرم ناک بھی ہے کیونکہ وہی اپنے اپنے ٹیلی ویژن چینل سے نشر ہونے والے
مواد کے حتمی ایڈیٹر اور گیٹ کیپر ہیں۔
اسلام آباد میں حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کا یہ
کوئی پہلا واقعہ نہیں۔اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے ،کم ہے۔اس سے پہلے سیکٹر جی الیون میں واقع ضلع عدالتوں میں نومبر 2025میں
خودکش بم دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں بارہ افراد مارے گئے تھے۔پاکستان کے شمال
مغربی سرحدی صوبہ خیبر پختونخوا کے افغانستان
سے متصل علاقے اور صوبہ بلوچستان ایک عرصے
سے دہشت گردی کی زد میں ہیں لیکن حالیہ برسوں کے دوران میں اسلام آباد اور پنجاب
میں دہشت گردی پر کافی حد تک قابو پالیا
گیاہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف مختلف علاقوں میں
کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ ان میں لاتعداد دہشت گرد جنونیوں اور اغیار کے آلہ کار قاتلوں کو نیست ونابود
کیا ہے اور ان کے منظم نیٹ ورکس کو توڑا ہے لیکن اس سب کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا
کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگیا ہے،وگرنہ دہشت گرد عناصر بے گناہ شہریوں کو یوں آزادانہ
اپنی مجرمانہ اور بزدلانہ کارروائیوں میں نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔اسلام
آباد اور دوسرے بڑے شہروں میں کسی
بھی قسم کی مشکوک سرگرمی کی نگرانی کے لیے جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں اور ان کے ذریعے شہریوں ، گاڑیوں سمیت
ہر قسم کی نقل وحرکت کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے لیکن اس میں کوئی دو رائے
نہیں کہ ہمہ وقت اس چوکسی کے باوجود ہر بندے پر کیمرے کی نظر رکھنا اگر ناممکن
نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ پھر دہشت گرد عناصر بھی اپنی مجرمانہ کارروائیوں کو انجام
دینے کے لیے نت نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں اور انھیں ان کے پشتیبان ممالک یا عالمی
دہشت گروہ ہرقسم کی ٹیکنالوجی اور سہولت مہیا کرتے ہیں ۔ان کی تمام سرگرمیاں ایک پیچیدہ ، پُراسرار اور کثیر جہت عمل کے
ذریعے انجام پاتی ہیں۔نیز ان دہشت گردوں کو اندرون اور بیرون ملک سے مذموم مقاصد
کے حامل پاکستان دشمن عناصر اور بعض پڑوسی ممالک کی حمایت حاصل ہے ،وگرنہ کسی مسلح
جتھے یا دہشت گردتنظیم کے لیے ایک لمبے عرصے تک سکیورٹی اداروں سے برسرپیکار رہنا
اورشہروں کےمصروف بازاروں ، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات میں عام شہریوں کو نشانہ
بنانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔
وطنِ عزیز سے دہشت گردی کے مکمل استیصال کے لیے سکیورٹی
اداروں کے ساتھ ساتھ مذہبی اور سیاسی
قیادتوں کو بھی یک سو ہونا چاہیے۔دینی جماعتوں کو بالخصوص یہ سمجھنے کی اشد ضرورت
ہے کہ دہشت گرد ان کے مشترکہ دشمن ہیں ۔ان کا کوئی دین و مذہب ہے اور نہ کسی مسلک اور فرقے سے تعلق ہے ۔لہٰذا ان
سے نمٹنے کے لیے مذہبی ، سیاسی ، انتظامی اور حکومتی سطح پر مربوط اجتماعی کوششوں اور اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت
گرد کسی رورعایت کےمستحق نہیں۔اب تک کے شواہد کی بنیاد پر یہ کہا جارہا ہے کہ دہشت گردوں کو پاکستان کے
بعض پڑوسی ممالک کی سرپرستی حاصل ہے، نجانے کیوں ہمارے پڑوسی ممالک نچلا بیٹھنے کو
تیار نہیں۔ اس پہلو کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان تو خطے میں
امن کا خواہاں ہے لیکن اس کے مشرقی اور مغربی ہمسایہ ممالک دہشت گردوں کی سرپرستی
کے ذریعے خطے کے امن وامان کو تہ وبالا کرنے کے درپے ہیں۔
لاہور میں بسنت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کتاب میلہ
بھی جاری ہے، وہاں لوگ بڑے تعداد میں شریک ہورہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے کتب
میلوں کے دیرپا اثرات کیا مرتب ہوئے ہیں
یا ہورہے ہیں؟ کیا ان سےمعاشرے میں ادب وثقافت کو بھی فروغ ملا ہے یا یہ کتاب میلے
محض کاروباری سرگرمیوں ہی کے عکاس ہیں۔ان
کتب میلوں سے عام قاری اور کتاب کے مصنف کے ہاتھ کیا آرہا ہے۔علم ودانش یاوہ خالی
ہاتھ کوئے یار کا دیدار کرنے کو جاتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں