اعظم علی، سنگاپور
چین کی آرٹی فیشل انٹیلی جنس ( اے آئی ) کی کمپنی ڈیپ سِیک (Deep Seek) نے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک زلزلہ بپا کر دیا ہے۔ پوری دنیا میں ٹیکنالوجی کے اسٹاک گرنا شروع ہو گئےہیں۔ امریکی اسٹاک ڈاو جونز (Dew Jones) تو 290 پوائنٹس اوپر بند ہوا لیکن S&P 500 تھوڑا 89 پوائنٹس نیچے بند ہوا ۔سب سے زیادہ مار امریکی انڈکس Nasdaq (نیسدق )کو پڑی ہے جو 612 پوائنٹس یا تین فی صد گرا۔ نیسدق ہی میں ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کا اندراج ہے۔اس کے علاوہ جرمنی DAX صرف 112 پوائنٹس نیچے گرا ہے ۔ Nikkei یعنی ٹوکیو بھی 635 پوائنٹس نیچے آیا ہے۔
سب سے زیادہ نقصان امریکا میں قائم مصنوعی
ذہانت کی کمپنی Broadcom کو
ہوا جس کے حصص 42 ڈالر یا 17.5 فی صد گرے ہیں ۔ اس کے بعد امریکا کی کثیر قومی کارپوریشن اور
ٹیکنالوجی کمپنی ’’
این ویڈیا‘‘ NVIDIA)) کو ہوا ہے۔اس
کے حصص 17 فی صد
گرے ہیں ۔ اس کے علاوہ تھوڑا بہت اثر مائیکرو سافٹ، میٹا (فیس بُک) اورگوگل پر بھی پڑا ہے۔لیکن فی الوقت بین الاقوامی
اسٹاک مارکیٹس میں اس قسم کی ’’خون کی ہولی‘‘ نظر نہیں آرہی
ہے،جیسا ہمارے دوست خواہش رکھتے ہیں ۔ ویسے بھی امریکی اسٹاک مارکیٹ
کا کریش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ مارکیٹ ہر کریش کے بعد دوبارہ پہلے سے طاقتور
ہو کر ابھرتی ہے ۔اس سے پہلے بازارِ حصص میں کریش کی وجہ معیشت کے بڑے چیلنج ہوتے تھے یا کوئی بڑا سانحہ ۔ اس مرتبہ تو کوئی
بنیادی چیلنج یا مسئلہ نہیں ہے ۔بنیادی طور
پر امریکی کمپنی
این ویڈیاکے حصص147 ڈالر سے 118 ڈالر پر آگئے ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ ایک
سال قبل اس کمپنی کا ایک شیئر 61 ڈالر
کا تھا۔یہ صرف معیشت کے ایک چھوٹے سے شعبے کا مسئلہ ہے جس میں چپ میکر اے آئی کمپنیاں متاثر
ہوں گی لیکن اے آئی تو ایک لحاظ سے ابتدائی
دور میں ہے۔ اس لیے متاثرین وہ جواری ہوں گے
جنھوں نے آئی اے کے اسٹاک پر پیسہ لگا رکھا ہے۔ این ویڈیا کی کے
شیئر کی قیمت چار ماہ قبل یکم اکتوبر کو 117 ڈالر پر بند ہوئی اور آج بھی 118 ڈالر
سے اوپر ہے۔ اس لحاظ صرف چند ماہ قبل شیئر خریدنے والوں کو کاغذی نقصان ضرور ہواہے
لیکن طویل المدت شیئر خریدنے والے منافع
ہی میں ہیں ۔ تاہم ان کمپنیوں
کے مارکیٹ کیپٹل میں مجموعی طور پر
دس کھرب ڈالر ( ایک ٹریلین ڈالر) کی کمی آئی ہے لیکن کیا یہ حقیقی نقصان ہے یا کاغذی
؟ اس قسم کے کاغذی نقصانات صرف اور صرف ان لوگوں کو ہوتے ہیں جو گھبراہٹ
میں اپنا مال فوری طور پر فروخت کردیتے ہیں اور بازار حصص سے
پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔دنیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں ٹیکنالوجی
کے اسٹاک نیسدق کے علاوہ جاپان، کوریا، تائیوان اور شنگھائی میں لسٹ ہیں۔ آج صرف جاپان کھلا ہوا
تھا اور وہ 38800 پوائنٹ تک چھونے کے بعد 39064 پر
بند ہوا ۔۔خوش قسمتی سے کوریا، تائیوان اور
شنگھائی چین کے نئے سال کی چھٹیوں کی وجہ سے بند ہیں ۔ ان کے کھلنے تک گرد بڑی حدتک
بیٹھ چُکی ہو گی۔اسٹریٹجک سرمایہ کار اس صورت حال میں حصص فروخت کرنے کے بجائے مزید خریداری کا موقع سوچ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں ۔ نیز یہ کمپنیاں بالخصوص
چپ ساز
کمپنیاں خلا میں نہیں ہیں کہ فوری طور پر تحلیل ہو جائیں ۔۔ ان
کے پاس ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر ہے اور ان کے منافع میں کمی بیشی ممکن ہے۔
امریکی کمپنی اوپن
آے آئی کے چیف ایگزیکٹو نے درحقیقت ڈیپ سیک
کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسابقت اچھی چیز ہے ہمیں اپنی پروڈکٹ کو بہتر بنانے اور بہتر نتائج کے لیے مہمیز
کرے گی۔لیکن ڈاؤ جونزیا نیسدق کسی مخصوص کاروباری
شعبے کا نام نہیں ہے۔ دس کھرب ڈالر
کی کمی اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ویسے بھی ان میں سے اکثر کمپنیوں کے اسٹاک
کی قیمتوں کا تعیّن ان کے منافع یا آمدن کی بنیاد پر نہیں بلکہ مفروضوں کی بنیاد
پر ہوتا ہے ۔دوسری طرف ان کے اسٹاک کی قیمتوں میں گراوٹ کا فوری نقصان ان حصص داران کو ہوتا ہے جنھوں نے ان کی بنیاد پر بینک سے قرضے لیے ہوئے ہوتے ہیں
۔ شیئر کی قیمتیں گرنے کے نتیجے میں بینک ان سے مزید رقم کا مطالبہ کرتا ہے ۔عدم ادائی
کی صورت میں بینک ان حصص کو مارکیٹ میں فروخت
کرتا ہے جس سے شیئر زکی قیمتیں مزید گرتی ہیں ۔
مخصوص کمپنیوں کے اسٹاک کی قدر کم ہونے سے ان کے حصص داران
کے حصص کی قدری مالیت بھی کم ہوگئی لیکن یہ کاغذی نقصان ہے۔ بس اتنا ضرور ہے کہ
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکا کی بالادستی کو للکارنے کے لیے چین سامنے آ رہا ہے۔
ڈاؤ جونز کی تاریخ میں اس سے بڑے بڑے سانحات گزر چُکے ہیں ۔جب بھی کوئی
بڑا کریش ہوا ہے اس کی وجہ ایک مخصوص سیکٹر نہیں مجموعی معیشت ہوتی ہے اور اس کا تعلق عالمی معیشت سے ہوتا
ہے ۔۔ کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں بھی کریش ہوا تھا ۔ اس کے علاوہ 2008 ء
میں بینکاری کا بحران ہوا تھا،جس میں
کئی بینک دیوالیہ ہو گئے تھے۔
اس وقت تو کچھ بھی نہیں ہوا ۔ ایک مخصوص سیکٹر کی چند کمپنیاں متاثر ہوئی
ہیں ۔ ہم نے ڈاؤ جونز انڈکس ہزار ہزار پوائنٹس بھی گرتے دیکھا ہے۔کل تو وہ انڈکس مثبت
میں بند ہوا ہے۔آج منگل کو یورپ کی مار کیٹ، جو گذشتہ کل خسارے میں تھی اور جرمنی کا
DAX انڈکس 112
پوائنٹس اوپر ہے ۔ لندن اسٹاک ایکسچینج
بھی تھوڑا سا اوپر ہے لیکن اس کی اہمیت معاشی
سے زیادہ سیاسی دیکھی جائے گی کہ چین نے مصنوعی ذہانت میں امریکی بالا دستی کو چیلنج کردیا ہے۔اس کے اثرات
دور رس ہوں گےکہ مصنوعی ذہانت کی اہمیت دفاعی
و دیگر ٹیکنالوجی میں بھی ہے ۔اسی طرح اس کے
اثرات انرجی سیکٹر میں کہ چینی کمپنی کے دعوے کے مطابق ان کی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ڈیٹا
مراکز اور بعض مخصوص شعبوں میں بجلی کی کھپت انتہائی کم ہو
گئی ہے جس کی وجہ ہے بجلی بنانے والی کمپنیوں کی پہلے سے تیار شدہ انفراسٹرکچر پر بھی فرق پڑے گا۔
یہ یقیناً ایک جھٹکا ہے لیکن کتنا بڑا ہے،اس کا اندازہ
کرنے کے لیے کم سے کم ایک
ہفتہ انتظار کرنا ہوگا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں