چودھری محمد ارشد ، سابق ڈائریکٹر جنرل سینیٹ آف پاکستان
اگلے روز راقم الحروف نے برطانیہ میں مقیم چند دوستوں حنیف صاحب، زاہد صاحب، اور ڈاکٹر پروفیسر
چودھری علی (کیمبرج یونیورسٹی) کے ہمراہ وہاں کے تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔ سب سے پہلے ہم
تحریکِ پاکستان کے مخلص
اور نڈر کارکن ، رہ نما
اور سیاست دان چودھری رحمت علی مرحوم کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے گئے۔ آپ
کی قبر کیمبرج کے وسیع و عریض قبرستان میں
ہے ۔اس کے پاس ہی صنوبر کا ایک
خوب صورت درخت ہے اور اس کے ساتھ پاکستان
کا قومی پرچم بھی لہرا رہا ہے جس کی وجہ
سے ہمیں آپ کی قبر ڈھونڈنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ قبر کی تختی پر آپ کا
پورا نام ،قومیت ،تاریخ پیدائش اور وفات کے علاوہ کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کردہ
تعلیم کا احوال بھی درج ہے۔مرحوم کی روح
کے ایصال ثواب کے لیے میں نے تلاوت کی اور اس کے بعد دعائے مغفرت کی گئی۔
چودھری رحمت علی کیمبرج یونیورسٹی سے
فارغ التحصیل تھے۔ آپ نے 1933 میں برطانیہ
میں زیر تعلیم برصغیر کے دیگر طلبہ کے ساتھ مل
کر ’’پاکستان
نیشنل لبریشن موومنٹ ‘‘کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی۔ اسی سال انھوں نے اپنا مشہور کتابچہ “Now or Never”(اب یا کبھی نہیں ) شائع کیا۔ اس میں پہلی
دفعہ لفظ پاکستان استعمال کیاگیا تھا۔اس لحاظ سے آپ کو’’لفظ ِپاکستان “ کے خالق
کے طور پر پہچانا
جاتاہے یا یوں جانیےکہ آپ کو دنیا کا پہلا
پاکستانی کہا جا سکتاہے لیکن تاریخ کی ستم ظریفی
ملاحظہ ہو کہ قیام پاکستان کے بعد یہاں کی بیوروکریسی
سے آپ کی نہ بن سکی اور بادل نخواستہ آپ واپس برطانیہ تشریف لے گئے۔29 جنوری
1951ء کو نمونیہ کی بیماری کی وجہ سے آپ اسپتال
میں داخل ہوئے اور پانچویں روز 3
فروری 1951 ،ہفتے کی صبح 54 سال کی عمر
میں اس عظیم محسن نے برطانیہ میں اپنی جان ، جان ِآفرین کے سپرد کر دی ۔اس وقت
برطانیہ میں پاکستانی مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی لیکن لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کی بے حسی اور حکومتِ
پاکستان کی عدم توجہی کی وجہ سے آپ کی میّت
17 روز تک کولڈ سٹوریج ( مردہ
خانہ) میں لاوارث پڑی رہی تھی اور آخرکار 20 فروری 1951 ء کو دو مصری طلبہ نے اس
عظیم ہستی کو کیمبرج کے قبرستان میں لاوارث طور پر امانتاً دفن کیا تھا۔
ان کی قبر پر دعائے مغفرت کے بعد ہم نے کیمبرج یونیورسٹی کے مرکزی
کیمپس کا رُخ کیا ۔برطانیہ کی کیمبرج
یونیورسٹی کا شمار دنیا کی بہترین جامعات میں
ہوتا ہے ۔اس کا قیام 1284 یعنی آج سے سات سو چالیس سال پہلے ایک کالج کی صورت میں عمل میں لایا گیا
تھا ۔یہ یونیورسٹی دریائے Cam (کیم (کے کنارے واقع ہے اور اس دریا پر بیس کے قریب پُل ( Bridge بنے ہوئے ہیں۔ اسی مناسبت
سے اس درس گاہ کا نام Cambridge University رکھا
گیا تھا۔ اِس وقت اس یونیورسٹی کے 30 کے
قریب کیمپس ہیں۔انھیں مختلف کالجز کے نام
سے پہچانا جاتاہے ۔اس درسگاہ میں سات ہزار کے قریب اُستاد پڑھاتے ہیں اور قریباً
تین ہزار اہلکاروں پر مشتمل انتظامی عملہ کام کرتا ہے۔ اس کے کالجز میں سے ایک کانام ٹرینٹی کالج Trinity College) )ہے جہاں مفکر پاکستان ، شاعر ِمشرق علامہ محمد اقبال
رحمۃ اللہ علیہ نے 1905میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر 1907 میں جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے فلسفے
میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔آپ کے مقالے کا عنوان ’’ ایران میں
فلسفہ مابعد الطبیعیات کا ارتقاء ‘‘ تھا۔
ہمیں ٹرینٹی کالج سے
تھوڑے فاصلے پر واقع اس مکان کو بھی دیکھنے کا موقع ملا، جہاں علامہ
مرحوم دوران تعلیم قیام پذیر رہے تھے۔ یہ دو کمرے کا چھوٹا سا مکان ہے۔ اس کا ایڈریس 17Portugal
palace ہے اور اس کی سامنے والی کھڑکی کے بالکل
اوپر علامہ مرحوم کے نام کی تختی لگی ہے۔ ا س پر آپ کی پیدائش اور وفات کی تاریخ کے علاوہ ٹرینٹی
کالج سے آپ کی تعلیم کے بارے میں لکھا ہے۔ یہ دورہ مرکزی انجمن گجراں کے رہ
نما چودھری افتخار برسہ صاحب، چودھری دلدار صاحب، چودھری معظم زاہد صاحب اور چودھری طارق صاحب کی تحریک پر کیا گیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں