محمدفاروق سپرا
وقت بدلاتو
معاشرت،معیشت حتیٰ کہ جرائم تک کی نوعیت
اور ترجیحات بدل گئیں۔اجناس اور غذائی اشیاء کی
پیداوار میں ایک وقت میں خودکفیل وطن
عزیز کی بنیادوں کو بدعنوانوں نے کھوکھلا
کردیا اور بدعنوانی روکنے کے نام پرمزیدکرپشن کرنے والوں نے اجناس
اور غذائی اشیادرآمد کرنے پرمجبورکردیا۔ اس لوٹ کھسوٹ کےمعاشرے اورمعاشرتی زندگی
پریہ اثرات پڑے ہیں کہ غربت اورامارت کے درمیان حائل خلیج مزیدگہری ہوگئی ہے۔ غریب
آدمی دووقت کی روٹی پرجرائم کاراستہ
اختیارکرنے پرمجبورہوگیاہے اور جرائم پیشہ عناصر اپنے جرائم کی نوعیت اور اپنے
اہداف تبدیل کررہے ہیں۔
بات کوجرائم پیشہ عناصر
کی وارداتوں اور ترجیحات سے ہی شروع کرتےہیں۔گوجرانوالہ کے علاقے کوٹ اسحاق میں اگلے روز ریستوراں میں چوری کی انوکھی واردات ہوئی جس میں چور
ریستوراں سے ڈیڑھ من چکن کے پکوڑے اور 25 کلو مچھلی چوری کر کے لے گئے۔ایف آئی آر
میں کہا گیا ہے کہ چور 10 کلو رائتہ اور 4 کلو سلاد بھی ساتھ لے کر
گئے۔اس سامان سے ہی اندازہ کیاجاسکتاہےکہ وہ کوئی چورنہیں تھے بلکہ بھوکوں کاٹولاتھاجن
کی اولین ترجیح لذتِ کام ودہن کااہتمام تھا۔ یا پھر غریبوں کاایک ٹولا ہوگا جو چوربن گیاتھا ۔انھوں
نے کئی دن سے کھانانہیں کھایاتھا اورانھوں نے پیٹ پرپتھرباندھ کرغذائی اشیاکو اپنی
ترجیح میں رکھا کہ چلوآج خود بھی اور گھروالوں کےلیے بھی ضیافت کا خوب اہتمام
کرتے ہیں۔
بات چل نکلی ہے تو پتوکی کے
نواح میں ایک حویلی کے ذکرکے بغیر نا مکمل رہے گی جہاں سے چورڈی اے پی کھاد کی بوریاں
لے کرچلتے بنے۔ اس واردات سے یہ تاثرملتاہے کہ یہ واردات ایسے کسانوں نے کی جوڈی
اے پی کھاد کی کمیابی پرناامیدی کاشکارہوکرکھادچوری کرنے پرمجبورہوگئے۔
اگرکھادمہنگی ہوناڈی اے پی کی بوریاں چرانے
کاجواز ہے تو کیابجلی مہنگی ہونابجلی چوری کاجواز نہیں بن سکتی۔ بجلی روز مرہ کے استعمال کی چیز ہے مگر
فی یونٹ بجلی اس قدرمہنگی ہے کہ سفیدپوش طبقے کے بس سے باہرہوگئی ہے۔ اپنی کم
مائیگی کااحساس کرکے لوگ بجلی چوری کرنے لگے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں لاہورکے علاقے لکھوڈیرمیں اپنے ڈیرے پرجانے کااتفاق ہوا۔ چھوٹی سی بستی میں رہنے والے زیادہ ترافراد غریب
طبقے سےتعلق رکھتےہیں اور بجلی ان کے وسائل سے باہرہے۔ وہاں زیادہ ترمکین
اپنی غربت سےتنگ آکر بجلی چوری پرایک عرصےسےمجبورہیں۔ وہاں جانے پرانکشاف ہواکہ
واپڈاوالے آئے اورزیادہ ترمکینوں کےمیٹراس لیےاتارکرلےگئے کہ وہ بجلی چوری کررہےہیں۔یہاں سوال یہ ہے کہ وہ بجلی چوری
پرکیوں مجبورہیں؟
ان انوکھے چوروں کے کچھ
ایسے ہی واقعات کاتذکرہ تھا توراقم کی
توجہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں چوری
کی ایک انوکھی واردات کی طرف چلی گئی۔
وہاں ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر قصاب کوروک کر10 کلو
قیمہ چھین لیا۔ قصاب کی جیب میں ہزاروں روپے،قیمتی موبائل اور نئی موٹرسائیکل بھی
تھی مگر ڈاکوؤں نے قیمہ چھینا اور رفوچکر
ہوگئے۔ قصاب اس بات پرخوش تھا کہ چلوجان توبچی مگراس سے زیادہ حیرت زدہ بھی تھا کہ
ڈاکوؤں نے موبائل کوہاتھ لگایا نہ اس کی
جیب میں رکھی رقم کے بارے میں پوچھا اورتواورقیمتی موبائل بھی نہ چھینا۔ وہ دل ہی دل میں دعاگوبھی ہواکہ یااللہ اگرلوٹنے
والے جرائم پیشہ نہیں تھے تو ان کی ضرورتیں پوری فرما۔
عام طور پر یہ ہوتا ہے گن
پوائنٹ پرلوٹنے والے سب سے پہلے موبائل،پھرنقدی اور آخرمیں موٹرسائیکل یاگاڑی
چھین کرلے جاتے ہیں ۔ وقت بدلا،مہنگائی بڑھی، امیر غریب ہوا اورغریب بھوکوں مرنے
لگاتو جرائم کی نوعیت بھی تبدیل ہوئی ۔کراچی میں اگرچہ ڈاکوؤں نے قصاب کے پاؤں پکڑ کر
قیمے کی خیرات طلب نہیں کی بلکہ اس کی کنپٹی پرپستول رکھ کر قیمہ چھینا۔ کیا پتا ڈاکوؤں کے لبادے میں غربت زدہ
