📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

جمعہ، 30 مئی، 2025

حصص کی خرید وفروخت ؛کیا شرعی اورکیا ناجائز؟ایک جائزہ

 امتیازاحمد وریاہ

شیئرز  (حصص)کی خرید و فروخت آج کی معیشت میں ایک عام  سرمایہ کاری کی صورت ہے، اور اس کا تعلق اسلامی شریعت کے اصولوں سے بھی ہے۔ اسلام میں مالی معاملات کو شریعت کے مطابق چلانے کی بہت تاکید کی گئی ہے، اس لیے شیئرز کی تجارت کے مختلف پہلوؤں پر  فقہ المالیات  کی روشنی میں  غور و فکر ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ عمل اسلامی احکام کے مطابق ہے یا نہیں۔

حصص   دراصل کسی  کاروباری اور صنعتی کمپنی میں سرمایہ کار کی ملکیت کے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص کسی کمپنی کے حصص خرید کرتا ہے، تو وہ کمپنی کے منافع اور نقصان میں شریک ہوتا ہے۔ حصص کی خرید و فروخت کا مقصد عموماً منافع حاصل کرنا ہوتا ہے، جو یا تو  ان  کی قیمت بڑھنے کی صورت میں ہو سکتا ہے یا کمپنی کے  سالانہ یا ششماہی منافع میں سے حصص کے مطابق  حصے کی صورت میں  ملتا ہے  ۔ اسے ڈویڈنڈ یا قابل تقسیم  حصہ کہتے ہیں۔بالعموم جب کوئی کاروباری یا صنعتی  کمپنی قائم کی جاتی ہے تو ابتدا میں چند سرمایہ دار ایک ا سکیم مرتب کرتے  ہیں اور قواعد  وضوابط متعین کر کے متعلقہ سرکاری محکمے میں  اپنی کمپنی رجسٹر کراتے ہیں ۔پاکستان میں سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں کمپنیاں رجسٹر کی جاتی ہیں۔ پھر ان کا اسٹاک ایکس چینج میں اندراج ہوتا ہے۔ اس کے بعد کسی معتبر بینک سے یہ ضمانت حاصل کی جاتی ہے کہ اگر عوام کو پیش کردہ حصص   سے مطلوبہ  سرمایہ مہیا نہ ہو سکے تو بینک اتنی  مالیت کے حصص خریدکرنے کو تیار ہوگا۔ کسی اسٹاک مارکیٹ  میں  رجسٹریشن کے بعد اشتہار کے ذریعے کمپنی میں شیئرز کی صورت میں شرکت کی کھلی  پیش کش کی جاتی ہے۔بعض اوقات  پہلے سے موجود کمپنی  اپنے کاروبار کو فروغ  اور وسعت دینے کے لیے  بھی عوام کو سرمایہ کاری کی کھلی پیش کش کرتی ہے ۔خواہش مند لوگ اپنی اپنی  مالی استطاعت کے مطابق کم یا زیادہ حصص خریدکرتے ہیں۔ اس طرح سے حصص کے خریداروں اور ابتدائی سرمایہ کاری کرنے والوں کا سرمایہ مل کر مشترکہ ہو جاتا ہے اور شرکت اموال کی صورت بن جاتی ہے ۔بظاہر تو یہ حصص  کی خرید ہوتی ہے لیکن درحقیقت یہ مختلف لوگوں کا اپنی کمپنی کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنے کا طریقہ ہے۔ کمپنی کے ڈائریکٹر اس سرمائے سے کاروبار کرتے ہیں اور اس کام پر اُجرت وصول کرتے ہیں جو کمپنی کے اخراجات کی مد میں شمار ہوتی ہے۔ سالانہ بنیا دپر  تمام اخراجات نکال کر جو نفع ہوتا ہے ،وہ  حصص  داران پر ان کے سرمایہ کے تناسب سے تقسیم کر دیا جاتا ہے ۔اس کا طریقہ یہ کیا جاتا ہے کہ سرمایہ کو مثلاً دس ، دس یا سو ،سو   روپے  کی صورت میں  لیا جاتا ہے اور نفع کو کل حصص پر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ کمپنی کے ڈائریکٹر اپنی اُجرت وصول کرتے ہیں اور اپنے سرمایہ پر  فی حصہ نفع میں بھی  دوسرے حصہ داروں کے ساتھ مساوی طور پر شریک ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ شرعاً اجارہ یعنی اُجرت پر کام کرنے کی صورت ہے ۔  عرف عام میں اس کو شراکت کہا جاتا ہے لیکن شرعی نقطہ نظر سےڈائریکٹروں کی اُجرت  یا تن خواہوں کا  معاملہ شرکت کا نہیں بلکہ اجارہ کاہے۔

 شیئرز کی خرید و فروخت سے متعلق اہم مسائل

شیئرز کی خرید و فروخت شرعی طور پر جائز ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے بعض شرائط اور ضوابط کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ آیا شیئرز کی خرید و فروخت سُود، جوا (قمار)، اور غیر یقینی صورت حال (غرر) جیسے ممنوعہ اعمال کے دائرے میں تو نہیں آتی۔ ان امور پر غور کے بعد  ہی کسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔

1۔ سُودی کاروبار میں شراکت:

   شیئرز کی تجارت کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آیا  جس کمپنی  کے شیئرز خرید کیے جا رہے ہیں، وہ  سُودی لین دین میں ملوث تو  نہیں۔ اسلام میں سُود (ربا) حرام ہے، اس لیے اگر کوئی کمپنی سُودی بنیادوں پر کاروبار کرتی ہے یا سُودی بینکاری  نظام   کا حصہ ہے، تو اس میں سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں ہے۔

2۔ غیر شرعی کاروبار:

   اگر کوئی کمپنی غیر شرعی کاروبار کرتی ہے، جیسے شراب، سور کا گوشت، یا دیگر ممنوعہ اشیاء کی تجارت، تو ایسی کمپنی کے شیئرز میں سرمایہ کاری کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

3۔ غرر (غیر یقینی) اور جوا (قمار):

   شریعت میں ایسے کاروبار ممنوع ہیں جن میں غیر یقینی (غرر) یا جوا شامل ہو۔ بعض اوقات شیئرز کی خرید و فروخت جوا یا  غرر کے قریب ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب یہ عمل محض قیاس آرائیوں (Speculation) پر مبنی ہو اور حقیقی کاروباری بنیاد نہ ہو بلکہ کوئی کمپنی نظری طور پر ہی حصص کا کاروبار کررہی ہو۔

4۔ عارضی ملکیت اور خرید و فروخت:

   بعض لوگ شیئرز کو محض عارضی طور پر خرید کر فوری فائدہ کے لیے بیچ دیتے ہیں۔اسے عرفِ عام میں یومیہ لین دین  (Day Trading) کہا جاتا ہے۔ اگر یہ عمل قیاس آرائیوں پر مبنی ہو اور کمپنی کی حقیقی مالی حالت کو نظر انداز کیا جائے، تو اس میں غرر اور جوا کے عناصر شامل ہو سکتے ہیں اور یہ  شریعت کے  منافی  ہیں۔

5۔ کمپنی کا حقیقی اثاثہ اور ملکیت:

   شیئرز کی تجارت اس وقت جائز ہوتی ہے جب کمپنی کے حقیقی اثاثے اور ملکیت موجود ہوں۔ اگر کوئی کمپنی محض مالیاتی تراکیب یا قیاس آرائیوں کے ذریعے چلائی جا رہی ہو اور اس کا حقیقی کاروباری وجود نہ ہو، تو اس میں سرمایہ کاری جائز نہیں ہے۔

شیئرز کی خرید و فروخت کے جائز پہلو

1۔ مشترکہ ملکیت:

   شریعت میں مشترکہ ملکیت کا تصور موجود ہے، جسے "شرکت" کہتے ہیں۔ شیئرز خرید کر کسی کمپنی میں حصہ دار بننا ایک طرح کی شرکت ہے، بشرطیکہ کمپنی کا کاروبار جائز ہو۔

2۔ مضاربہ کا اصول:

   شیئرز کی تجارت بعض حالات میں مضاربہ (منافع اور نقصان میں شرکت) کے اصول کے تحت جائز ہو سکتی ہے، کیونکہ حصص دار  سرمایہ کار اس  کمپنی کے نفع و نقصان میں شریک ہوتا ہے۔

3۔ ڈویڈنڈ کی شکل میں منافع:

   اگر کوئی کمپنی جائز کاروبار کر رہی ہو اور سرمایہ کار کو ڈویڈنڈ کی صورت میں منافع دے رہی ہو، تو یہ منافع اسلامی طور پر جائز ہے۔

 شیئرز کی خرید و فروخت کے ناجائز پہلو

1۔ سُودی کمپنیوں میں سرمایہ کاری:

   کسی ایسی کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا جو سُودی کاروبار میں ملوث ہو، شرعاً ناجائز ہے۔

2۔ غیر شرعی کاروبار میں شمولیت:

   کسی ایسی کمپنی کے شیئرز خریدنا جو غیر شرعی کاروبار کرتی ہو، جیسے شراب کی فروخت یا قماربازی، تو  یہ بھی ناجائز ہے اور اس کی شریعت اسلامی میں قطعاً اجازت نہیں۔

3۔ قیاس آرائی اور جوا:

   محض قیاس آرائی کی بنیاد پر  کسی ایسی کمپنی کے شیئرز خرید کر نا جوا کے قریب ہو سکتا ہے،جس کی  حقیقی مالی حالت کے بارے میں حصص دار  کو کچھ  معلوم  نہیں  مگر اس نے منافع کے  لالچ میں اس کے حصص خرید کرلیے۔اس کا یہ عمل  اسلامی احکام کے خلاف ہے۔شیئرز کی خرید و فروخت ایک جائز عمل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں اسلامی اصولوں کی پابندی کی جائے۔ سرمایہ کار کو یہ یقین دہانی حاصل  کرنی چاہیے کہ وہ سُودی کاروبار، غیر شرعی کاروبار، یا محض قیاس آرائی کے ذریعے منافع حاصل کرنے والے طریقوں  سے  تو محفوظ  ہے۔ علماء اور فقہاء نے مختلف حالات میں شیئرز کی تجارت کو جائز قرار دیا ہے، لیکن اس کے لیے مذکورہ شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔

1 تبصرہ:

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template