📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

بدھ، 19 نومبر، 2025

کہاں گنگوا تیلی،کہاں راجا بھوج

امتیازاحمدوریاہ

بھائی جان رشید ودود سے مجھے ایک ہی اختلاف ہے،یہ کہ وہ اکثر محاوروں میں تصرف کردیتے ہیں۔’’دلیل‘‘ کی ویب گاہ  پر شائع شدہ ایک انٹرویو پر انھوں نے اپنا تنقیدی تبصرہ لکھا۔اس میں انھوں نے ’’کہاں  گنگوا تیلی،کہاں راجا بھوج‘‘ میں تصرف کرتے ہوئے کہاوت /محاورے کو یہ رنگ دے  دیا ہے: ، کجا راجہ بھوج؟ کجا ننوا تیلی؟یہ ٹھیک  ہے کہ بعض  لغات میں  گنگو یا گنگوا اور بعض میں ننوا  لکھا ہے۔البتہ بزرگ فرماتے ہیں؛ روزمرہ اور محاورے میں تصرف جائز نہیں۔ اسی لیے بیشتر لغات میں گنگوا تیلی ہی لکھا ہے،ننوا نہیں اور کجا تو کسی میں نہیں۔
ان کے ممدوح قبلہ ہارون رشید تو محاورے کے علاوہ روزمرے بھی غلط لکھتے ہیں۔مثلاً ایک مرتبہ بے نیلِ مرام کو بے نیل ومرام لکھ دیا حالانکہ اس میں واؤ حرفِ عطف ہے ہی نہیں۔اسی طرح ایک مرتبہ سورہ والتین کا ترجمہ لکھتے ہوئے اختتام سورہ والعصر کے ترجمے پر کردیا اور اس بندہ ناچیز نے کالم ہاتھ میں آنے کے بعد درست کرکے کمپوزنگ کے لیے بھیجا۔یہ روزنامہ خبریں کے زمانے کی بات ہے۔کالم  حضرت گلبدین حکمت یار کی نمازِمغرب میں دل سوز تلاوت پر تھا۔
اب کسی ’شخصے‘ کا یہ قولِ زریں ہے کہ قبلہ ’’کیاہم مسلمان ہیں؟‘‘ از شمس نوید عثمانی کے جملوں کے جملے اور مکمل تراکیب تک اُچک فرمالیتے ہیں۔ اس میں کتنی حقیقت ہے ، یہ جاننے کے لیے کیا ہم مسلمان ہیں؟پڑھ لیں ،اگر مماثلت نظر نہ آئے تو اس شخصےکو پکڑیں ، خاکسار کو نہیں۔
ہاں وہ یادگار مکالمہ بھی نقل کرنے کے لائق ہے۔ ہمارے ملک کے دو مایہ ناز کالم نویس مل بیٹھے۔دونوں ایک دوسرے پر پھبتیاں کس رہے تھے اور اپنی اپنی افضلیت جتلا رہے تھے۔ایک نے دوسرے کو طعن کیا:آپ پچھلے پندرہ سولہ سال سے ایک ہی کالم لکھ رہے ہیں ۔دوسرے نے کہا: آپ کون سا تیر ماررہے ہیں،آپ بھی تو دریائے سواں کے کنارے بیٹھ کریہی کام کررہے ہیں۔ان میں یہی مماثلت نہیں تھی، رمضان المبارک میں دونوں کا وقفے وقفے سے خبریں کے ایڈیٹوریل میں ورود ہوا ۔دونوں ہی  نےعملہ سے کھانے کے لیے کچھ لانے کی فرمائش کردی اور کالموں میں اسلام کا تڑکا کچھ وقت کے لیے عملی طور پر تیاگ دیا۔
ایک اور واقعہ  ملاحظہ  کیجیے ،ان میں ایک صاحب نے منو بھائی کے سامنے یہ ڈینگ ماردی ؛ میں پاکستان کا سب سے مقبول اردو کالم نگار ہوں۔
منوبھائی نے جملہ چست کیا:جس قوم کا فلمی ہیرو سلطان راہی ہو،اس کا مقبول کالم نگار کم سے کم میں تو نہیں ہوسکتا،حسن نثار ہی ہوسکتا ہے۔اس وقت سلطان راہی مرحوم زندہ تھے۔
اس واقعہ کے راوی ہمارے دوست تنویر عباس نقوی مرحوم تھے۔
پس تحریر:ہارون صاحب کا یہ انٹرویو تو پرانا ہے،کیا اس پر گرہ اب لگائی گئی ہے یا یہ تحریر بھی پرانی ہے۔کیا فرماتے ہیں،بیچ اس مسئلے کے رشید ودود اور ابوبکر چودھری صاحبان۔
ویسے مولانا ابوالکلام آزادؒ مرحوم ومغفور کے بارے میں ان کے ’’ارشاداتِ عالیہ‘‘ پڑھ کر ایسے لگا ،ابھی آں جناب ’’فاتح‘‘ کے سحر سے آزاد نہیں ہوئے۔
اسی فاتح کی فتح کا پھریرا لہراتے ایک مرتبہ روزنامہ انصاف لاہور کے دفتر میں وارد ہوئے اور چھوٹتے ہی عبدالکریم عابد صاحب کو مخاطب ہوکر بولے: میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی سوانح عمری لکھنا چاہتا ہوں۔
عابد صاحب جواب میں یوں گویا ہوئے: نہیں، آپ مولانا مودودیؒ کو معاف ہی رکھیے۔ جنرل اختر عبدالرحمٰن کو آپ نے کیا سے کیا بنا دیا ہے، مولانا مودودیؒ مرحوم کو نجانے کیا کچھ بنا دو۔

شکی مزاج ،تائید مزید کے لیے اجمل شاہ دین سے رجوع کرسکتے ہیں۔
اس  مختصر مکالمے کے بعد سے راوی اور ’مصنف فاتح‘خاموش ہیں۔شاید وہ اپنے ارادے سے باز آگئے تھے اورجناب کو ایک نیا، مگردوررس نتائج کا حامل  تفویض کار مفوض ہوا تھا۔ یہ کپتان کی ’شخصیت سازی ‘ کے لیے تمام کالمی تجربات، تجزیات اور فنی نزاکتوں کو بروئے کار لانا تھا۔پھر ایک زمانے تک جناب کے قلم سے خان کی مدح سرائی میں زمین آسمان کے وہ قلابے ملے کہ یک جان دو قالب ہوگئے۔بالآخر خان کو اندر کراکے ہی چھوڑا۔

رہے نام اللہ کا۔

2 تبصرے:

  1. Well done Imtiaz sab. I have learnt many new words from this column. Keep writing. Regards

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بہت شکریہ۔ضیاء بھائی۔ ان شاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

      حذف کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template