امتیازاحمدوریاہ
اسلام میں
جرم و سزا کا تصور عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ اسلامی قانون (شریعت) میں جرم و سزا کے
اصول قرآن و حدیث کی روشنی میں متعین کیے گئے ہیں، جن کا مقصد فرد اور معاشرے میں
امن و انصاف قائم رکھنا، برائی کو روکنا اور فتنہ و فساد کا سدباب کرنا ہے۔قرآن
مجید میں اصلاح معاشرہ کے لیے ’’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘‘ کا حکم دیا
گیا ہے لیکن صرف اسی تاکید پر
اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ جرائم کی روک تھام
اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سزاؤں کا بھی حکم دیا ہے۔تاہم اسلام میں جرم و سزا کا تصور محض سزاؤں تک محدود
نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جرائم کی وجوہات کو ختم کرنے اور افراد کی اخلاقی و
روحانی تربیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اسلامی قوانین کا مقصد خوف اور زبردستی سے
نہیں، بلکہ ایک ایسے صالح معاشرہ کا قیام
ہے جس میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہو اور لوگوں کی عز ت وناموس اور جان
ومال کا تحفظ ہو۔
جُرم کی
اقسام
اسلامی
قانون میں جرائم کو عمومی طور پر تین زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
۱۔ حدود اللہ
یہ وہ
جرائم ہیں جن کی سزا قرآن و سنت میں متعیّن کر دی گئی ہے اور ان میں کسی تبدیلی یا
ترمیم کی گنجائش نہیں ہوتی۔حدود اللہ کا مقصد صرف یہ نہیں کہ مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے
بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعے پورے معاشرے کو عبرت اور
تنبیہ حاصل ہو۔حدود میں درج ذیل سات جرائم شامل ہیں:
- چوری : ہاتھ کاٹنے کی سزا ۔’’چور خواہ مرد
ہویا عورت ،اس کا ہاتھ کاٹ ڈالو ، جو
کچھ انھوں نے کیا ہے،اللہ کی طرف سے یہ یہ اس کی سزا ہے‘‘۔( سورہ المائدہ:38)
- زنا :رسول اللہ ﷺ کی تشریح کے مطابق
زنا کے مرتکب شادی شدہ کے لیے
رجم (سنگساری) کی سزا ہے اور غیر
شادی شدہ کے لیے سو کوڑوں کی سزا ہے۔نیز سزا کے نفاذ کے وقت مومنوں کا ایک مجمع موجود ہونا چاہیے۔(النور:
2)
- قذف ( کسی کی عفت وعصمت پر من گھڑت تہمت لگانا) : ۸۰ کوڑوں کی سزا۔ ’’ اور جو
لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور پھر چار گواہ پیش نہ کرسکیں
توایسے لوگوں کو اسّی کوڑے مارو‘‘۔ (النور:4)
- مے نوشی : احادیث میں نبی اکرم ﷺ کے دور میں چالیس کوڑوں اور خلفائے راشدینؓ کے دور میں
شراب نوشوں کو اسّی کوڑوں کی سزا
دینے کا ذکر ہے۔
- حرابہ (ڈاکا زنی ، خونریزی اور فساد فی الارض) :قرآن مجید میں
اس جرم کی چار سزاؤں کا ذکر ہے۔قتل،
سولی چڑھانا، ہاتھ اور پاؤں کاٹنا یا جلا وطنی ۔(المائدہ: 33)
- ارتداد (اسلام سے منکر ہوجانا) : فقہاء کے نزدیک اس کی سزا موت ہے۔
- بغاوت ۔ اس کی سزا بھی موت ہے۔
۲۔ قصاص و دیت
قصاص ودیت
کے زمرے میں آنے والے جرائم انسانی جان یا
جسم کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہوتے ہیں۔ ان میں اسلامی قانون قصاص (بدلہ) اور دیت
(خون بہا) کا اصول نافذ کرتا ہے اور قرآن مجید میں اس کی صراحت موجود ہے۔