شہری بھوک اوربے روز گاری سے تنگ آکر ڈکیتی کاآپشن اختیارکرنے پرمجبورہوگئے
ہوں۔اس بات کی تائیدبڑے بڑے دانشوروں نے بھی کی ہے کہ غربت انسان کو کفرکی حدتک لے
جاسکتی ہے۔ خاص طورپروہ لوگ زیادہ قابل رحم ہیں جوغربت کی وجہ سے جرائم کاراستہ
اختیارکرنے پرمجبورہوجاتے ہیں۔
ضلع قصورکے علاقے
کھڈیاں کے قریب واقع گاؤں اولکھ ہتھاڑ
کاذکربھی ضروری ہے جہاں چورواردات کے دوران نقدی کے ساتھ گھی،آئل
اورڈرائی فروٹ بھی لے گئے۔ ایسے چوروں کوچورکہنے کودل نہیں مانتا۔وہ یقینی
طورپرچوروں کے روپ میں معاشرے کاکوئی پریشان حال طبقہ کے لوگ تھے جوغربت کی وجہ سے
واردات پرمجبورہوئے کیونکہ ان کی ترجیحات بتارہی
تھیں کہ وہ پیشہ ورمجرم نہیں۔
راقم کے محلے دار گلستان
خان کا تنور ہے۔روٹی کاکاروبارکرتے
ہیں،ایک رات ان کی دکان پرواردات ہوگئی۔ صبح پارک جاتےہوئے ان سے آمناسامناہوا
اور ان کے چہرے پرہوائیاں اُڑنے کاسبب پوچھا تو انھوں نے بتیا کہ چور کچھ رقم لے
گئے،ایل سی ڈی اتارلی مگر پھران کی بڑی ترجیح آٹاتھا،چوروں کو آٹے کی بوریوں کے
سامنے سب کچھ ہیچ نظرآیا۔ وہ آٹے کی کچھ بوریاں،حتیٰ کہ گوندھا ہواآٹابھی لے
کرچلتے بنے۔ اپنی حیثیت کے مطابق گلستان
کو تسلی دی اور تھانے جاکرایف آئی آر درج کرانے کامشورہ دیا۔اپنی طرف سے
چورگلستان کے ساتھ ہاتھ توکرگئے مگران کی ترجیح پھرسوچنے پرمجبورکرگئی،وہ چورتھے
یاچوری پرمجبورتھے۔ مال مسروقہ جرم کی
واردات نہیں کسی اورہی مجبوری کی کہانی سنارہاتھا۔
کہتے ہیں کہ معاشرے میں
جرائم کے بڑھنے کی دوایسی وجوہات ہیں جن پر قابوپانا بہت ہی ضروری ہے۔ایک وجہ غربت
اور دوسری وجہ جہالت ہے۔غربت اور جہالت کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔جب تک یہ دو
چیزیں ہمارے معاشرے میں ختم نہیں ہوں گی یا ان پر قابو نہیں پایا جاسکتا تب تک
ہمارے معاشرے سے جرائم کم نہیں ہوسکتے۔جہاں جہالت ہوتی ہے وہاں غربت ہوتی ہے۔ہمارے
معاشرے میں جرائم کی اور بھی کئی ساری وجوہات ہیں لیکن غربت ان میں سرفہرست ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارۂ
خوراک کے ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میں 87 کروڑ افراد قلّتِ خوراک کا شکار ہیں
اور اُن میں سے 24 ہزار افراد بھوک و افلاس سے روزانہ ہلاک ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر
میں ہر آٹھ افراد میں سے ایک بھوک کا شکار ہے۔ ادارے نے 2012ء کی رپورٹ میں متنبہ
کیا تھا کہ بھوک کے خلاف لڑائی سست ہوتی جارہی ہے۔خوراک کی قلّت کے شکار اِن 87
کروڑ افراد میں سے نصف کے قریب جنوبی ایشیا یعنی پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں
آباد ہیں۔
حالیہ مہنگائی نے عام
آدمی کو بُری طرح متاثر کیا ہےاور ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ابھی لوئر مڈل کلاس
اور غریب کی آمدنی کی سطح جوں کی توں رہے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اشرافیہ کے
مقابلے میں غریب طبقہ کی ضروریات میں بڑا فرق ہے لیکن روزافزوں مہنگائی نے معاشرے میں عام آدمی اور دیگر تمام طبقوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ سال رواں کے غربت کے تازہ تخمینوں کے مطابق
پاکستان کی 34 فی صد آبادی خطِ غربت کے
نیچے رہ رہی ہے۔حکومت وقت کو چاہیے کہ ملک سے غربت کا خاتمہ کرنے کے لیے ٹھوس اور دیرپا نتائج کے حامل اقدامات کرے۔ کیونکہ غربت کاخاتمہ کرکے ہی جرائم کوختم
کیا جاسکتاہے۔
Summary: Write emphasizes
the need for the government to take concrete and long-lasting measures to
eliminate poverty in order to reduce crime rates. He highlights that poverty
and ignorance are deeply interconnected, and addressing these issues is crucial
for reducing crime in the society.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں