امتیازاحمد وریاہ
اس تصویر میں
والدگرامی (نبی احمد صاحب) کے ساتھ بیٹھے طارق طیب اور کھڑے بلکہ جھکے ہوئےمحمدنعیم ہیں۔نعیم امریکا میں
ہوتے ہیں اور وہاں ان کا اپنا سیٹ اپ ہے۔وہ والد صاحب کے چہیتے شاگردوں میں شمار
ہوتے تھے۔وہ امریکا جاکر اپنے استادِ مکرم کو نہیں بھولے ،ان سے مسلسل رابطے میں
ہوتے ہیں۔فون پر خیر خیریت دریافت کرتے رہتے ہیں اور ان کے لیے پاکستان آمد کے
موقع پر اچھی نسل کا قلم لانا نہیں بھولتے۔تصویر میں ان کا طویل عرصے کے بعد دیدار
ہوا ہے۔
طارق طیب بڑی
مرنجاں مرنج شخصیت ہیں۔ہنس مکھ اور بزلہ سنج۔اسکولی زمانے میں وزن بے وزن شاعری
بھی کرتے تھے،بزم ادب کی مجالس میں لطائف اور دلچسپ واقعات سناتے تھے۔اس زمانے کے
ان کے بڑے دل چسپ اور یادگار واقعات ہیں۔ان کی برجستہ گوئی اور بزلہ سنجی کا ایک
واقعہ ملاحظہ کیجیے۔
میٹرک کا
نتیجہ آیا تو طارق صاحب دو ایک مضامین میں رہ گئے۔امتحان میں کامیاب طالب علم
اسکول میں اساتذہ کے لیے مٹھائیاں لارہے تھے تو وہ بھی مٹھائی کا ڈبا اٹھا
لائے۔ہمارے چوکیدار چاچا اللہ دتہ مرحوم ان کا تخلص۔۔۔۔۔ بول کرکہتے ہیں:’’اوئے
تیرے تے دو مضامین رہ گئے نیں،اے مٹھائی توں کادھی کھلا رہیا ایں‘‘۔
طارق طیب
بولے: چاچا جو مضمون پاس ہوئے ہیں،ان کی مٹھائی تو کھاؤ ، باقی مضامین کی دوبارہ کھلا دوں گا‘‘۔
تو یہ ہمارے
طارق صاحب ایسے خوش مزاج تھے۔اب ایسے طالب علم کہاں ملتے ہیں۔اب نمبر کم آجائیں تو
کم زور دل خودکشی کرنے کو چل پڑتے ہیں۔تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے صحافت میں
قدم رکھا۔مختلف اخبارات کے کوٹلی لوہاراں اور سیال کوٹ میں نامہ نگار رہے، کچھ
عرصہ پہلے تک روزنامہ ایکسپریس لاہور کے ساتھ وابستہ تھے۔
گورنمنٹ ہائی
اسکول کوٹلی لوہاراں (ضلع سیال کوٹ) سے گہری یادیں وابستہ ہیں۔ اسی کی دہائی میں
میٹرک تک وہاں تعلیم پائی۔والد صاحب وہاں استاد تھے اور ہم اپنے گاؤں (کانواں لِٹ)
سے موسم گرما میں روزانہ یک طرفہ پینتیس چالیس کلومیٹر سفر طے کرکے اسکول جاتے
تھے۔موسم سرما میں وہیں قیام ہوتا اور موسم گرما کی چھٹیوں میں بھی بالعموم والد صاحب کے ساتھ اسکول ہی کے ایک کمرے میں قیام رہتا۔محمد اکرام بٹ صاحب
مرحوم اور پی ٹی آئی لیاقت علی صاحب بھی وہیں ہوتے۔دن کو تعلیمی اور تدریسی
مصروفیات اور شام کو کھیل کود اور گپ شپ ۔اس کے در ودیوار سے خاص انسیت ہے۔ چند
سال قبل اپنے استادِمحترم عبدالغفور مرحوم کی وفات پر تعزیت کے لیے گئے تو اسکول
کی عمارت کو اندر سے بھی دیکھنے کا اشتیاق تھا، مگر چھٹی کی وجہ سے عمارت بند ملی
اور ان کمروں کو نہیں دیکھ سکے جہاں شب وروز گزرے تھے۔
اس عمارت کی
ایک خاص بات۔ اس کا افتتاح سابق چیف جسٹس آف پاکستان شیخ انوار الحق نے پچاس کی
دہائی میں کیا تھا۔اس وقت وہ ڈپٹی کمشنر سیال کوٹ تعینات تھے۔وہ آئی سی ایس کرکے
انتظامیہ میں شامل ہوئے تھے۔بعد میں عدلیہ میں چلے گئے تھے۔ان کی سربراہی ہی میں
عدالتِ عظمیٰ کی بینچ نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ہائی کورٹ لاہور سے
سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔
کوٹلی لوہاراں سیال کوٹ سے شمال میں ہیڈمرالہ سے چند کلومیٹر پہلے واقع ہے۔یہ ایک تاریخی قصبہ ہے اوراس کا شمار پاکستان کے امیرترین قصبوں میں ہوتا ہے۔اس کے دو
حصے ہیں مشرقی اور مغربی۔اس کے مکینوں کی کثیر تعداد اس زمانے میں بھی امریکا اور
یورپ میں بہ سلسلہ روزگار مقیم تھی۔ان کا رہن سہن 35، 40 سال پہلے بھی بڑے شہروں
کے پوش علاقوں کے ہم پلہ تھا۔امارت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ امیر خاندانوں کے
منچلے اپنی گاڑیوں پر دوپہر یا رات کا کھانا لاہور کھانے جاتے تھے۔
باعث تحریر آنکہ : یہ تحریر طارق طیب صاحب کی فیس بُک پر ایک پوسٹ پر لکھی ہے۔ان کا شذرہ بھی ملاحظہ کیجیے:

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں