📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

ہفتہ، 7 فروری، 2026

معلم ، متعلم اور مادرِ علمی کا تذکرہ

والد گرامی اپنے دو ہونہار شاگردوں اور راقم کےدو ہم مکتبوں کے ساتھ۔

امتیازاحمد وریاہ

اس تصویر میں والدگرامی  (نبی احمد صاحب) کے ساتھ بیٹھے  طارق طیب اور کھڑے  بلکہ جھکے ہوئےمحمدنعیم ہیں۔نعیم امریکا میں ہوتے ہیں اور وہاں ان کا اپنا سیٹ اپ ہے۔وہ والد صاحب کے چہیتے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔وہ امریکا جاکر اپنے استادِ مکرم کو نہیں بھولے ،ان سے مسلسل رابطے میں ہوتے ہیں۔فون پر خیر خیریت دریافت کرتے رہتے ہیں اور ان کے لیے پاکستان آمد کے موقع پر اچھی نسل کا قلم لانا نہیں بھولتے۔تصویر میں ان کا طویل عرصے کے بعد دیدار ہوا ہے۔
طارق طیب بڑی مرنجاں مرنج شخصیت ہیں۔ہنس مکھ اور بزلہ سنج۔اسکولی زمانے میں وزن بے وزن شاعری بھی کرتے تھے،بزم ادب کی مجالس میں لطائف اور دلچسپ واقعات سناتے تھے۔اس زمانے کے ان کے بڑے دل چسپ اور یادگار واقعات ہیں۔ان کی برجستہ گوئی اور بزلہ سنجی کا ایک واقعہ ملاحظہ کیجیے۔
میٹرک کا نتیجہ آیا تو طارق صاحب دو ایک مضامین میں رہ گئے۔امتحان میں کامیاب طالب علم اسکول میں اساتذہ کے لیے مٹھائیاں لارہے تھے تو وہ بھی مٹھائی کا ڈبا اٹھا لائے۔ہمارے چوکیدار چاچا اللہ دتہ مرحوم ان کا تخلص۔۔۔۔۔ بول کرکہتے ہیں:’’اوئے تیرے تے دو مضامین رہ گئے نیں،اے مٹھائی توں کادھی کھلا رہیا ایں‘‘۔
طارق طیب بولے: چاچا جو مضمون پاس ہوئے ہیں،ان کی مٹھائی تو کھاؤ ، باقی مضامین کی  دوبارہ کھلا دوں گا‘‘۔
تو یہ ہمارے طارق صاحب ایسے خوش مزاج تھے۔اب ایسے طالب علم کہاں ملتے ہیں۔اب نمبر کم آجائیں تو کم زور دل خودکشی کرنے کو چل پڑتے ہیں۔تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے صحافت میں قدم رکھا۔مختلف اخبارات کے کوٹلی لوہاراں اور سیال کوٹ میں نامہ نگار رہے، کچھ عرصہ پہلے تک روزنامہ ایکسپریس لاہور کے ساتھ وابستہ تھے۔
گورنمنٹ ہائی اسکول کوٹلی لوہاراں (ضلع سیال کوٹ) سے گہری یادیں وابستہ ہیں۔ اسی کی دہائی میں میٹرک تک وہاں تعلیم پائی۔والد صاحب وہاں استاد تھے اور ہم اپنے گاؤں (کانواں لِٹ) سے موسم گرما میں روزانہ یک طرفہ پینتیس چالیس کلومیٹر سفر طے کرکے اسکول جاتے تھے۔موسم سرما میں وہیں قیام ہوتا اور  موسم گرما کی چھٹیوں میں بھی بالعموم والد صاحب کے ساتھ اسکول ہی کے ایک کمرے میں قیام رہتا۔محمد اکرام بٹ صاحب مرحوم اور پی ٹی آئی لیاقت علی صاحب بھی وہیں ہوتے۔دن کو تعلیمی اور تدریسی مصروفیات اور شام کو کھیل کود اور گپ شپ ۔اس کے در ودیوار سے خاص انسیت ہے۔ چند سال قبل اپنے استادِمحترم عبدالغفور مرحوم کی وفات پر تعزیت کے لیے گئے تو اسکول کی عمارت کو اندر سے بھی دیکھنے کا اشتیاق تھا، مگر چھٹی کی وجہ سے عمارت بند ملی اور ان کمروں کو نہیں دیکھ سکے جہاں شب وروز گزرے تھے۔
اس عمارت کی ایک خاص بات۔ اس کا افتتاح سابق چیف جسٹس آف پاکستان شیخ انوار الحق نے پچاس کی دہائی میں کیا تھا۔اس وقت وہ ڈپٹی کمشنر سیال کوٹ تعینات تھے۔وہ آئی سی ایس کرکے انتظامیہ میں شامل ہوئے تھے۔بعد میں عدلیہ میں چلے گئے تھے۔ان کی سربراہی ہی میں عدالتِ عظمیٰ کی بینچ نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ہائی کورٹ لاہور سے سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔
کوٹلی لوہاراں سیال کوٹ سے شمال میں ہیڈمرالہ سے چند کلومیٹر پہلے واقع ہے۔یہ ایک تاریخی قصبہ ہے اوراس کا شمار پاکستان کے امیرترین قصبوں میں ہوتا ہے۔اس کے دو حصے ہیں مشرقی اور مغربی۔اس کے مکینوں کی کثیر تعداد اس زمانے میں بھی امریکا اور یورپ میں بہ سلسلہ روزگار مقیم تھی۔ان کا رہن سہن 35، 40 سال پہلے بھی بڑے شہروں کے پوش علاقوں کے ہم پلہ تھا۔امارت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ امیر خاندانوں کے منچلے اپنی گاڑیوں پر دوپہر یا رات کا کھانا لاہور کھانے جاتے تھے۔

باعث تحریر آنکہ : یہ تحریر طارق طیب صاحب کی فیس بُک پر ایک پوسٹ پر لکھی ہے۔ان کا شذرہ بھی ملاحظہ کیجیے:

’’گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کوٹلی لوہاراں کے انتہائی شفیق (ومشیق؟) استادِ محترم جناب نبی احمد صاحب کے ساتھ ایک مدت کے بعد جناب محمد نعیم آف امریکہ کی بھانجی کی شادی کے موقع پر ملاقات ہوئی۔ سر کو دیکھ کر دل کو راحت جاں میسر ہوئی گذشتہ سے پیوستہ بھولی بسری یادوں کی تجدید نو کرتے رہے ۔سر نبی احمد صاحب نے درس تدریس کو ہمیشہ عبادت کادرجہ دیا اور ہم جیسے نالائق اسٹوڈنٹس کو بھی اس قابل بنا دیا کہ وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ سے اپنے جذبات واحساسات کی ترجمانی کرسکیں۔مجھے نعیم صاحب نے بتایا کہ قربیاً 30 سال سے بہ سلسلہ روزگار امریکا میں مقیم ہیں لیکن اپنے استاد محترم جناب نبی احمد صاحب سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ گورنمنٹ ہائی سکول کے لاتعداد اساتذہ ہمارے روحانی باپ کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان میں سے چند ایسی شخصیات ہیں جن کے نقوش برسوں اسٹوڈنٹس کے اذہان پر نقش ہوجاتے ہیں ان میں ایک معتبر نام نبی احمد صاحب کا ہے ۔میں نعیم بھائی کا بے حد ممنون ہوں کہ انکی رفاقت کے باعث سر کی زیارت ممکن ہوسکی ۔محمد نعیم صاحب کا خاندان کوٹلی لوہاراں میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے کیونکہ یہ سب اہل خانہ رفاقتوں کا بھرم رکھنا جانتے ہیں اور اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی نبی احمد صاحب اور بھائی محمد نعیم کے اہلِ خانہ کو تندرستی وصحت کاملہ عطا فرمائے اور زندگی میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے ۔آمین۔
الرقم خاکسار طارق طیب‘‘

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template