📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

جمعہ، 25 اپریل، 2025

بھارت کو پاکستان پر ٹیکنالوجی میں فیصلہ کُن برتری حاصل نہیں : ریٹائرڈ بھارتی جنرل

 اعظم علی ، سنگاپور

 بھارت کے زیر انتظام  متنا زع ریاست  مقبوضہ جموں و کشمیر میں  واقع سیاحتی مقام  پہلگام  میں  سیاحوں پر مسلح افراد کے حملے  نے بھارتی عوام میں اشتعال پیدا کردیا ہے اور ہر طرف سے حکومت پر جوابی کارروائی کے لیے دباؤ  ڈالا  جا  رہا ہے لیکن   ماہر ین حکومت کو محتاط رہنے کی تلقین کررہے ہیں ۔اس حملے میں   غیر ملکیوں سمیت 26  سیاحوں کی  ہلاکتیں  ہوئی ہیں  ۔بھارتی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے  ٹائمز آف انڈیا  میں  شائع شدہ  اپنے ایک مضمون میں اس معاملے  کے حوالے سے  سنجیدہ سوالات اُٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے  کہ ’’ایک مشتعل جذباتی قوم خون کے بدلے خون کا مطالبہ کررہی ہے لیکن  (وزیراعظم نریندر مودی  کی حکومت عوامی دباؤ کی بنا پر جلد بازی میں فیصلے نہ کرے‘‘۔
وہ لکھتے ہیں:’’بھارت کو    میزائل، ڈرون، فضائی  اور  سمندری  طاقت سمیت کسی بھی شعبے میں پاکستان  کے خلاف  مکمل بالادستی حاصل  نہیں ہے جبکہ  پاکستان کے پاس  ہمارے حملے کا اسی شدت سے جواب دینے کی صلاحیت موجود ہےاور ہمیں اس کے لیے  تیار رہنا چاہیے‘‘۔
اس احتیاط کی تلقین کے باوجود جنرل  پناگ نے تسلیم کیا کہ ہلکا پھلکا  بھارتی حملہ متوقع ہے جو  بہت زیادہ شدید تو نہیں ہوگا لیکن   پھر بھی  پاکستان کو جواب دینے پر مجبور کردے گا۔انھوں نے  بھارت کو مشورہ دیا ہے  کہ پاکستان کے قلب  میں  واقع   مرید کے میں لشکر طیبہ  کے  مرکز   اور اور بہا ول پور میں واقع  جیش محمد کے مرکز  پر حملہ مناسب نہیں ہو گا  کیونکہ  ا س کے نتیجے میں   تنازع  بڑھ کر ایک  محدود جنگ   کا رُخ  اختیار  کرلے گا۔
جنرل پناگ کے  بہ قول   بھارت کے پاس ایسی مختصر اور بھرپور جنگ  کی راہیں کھلی ہیں جس میں پاکستان کو ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور نہ  کیا جائے ۔بھارت کو چاہیے کہ آٹھ دس دن کی جنگ میں لائن آف کنٹرول  سے  دس پندرہ کلومیٹر اندر   تک گھُس کر  پاکستان چین  اقتصادی راہداری  ( سی پیک) کے لیے خطرہ بن جائے   تو پاکستان  ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال کرنے سے پہلے ہی اپنی اس اسٹریٹجک راہداری کو  بچانے کے لیے امن کی دہائی دینے   پر مجبور ہو جائے گا لیکن  انھوں نے سی پیک کو بچانے کے لیے چین  کے ممکنہ ردعمل پر غور نہیں کیا کہ وہ کیا اور کتنا شدید   ہوسکتا ہے جبکہ انھیں یہ بھی معلوم نہیں  کہ سی پیک  کنٹرول  لائن   سے کتنی دور واقع  ہے اور بھارتی سورما پاکستان کی بھرپو ر فضائی قوت کی موجودگی میں کیونکر دشوار گزار پہاڑی علاقے میں پیش قدمی کرسکیں  گے۔
انھوں  نے  بھارت کے فیصلہ سازوں کو خبردار  کیا ہے کہ “ہمیں عوامی دباؤ  میں   آکر قلیل المدت سیاسی فوائد کے  لیے جلد بازی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ پاکستان  کو  انتظار کی سولی پر لٹکا کر خوب سوچا سمجھا فیصلہ کُن حملہ  کیا جائے بلکہ اپنی سیاسی و سفارتی اہداف کے حصول تک حملے جاری رکھے جائیں ۔اس ساری حکمت عملی کا مطلب یہ  ہے کہ  پاکستان کو بھرپور سزا دی جائے لیکن اس حدتک نہیں کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے ‘‘۔
اس صورت  حال میں  تایا سام  (امریکا)سے کوئی سوچی سمجھی پالیسی کی توقع نہیں رکھی جاسکتی ۔پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ   بھارت  اپنے اس   تایا جی کی مدد کے بغیر پاکستان سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں  رکھتا ۔ چناں  چہ بھارت ایسی صورت میں     پاکستان میں فوجی  مداخلت   نہیں کرے گا۔نیز صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو  امریکی  اسٹیبلشمنٹ کی  طویل المدت پالیسیوں اور اہداف کی کوئی پروا نہیں  ۔  تاہم ، اس کی پشت پناہی سے اگر  بھارت  وقتی طور پر  کچھ حاصل کرلیتا ہے تو اس کے باوجود بھی  طویل المدت کے لیے اپنے پیچھے  تباہی و مشکلات کو  چھوڑے گا ۔

2 تبصرے:

  1. بھارتی میڈیا کا یہ دعویٰ کہ سی پیک لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے بالکل قریب سے گزرتا ہے، حقائق کے سراسر منافی ہے۔ میرے دوست امتیاز احمد وڑائچ نے اس گمراہ کن خبر پر ایک مدلل مضمون تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے جغرافیائی اور زمینی حقائق کے ذریعے بھارتی موقف کو بے نقاب کیا۔ یہ بھارتی پروپیگنڈہ محض عوام کو گمراہ کرنے اور عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. "نادان را چون بخفت، بیدار مکن."

    جواب دیںحذف کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template