- قتل عمد : بدلے میں قاتل کو قتل کیا جا سکتا
ہے، یا مقتول کے ورثاء دیت قبول کر سکتے ہیں ۔(البقرہ: 178)
- قتل خطا : دیت کی ادائی لازم ہوتی ہے۔
- جسمانی نقصان : آنکھ، ہاتھ، پیر، یا دیگر اعضاء کے
نقصان پر "جیسا نقصان ویسا بدلہ" کا أصول لاگو کیا جاتا ہے اور
قاضی ان کی دیت کا بھی فیصلہ کرسکتا ہے۔ (المائدہ: 45)
۳۔ تعزیری جرائم
یہ وہ
جرائم ہیں جن کی سزا اسلامی حکومت یا قاضیِ عدالت کی صوابدید پر ہوتی ہے۔ ان میں رشوت، دھوکا دہی،
جعل سازی، ذخیرہ اندوزی، اسلامی معاشرے
میں گمراہ کن باتیں پھیلانا اور دیگر
معاشرتی برائیاں شامل ہیں۔ قاضی جُرم کی نوعیت دیکھ کر مناسب سزا تجویز کرتا ہے،
جو قید، جرمانہ، کوڑوں یا دیگر سزاؤں کی صورت میں ہو سکتی ہے۔
اسلامی سزاؤں کے نفاذ کے مقاصد
اسلامی
نظامِ سزا کے نفاذ میں چند اہم مقاصد کارفرما ہوتے ہیں:
- اصلاحِ فرد و معاشرہ : سزا کا مقصد
محض بدلہ لینا نہیں بلکہ مجرم کو سدھارنے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ
سزایاب ہونے کے بعد معاشرے کا مفید شہری بن کر رہ سکے۔نیز کسی سزایافتہ
مجرم کو بعد میں اس کے ماضی کے گناہ
پر عار بھی نہیں دلائی جاسکتی۔
- عبرت اور روک تھام : سخت سزاؤں کے ذریعے جرائم کو ختم
کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ معاشرے میں
لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
- عدل و انصاف کا قیام :اسلامی نظام
حکومت کا بنیادی مقصد معاشرے میں عدل وانصاف کا قیام ہوتا ہے اور اگر کسی
امیر سے بھی کوئی جرم سرزد ہوجائے تو اس سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جاتی اور
اس کے جرم کے مطابق سزا بغیر کسی تفریق کے نافذ کی جاتی ہے۔
- حقوق العباد کا تحفظ : کسی بھی سزا
کے نفاذ کا مقصد دوسرے انسانوں کے حقوق کی پامالی کو روکنا ہے۔
اسلامی نظامِ سزا میں انصاف کے اصول
- کسی بھی جُرم کوثابت کرنے کے لیے شہادت ضروری ہوتی ہے۔محض کسی شخص
کے الزام پر کسی ملزم کو سزا
نہیں سنائی جاسکتی۔اگر کوئی ملزم خود ہی اپنے جرم کا
إقرار کرلے تو اس پر سزا کا
نفاذ کیا جائے گا۔گواہی کی عدم موجودگی یا جرم کے عدم ثبوت پر قاضی ( موجودہ
دور میں جج) کسی ملزم کو سزا نہیں دے سکتا اور وہ اس کو شک کا فائدہ دے گا۔
- حدود کے جرائم میں ثبوت جرم اور عادل گواہوں کی گواہی ضروری ہوتی ہے۔بہ صورت دیگر شک کا فائدہ دیا جاتا ہے اور قاضی حدود کو ساقط کرکے تعزیری سزا دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر زناکے جرم کے ثبوت کے لیے چار عادل گواہوں کی شہادت ضروری ہے۔ان چاروں میں سے کسی ایک کی عدم موجودگی میں حد نافذ نہیں ہوگی اور سنگساری یا کوڑے مارنے کی سزا دینے کے بجائے قاضی معاشرے میں امن وامان اور بے حیائی کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سخت تعزیری سزا دے سکتا ہے۔
- کسی بھی ملزم یا مجرم کو سزا دینے کا اختیار حکومت یا قاضی کو ہوتا ہے، کوئی فرد ذاتی انتقام نہیں لے سکتا۔
- مظلوم (متاثرہ فرد)کو انصاف دلانے کی بھرپور کوشش
کی جاتی ہے، اور جھوٹے الزامات پر بھی سخت سزا دی جاتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں