امتیازاحمد وریاہ
اتوار کی شب برادرمکرم
فاروق فیصل خان صاحب کے بیٹے کے ولیمے میں شرکت کی۔تقریب کیا تھی، جڑواں شہروں(اسلام آباد اور راول پنڈی) کے
صحافیوں کا ’چھوٹا سا اجتماع‘ ہوگیا۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ بہت سے
دیرینہ رفیق کاروں سے برسوں بعد ملاقات ہوئی۔میں تو کارڈ پر لکھے وقت کے مطابق شام
سات بج کر دس منٹ پرشادی ہال میں پہنچ گیا تھا لیکن مدعو صحافی حضرات بالخصوص نو
بجے تک آتے رہے،یعنی کھانا کھلنے سے چندے پہلے۔اس دوران میں سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی
صاحب نے ہال کے ایک کونے میں مجفل برپا کررکھی تھی۔وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنی معزولی
اوراس سے منسلک حالات کی کارگزاری بیان کررہے تھے اور اس میں اس وقت کے بڑے ناموں
کے کرداروں پر ’ہال کے تمام روشن روشن قمقموں‘ سے مکمل جرآت اظہار کے ساتھ مگر دھیمے لہجے میں روشنی ڈال رہے
تھے۔ان کی یہ گفتگو غیررسمی تھی لیکن ہماری عدلیہ کے ماضی کے مشہور عالم’’مکروہ
کرداروں‘‘ کو خوب بے نقاب کررہی تھی۔اب یہ نہ پوچھیے گا یہ مکروہ کردار کون تھے؟ان
کا باوا تو وہی ’بابا رحمتا‘ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار تھا۔البتہ صدیقی صاحب کو
جسٹس منصور علی شاہ کے عدلیہ سے یوں اٹھ جانے پر افسوس بھی تھا کہ انھیں جسٹس اطہرمن
اللہ لے ڈوبے۔ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ کو اطہر من اللہ
نے دھکا دیا وگرنہ وہ خود اس مزاج کے نہیں تھے اور یوں قوم ان کے ممکنہ اچھے
فیصلوں سے محروم ہوگئی۔
شوکت عزیز صدیقی صاحب نے جماعت اسلامی کے معروف رہ نما اور سیرت نگار مرحوم
نعیم صدیقی صاحب (مصنف محسنِ انسانیتﷺ) سے اپنی رشتے داری کے بارےمیں بھی بتایا۔وہ ان کی دادی اماں کے
بھائی تھے اور مرحوم عرفان صدیقی(کالم نگار، سابق سینیٹر) ان کے پھوپھی زاد تھے۔پھر ترابی صاحب کی طرف دیکھ کر مزاحیہ انداز میں کہنے
لگے: اب تو ہمیں منصورہ جانے کے لیے ویزا لینا پڑتا ہے۔اس
’چورس‘ میز کانفرنس میں ان کے ایک طرف اسلم ڈوگر صاحب،میں اور دو ایک اور صاحبان
تشریف فرما تھے اور دوسری طرف جمیل مرزا، شکیل ترابی صاحب، ناصرمغل صاحبان اور بعض
دیگر احباب تشریف رکھتے تھے۔ عامرمتین صاحب کچھ وقت کے لیے بیٹھے اور اٹھ کر چلے
گئے۔
دلچسپ
بات یہ ہے کہ فاروق فیصل بھائی اوّل اوّل آنے والے معزز مہمانوں کو اسی میز پر
لاکر بٹھا رہے تھے،ان کا تعارف کرواتے اور
پھرنئے آنے والے مہمانوں کے استقبال کے لیے چلاتے۔ یوں یہ چورس میزکا حلقہ وسیع ہوتا
چلا گیا۔شاہزاد انور فاروقی ،ابصار عالم اور دیگر صاحبان نے بھی اس کو رونق بخشی۔
ولیمے میں محترم پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد صاحب (سابق وائس چانسلرسرگودھا یونیورسٹی) سے
کافی عرصے کے بعد بالمشافہہ ملاقات ہوئی۔میں نے ان کی افغان جنگ پر کتاب کا کوئی
پندرہ سال پہلے اردو میں ترجمہ کیا تھا۔یہ کتاب بالخصوص گلبدین حکمت یار کے افغان
جنگ میں کردار کا خوب احاطہ کرتی ہے۔اس میں حامدکرزئی کے دورحکومت تک کے واقعات
بیان ہوئے ہیں۔ڈاکٹر صاحب اب اپنے سابقہ ادارے قائد اعظم یونیورسٹی کے اسکول برائے سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات میں پروفیسرایمریطس کے
طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ولیمے
کے دیگر شرکاء جناب حاجی نواز رضا، طارق سمیر،ملک تنویراحمداعوان ،عبدالجبار فیصل،عبدالرزاق
سیال، حافظ محمد اقبال صاحبان اور دیگر احباب سے بھی معانقے اورمختصر مختصر نشستیں
رہیں۔ان سے پاکستانی صحافت کی حالت زار اور ’پلاٹو کریسی‘ پر گفتگو ہوئی۔نیشنل
پریس کلب کے سالانہ انتخابات قریب آنے پر ایک
مرتبہ پھر پلاٹوں کی بندربانٹ کا واویلا ہے۔نئی کمیٹی تشکیل پاچکی ہے اور اس
میں حاجی نواز رضا صاحب بھی شامل ہیں۔انھوں نے اس سے متعلق بعض امور پر روشنی ڈالی لیکن ان کی گفتگو سے لگا کہ شاید ابھی اس کمیٹی کے شرائط وضوابط (ٹی اوآرز) واضح نہیں ہیں۔بظاہر دونوں فریق مزید ملاقاتوں میں صورت حال کو واضح کریں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں