📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

جمعرات، 27 نومبر، 2025

نئے صوبوں کے حق میں ’’رائے خاصہ‘‘ہموار کرنے کی مہم


امتیازاحمدوریاہ

دنیا میڈیاگروپ اور پنجاب گروپ آف کالجز کے سربراہ جناب میاں عامر محمود نے ملک میں تیس، بتیس نئے صوبے بنانے کا شوشا چھوڑا ہے۔اب تک منظرعام پر آنے والی تفصیل کے مطابق اس کے پیچھے کوئی ٹھوس علمی وعملی تحقیق کارفرما نہیں۔بس کسی نے نئے صوبوں کی پرچی پکڑا دی اوروہ اس  کی تبلیغ کرنے لگ گئے۔ اب وہ شہر شہرجاکر اس مجوزہ بندوبست کی ڈفلی بجارہے ہیں اور اپنے ہم نواؤں سے میل ملاقاتیں کرکے اس تجویز کے حق میں ’’رائے خاصہ‘‘ ہموار کرنے کی کوشش کررہے ہیں، رائے عامہ  نہیں، کیونکہ ایسی تجاویز سے عوام کالانعام کا کوئی  لینا دینا نہیں ہوتا۔وہ سرے سے متعلقہ فریق (اسٹیک ہولڈر) ہوتے ہی نہیں۔

ویسے بھی میاں عامر صاحب تعلیم فروشی کے  منافع بخش کاروبار کے بعد اشرافیہ میں شمار ہوتے ہیں اور ماضی میں میاں اظہرمرحوم سمیت مختلف سیاسی لیڈروں پر سرمایہ کاری کے فیوض  وثمرات سمیٹنے کا بھی انھیں کامیاب تجربہ ہے کیونکہ عام انتخابات کے مواقع پر جب نگران حکومتوں کا ڈول ڈالا جاتا ہے تو حقیقی اربابِ اقتدار کی نظرِکرم ان پر یا ان کے کسی مصاحب پر ضرور ٹک جاتی ہے۔اس کے علاوہ وہ صحافیوں کے استعمال اور استحصال کے بھی تجربے کے حامل ہوچکے ہیں۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو درپیش  مختلف النوع مسائل کا حل تھوک کے حساب سے نئے صوبوں کا قیام ہے۔جیسا کہ باور کروایا جارہا ہے ۔آپ  نئےصوبے خواہ تیس بنائیں یا چالیس پچاس بنالیں، جب تک کالونیل دور کی یادگار موجودہ ڈپٹی کمشنر مرتکز ضلعی نظام جڑ سے اکھاڑ پھینکا نہیں جاتا ،اس وقت تک ایسے کسی اقدام کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔اس وقت ہم سے چار گورنر، چار صوبائی اسمبلیاں ، وزراء اعلیٰ   اور ان کےوزراء کی فوجِ ظفرموج  نہیں سنبھالی جاتی،ذرا سوچیے  تیس بتیس صوبوں میں اتنی ہی تعداد میں نئی حکومتیں معرض ِوجود میں آگئیں تو اس ملک کی معیشت کا کیا حال ہوگا۔ان کے اللے تللوں کے لیے مالی وسائل کہاں سے آئیں گے؟ظاہر حکمران کشکول گدائی  لیے عالمی مالیاتی اداروں کے در پر ہوں گے۔ موجودہ نظام کو بعینہٖ برقرار رکھا جاتا ہے،اس میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں لائی جاتی تو نئے صوبوں کےقیام کا نتیجہ ملک کو مزید رجواڑوں میں تقسیم کرنے کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوگا۔

ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے؟ اور اس کا حل کیا ہے؟

پاکستان کو درپیش گوناگوں مسائل کا اصل سبب اختیارات اور وسائل کا ارتکاز ہے۔اول، وفاق کی سطح ، پھر صوبے کی سطح پر اور اس کے بعد ضلع میں ضلعی حاکم یعنی ڈپٹی کمشنر کی سطح پرہرقسم کے اختیارات کا ارتکاز ہے۔اگر سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات ٹرکل ڈاؤن نظریے کے مطابق درجہ بہ درجہ نچلی سطح تک پہنچ جائیں۔یونین کونسل سے ضلع کونسل تک منظم   اور بااختیار مقامی حکومتیں قائم ہوں ،بلدیاتی ادارے سیاسی جماعتوں یا اسٹیبلیشیا کے ہرقسم کے اثرورسوخ اور دباؤ سے  بالکل آزاد ہوں  ۔وہ عام شہریوں کےمسائل کے حل کے لیے بااختیار ہوں اورضلع کونسل یا ضلعی اسمبلی کے چئیرمین کو ڈپٹی کمشنر کے برابر اختیارات حاصل ہوں بلکہ ڈی سی سمیت تمام ضلعی انتظامیہ اس اسمبلی یا کونسل کے ماتحت کام کرے۔اسی طرح تحصیل کی سطح پر مقامی حکومت کاچئیرمین مجاز اتھارٹی ہو اور اسسٹنٹ کمشنر مع جملہ انتظامیہ اس کے ماتحت کام کرے۔عوام کےمسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں اور وسائل کی تقسیم گاؤں، قریہ ، قصبہ ، تحصیل اور ضلع کی سطح تک منصفانہ انداز میں ہو،یہ نہیں کہ تمام صوبے کا بجٹ لاہور کی تزئین وآرائش پر لگا دیا جائے یا صحت وتعلیم کے بجٹ کو انڈرپاس اور پُل بنانے پر لگادیاجائے  بلکہ ہر شعبے کے لیے مختص کردہ بجٹ کو اسی پر خرچ کیا جائے تو اس صورت ہی میں ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔

نئے صوبے گھن زدہ موجودہ ضلعی نظام  کا کوئی متبادل حل پیش نہیں کرتے بلکہ مروجہ نظامِ حکومت وریاست میں  ان کے قیام سے ہمہ نوع مسائل میں اضافہ ہی ہوگا۔ہم قومی خزانے پر ہزاروں سرکاری ملازمین ، وزراء اور اسمبلیوں کے ارکان کے ایک نئے لاؤ لشکر کے اخراجات کا بوجھ لاد دیں  گے مگر دیرینہ مسائل  کا پرنالہ  وہیں رہے گا۔بس  سیاسی اور انتظامی اشرافیہ کی ایک اور کھیپ تیار ہوجائے گی۔اس کھیپ کے پیروجواں اپنی مدتِ ملازمت کی تکمیل تک یہاں خوب حلوے مانڈے کھائیں گے اور ریٹائرمنٹ کے بعد  وہ بھی ان دیسوں کو پدھار جائیں گے جنھیں  ان کے پیش رو اپنے اپنے مسکن بنائے بیٹھے ہیں۔

2 تبصرے:

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template