احسان غنی
وجودِزن سے ہے تصویرِ
کائنات میں رنگ
ماں،بیٹی،بہن اور بیوی، عورت کے یہ
روپ الگ و منفرد اہمیت کے حامل ہیں۔ہر روپ ایک سے ایک بڑھ کر اورقابل صد تکریم ہے۔
ان میں سب سے زیادہ قابل فخر اور قابل قدرروپ"ماں "کا ہے۔جووجہ تخلیق ہے
انسان کی۔ رب کائنات نے ماں کو عظمت عطافرماتے ہوئے جنت اسی کے قدموں میں رکھ
دی۔قرآن پاک میں ہے(سورۃ بنی اسرائیل23،24)
"تمھارے پرودرگار نے ارشادفرمایا ہے کہ کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں
باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو، اگران میں سے ایک یادونوں تمھارے سامنے بڑھاپے کو
پہنچ جائیں تو ان کو اُف تک نہ کہنا اور انھیں جھڑکنا مت اور ان سے بات ادب کے
ساتھ کرنا اور عجزونیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کر و کہ اے
پرودرگار جیسا انھوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے )پرورش کیا تو بھی ان کے حال پر
رحمت فرما"۔
بچوں کی شخصیت ماں کا پرتوہوتی ہے۔ماں
کی شخصیت کی جھلک بچوں میں نظر آنا بہترین تعلیم وتربیت کا حاصل ہوتا ہے۔بچوں کا
پہلا مکتب ماں کی گود ہوتی ہے۔ماں جس انداز سے اپنے بچوں کی شخصیت سنوارتی ہے،کوئی
دوسرا ہرگز ویسے نہیں کرسکتا۔ ماں آتے جاتے،اٹھتے بیٹھتے ایسے ایسے گُرسکھاتی اور سمجھاتی رہتی ہے جو
مستقبل میں بچوں کی کامیا بی وکامرانی کاسبب بنتے ہیں۔اپنی جان پر کھیل کربچے کی
پیدائش کے سخت اذیت ناک مراحل طے کرنا، پیدائش کے بعد پالنا، پوسنا جوان کرکے بڑا
آدمی بنانا اور ان کی خوشیوں کے خواب آنکھوں میں سجائے چپکے سے رختِ سفر باندھ
لینا، قدرت کی حکمتوں کو بھلا کون سمجھتاہے۔جہاں ماں نہ ہو وہ گھر مکان بن جاتا
ہے۔ ماں کے بغیرگھر کا تصور ناممکن ہے۔امی جان کہنے میں جو چاشنی پائی جاتی ہے اس
کے کیا کہنے۔ اس کااندازاہ ان افراد کوبخوبی ہے جن کی مائیں آج اس عالم فانی میں
موجود نہیں۔وہ بے کل، بے چین اور بے قرارپھرتے ہیں کہ کہیں سے انھیں وہ ہستی پھر
سے نظر آجائے جسے وہ امی جان کہہ کر پکارسکیں۔ اس کے گلے سے لپٹ کر اطمینان،سکون
حاصل کرسکیں۔آغوش مادر ہے ہی کچھ ایسی کہ اس میں سر رکھتے ہی انسان اپنی پریشانیاں
اور دکھوں کو بھول جاتا ہے۔اسے وہ راحت، سکون چین ملتاہے جو وہ کروڑوں اورلاکھوں
روپے خرچ کر کے بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ ماں ماں ہے اس کاکوئی نعم البدل نہیں۔ماں کی
عظمت کا اعتراف کچھ اس طرح ہے کہ محسن انسانیت سرور عالم ﷺ کاارشاد
ِمبارک ہے کہ میں اگرنماز پڑھ رہا ہوں تو میر ی ماں مجھے آواز دے تو میں نماز چھوڑ
کر اپنی ماں کی آواز پر لبیک کہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اکثر اوقات اللہ رب
العزت سے رازونیاز کرنے کوہ طور پر جایا کرتے تھے، اُن کی والدہ ماجدہ کا انتقال
ہو گیا کچھ عرصے بعد جب حضرت موسیٰ علیہ السلام دوبارہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے
ملاقات کرنے کے لیے گئے ابھی گفتگو کا آغاز ہی ہوا کہ غیب سے آواز آئی موسیٰ اب سے
خبردار رہنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حیرت کے عالم میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے
ہوئے دریافت کیا۔ اے میرے مالک آج سے پہلے کبھی تو نے ایسے نہیں فرمایا، آج کیا
خاص بات ہوئی۔اللہ عزوجل نے فرمایا: موسیٰ پہلے جب تو مجھ سے محوگفتگو ہونے کے لیے
گھر سے نکلتا اورجب تک تو میرے ساتھ مصروف گفتگو رہتاتوتیرے پیچھے گھر میں سفید
بالوں والی ضیعف تیر ی ماں ہاتھ اُٹھائے گڑگڑا کرمجھ سے یہ دعا کیا کرتی تھی کہ’’ اے اللہ میر الختِ جگر
نہیں جانتا کہ کس سے ہم کلام ہے۔یہ بول بھی ٹھیک نہیں سکتا تو اس کی گستاخی کو
معاف فرما دینا۔اے موسیٰ میں تیری غلطیوں سے درگزر کرتارہتا تھا۔وجہ صرف اور صرف
تیری بوڑھی ماں کی دُعا ہوتی تھی ۔آج تیرے لیے دعاکرنے والی ہستی دنیا میں نہیں
رہی اس لیے اب ذرا دھیان سے سنبھل کر بات کرنا‘‘۔
ہم عام سے گناہگار انسان جن کی مائیں
اب ابدی نیند سورہی ہیں کیا کریں،کہاں جائیں ماں نہ ہو تو انسان تنہارہ جاتا
ہے۔اپنے غم اوردکھ کو لاکھ کوششوں کے باوجود نہیں چھپاسکتا۔ضبط کا بندھن ٹوٹ جاتا
ہے اور چشم نم سے اشک چھلک پڑتے ہیں۔دوسروں کے آگے نہ سہی تنہائی میں ما ں کی یاد
بہت بے چین کردیتی ہے۔ماں کی جدائی کیسے تسلیم کریں وہ ماں جودن دیکھتی ہے نہ رات
بس یہی فکر لاحق ہے کہ اس کے جگرگوشوں کوکوئی تکلیف نہ پہنچ جائے،بچوں کے انتظار
میں پہروں جاگتے رہنا،اکثر و بیشتر والد کے غصے میں آ جانے پراپنے بچوں کے لیے
ڈھال بن جانا اور اپنی آغوش محبت میں لے لینا۔ہنستی،مسکراتی اور خندہ پیشانی سے
اپنے سرتاج بچوں اور گھر کے ہرکام کو عبادت سمجھ کر سرانجام دیناکیسے بھول
جائیں۔دوراندیشی ایسی کہ آنے والے حالات واقعات کا پہلے سے علم ہو جانا سمجھ سے
بالاتر ہے۔شوہراور بچوں کی خدمت گزاری کرتے ہوئے اپنے رب سے لولگا ئے رکھنا یقینا ًخاص
عطا تھی۔
سنہ1935ء میں فیروزپورچھاؤنی ( اب بھارت) میں انتہائی
شفیق ،سراپا محبت ،وفا شعار زینب بی بی کے
بطن ِ جلیل سے آنکھ کھولنے والی پیاری معصوم سی گڑیا خاندان کی لاڈلی بالورانی
تھی۔گھر گرہستی اور دیگر ہنر میں کمال مہارت تھی۔علم کاحصول جنون کی حدتک تھا ۔ذوق
وشوق سے اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل
کی۔عہد شباب میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر زوجیت طفیل میں آگئیں۔اپنی سلیقہ
مندی فہم وفراست وفاشعاری سے جلد ہی خانہ سُسرال کی آنکھوں کا تارا کیا بنیں
خاندان کا ہرفرد خوش خصائل کاگرید ہ ہو گیا۔پاک بازی اورعفت کے حصار میں
اپنے مجازی خداکی اطاعت اور اولاد کی تعلیم وتربیت کا فریضہ ہمہ وقت مطمح
نظررہا،نیم شب میں صدق دل سے یادِالہٰی ہی
سے فکروفہم کے در واہوتے ہیں۔جس سے تجلیات کا نظارہ ہوتا ہے۔راہ سلوک کی کٹھن پگڈ
نڈیوں پر چلتے چلتے کشف اور روحانی وارداتوں سے معرفت الہٰی کاحصول عام انسان کے
شعور اور ادراک میں نہیں سماسکتا۔شمیم عنبریز سے اردگرد کی فضامعطر رہی۔یہ عطائے
ربانی ہوتی ہے۔خاندان کے متقی پرہیزگار بزرگ اورمستورات روح وقلب پر ہونے والی
واردات کے مشاہدات سے متعلق مشورہ آپاشمیم سے کر کے روحانی تسلی وتشفی حاصل کرتے
تھے۔انسانی رشتے ناتے جب احساس مروت سے عاری ہوجائیں پھر حسد، عداوت اورتلخی
پیداہونے سے ایسی دراڑیں پڑجاتی ہیں کہ حساس لوگوں کے دل پھٹ جاتے ہیں اور معاملات
بگڑناشروع ہوتے ہیں۔ نازک دل قابومیں نہیں رہتاکسی پل چین نہیں آتاکیونکہ اپنوں کی
طرف سے ملنے والے دکھ درد کامداوا ناممکن ہوتا ہے۔لیکن کمال ضبط تھا سب کچھ دل
پرسہہ کر کبھی انجانے میں بھی حرف شکایت زبان پر نہ آئی ہمیشہ عزت واحترام ملحوظ
خاطر رکھا۔اپنا معاملہ اللہ پاک کے سپرد کردیا۔علم وعرفان رشدوہدایت ملنے کے بعد
اللہ والوں کا طرزعمل ہوتا ہے۔دلآویز مسکراہٹ لب پرسجائے خندہ پیشانی سے اپنے صحن
چمن میں آنے والے ہرمہمان کو رحمت خداوندی تصور کرتے ہوئے مہمانداری اس انداز سے
کرنا کہ معزز مہمان لذت کام ودہن کا سرور لیتا اور مسرت وانبساط کے ساتھ خوشگوار
یادیں لے کر رخصت ہوتا۔سنت نبویﷺ پر عمل کرتے ہوئے مہمان کو تحفہ بھی پیشہ کیاجاتا
کہ اس سے محبت پروان چڑھتی ہے۔
موت زندگی کی محافظ ہے۔جو بھی اس عالم
فانی میں آیا ہے۔چاہتے نہ چاہتے اُسے ہر حال میں اپنے مقررہ وقت پر یہاں سے کوچ
کرنا ہے کسی کو محسوس بھی نہ ہوا کہ اپنے مجازی کوراضی کررہی ہے حقیقی خداکے ہاں حضوری کے لیے پریہ دل ہے کہ مانتا
نہیں، احسان ماننا پڑے گاہونی ہو کر رہتی ہے آنکھیں نم ہوا چاہتی تھیں کہ خلد بریں
سے صبا پیغام لے آئی۔ اے میرے لعل میں شاداں وفرحاں شہر خاموشاں سے اپنے گلشن
کانظارہ کرتی رہتی ہوں۔ کلیاں اور پھول مرجھائے ہوئے ہیں ۔اِ ن کی آبیاری پیار،
محبت، الفت، چاہت خلوص اورہمدردی سے کی
ہے۔آفسردہ نہ ہوں ہمت وحوصلہ سے کام لیں باقی اللہ تعالیٰ پر چھوڑدیں وہ سب اچھا
کرے گا۔عظیم امی جی تہی دامن آپ کو کیا پیش کرے جو آپ کے شایان شان ہو کیوں نہ آپ
کی کوئی اداآپ کو خراج عقیدت کے طوپر پیش کی جائے۔خلوص،پیار،الفت،چاہت اورمحبت کے
مہکتے شگوفے اور خوش نما پھول۔پیاری امی جان جن کے فیضان نظر سے مجھے علم وحکمت کا
شعورملا،اُن کی ہمہ پہلو مسحور کن شخصیت اب بھی لمحہ بہ لمحہ میر ے لیے مشعلِ راہ
ہے۔اللہ رب العزت ان کو اپنی لقاورضا کی نعمت عظمیٰ سے نواز کر فردوس بریں میں
اعلیٰ مقام عطافرمائے۔آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں