🗑️ صحافتی کوڑا📌 فوتیدگی:
مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔
بھارت کے زیر انتظام
متنا زع ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر
میں واقع سیاحتی مقام پہلگام
میں
سیاحوں پر مسلح افراد کے حملے نے
بھارتی عوام میں اشتعال پیدا کردیا ہے اور ہر طرف سے حکومت پر جوابی کارروائی کے
لیے دباؤ ڈالا جا رہا
ہے لیکن ماہر ین حکومت کو محتاط رہنے کی تلقین کررہے ہیں
۔اس حملے میں غیر ملکیوں سمیت 26 سیاحوں کی ہلاکتیں
ہوئی ہیں ۔بھارتی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹننٹ
جنرلایچ ایس پناگنے ٹائمز آف انڈیا میں
شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں اس
معاملے کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اُٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ایک مشتعل جذباتی قوم خون کے بدلے خون کا
مطالبہ کررہی ہے لیکن (وزیراعظم نریندر
مودی کی حکومت عوامی دباؤ کی بنا پر جلد
بازی میں فیصلے نہ کرے‘‘۔ وہ لکھتے ہیں:’’بھارت کومیزائل، ڈرون، فضائی اورسمندریطاقت سمیت کسی بھی شعبے میں
پاکستان کے خلافمکمل بالادستی حاصل نہیں ہے جبکہ پاکستان کے پاسہمارے حملے کا اسی شدت سے جواب دینے کی صلاحیت موجود ہےاور ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے‘‘۔ اس احتیاط کی تلقین کے باوجود جنرلپناگ نے تسلیم کیا کہ ہلکا پھلکابھارتی حملہ متوقع ہے جوبہت زیادہ شدید تو نہیں ہوگا لیکنپھر بھیپاکستان کو جواب دینے پر مجبور کردے گا۔انھوں
نےبھارت کو مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کے قلبمیں واقعمرید کے میں لشکر طیبہکے مرکزاور اور بہا ول پور میں واقع جیش محمد کے مرکز پر حملہ مناسب نہیں ہو گا کیونکہ ا س کے نتیجے میںتنازع بڑھ کر ایک محدود جنگ کا رُخاختیارکرلے گا۔ جنرل پناگ کے بہ
قولبھارت کے پاس ایسی مختصر اور بھرپور جنگکی راہیں کھلی ہیں جس میں پاکستان کو ایٹمی ہتھیار
استعمال کرنے پر مجبور نہ کیا جائے ۔بھارت
کو چاہیے کہ آٹھ دس دن کی جنگ میں لائن آف کنٹرول سے دس
پندرہ کلومیٹر اندر تک گھُس کرپاکستان چیناقتصادی راہداری( سی پیک) کے لیے
خطرہ بن جائے تو پاکستانایٹمی ہتھیاروں کو استعمال کرنے سے پہلے ہی اپنی
اس اسٹریٹجک راہداری کوبچانے کے لیے امن
کی دہائی دینے پر مجبور ہو جائے گا
لیکنانھوں نے سی پیک کو بچانے کے لیے چینکے ممکنہ ردعمل پر غور نہیں کیا کہ وہ کیا اور
کتنا شدیدہوسکتا ہے جبکہ انھیں یہ بھی معلوم نہیںکہ سی پیک کنٹرول لائنسے
کتنی دور واقعہے اور بھارتی سورما
پاکستان کی بھرپو ر فضائی قوت کی موجودگی میں کیونکر دشوار گزار پہاڑی علاقے میں
پیش قدمی کرسکیںگے۔ انھوں نے بھارت کے فیصلہ سازوں کو خبردار کیا ہے کہ “ہمیں عوامی دباؤ میںآکر قلیل المدت سیاسی فوائد کے لیے جلد بازی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ پاکستان کوانتظار
کی سولی پر لٹکا کر خوب سوچا سمجھا فیصلہ کُن حملہ کیا جائے بلکہ اپنی سیاسی و سفارتی اہداف کے
حصول تک حملے جاری رکھے جائیں ۔اس ساری حکمت عملی کا مطلب یہہے کہ پاکستان کو بھرپور سزا دی جائے لیکن اس حدتک نہیں
کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے ‘‘۔ اس صورتحال
میںتایا سام (امریکا)سے کوئی سوچی سمجھی پالیسی کی توقع نہیں
رکھی جاسکتی ۔پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت اپنے استایا جی کی مدد کے بغیر پاکستان سے
نمٹنے کی صلاحیت نہیںرکھتا ۔ چناںچہ بھارت ایسی صورت میںپاکستان میں فوجی مداخلت نہیں کرے گا۔نیز صدر ڈونالڈ ٹرمپ کوامریکی اسٹیبلشمنٹ کیطویل المدت پالیسیوں اور اہداف کی کوئی پروا نہیں ۔ تاہم
، اس کی پشت پناہی سے اگربھارت وقتی طور پر کچھ حاصل کرلیتا ہے تو اس کے باوجود بھی طویل المدت کے لیے اپنے پیچھے تباہی و مشکلات کو چھوڑے گا ۔
بھارتی میڈیا کا یہ دعویٰ کہ سی پیک لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے بالکل قریب سے گزرتا ہے، حقائق کے سراسر منافی ہے۔ میرے دوست امتیاز احمد وڑائچ نے اس گمراہ کن خبر پر ایک مدلل مضمون تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے جغرافیائی اور زمینی حقائق کے ذریعے بھارتی موقف کو بے نقاب کیا۔ یہ بھارتی پروپیگنڈہ محض عوام کو گمراہ کرنے اور عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
مدیر ،صحافت آن لائن کے اسکولی، کالجی اور جامعاتی ہم جماعت دوست محمد اقبال گھمن ایک مرتبہ پھر ڈگری یافتہ اسکالر ہوگئے ہیں۔اب کہ انھوں نے جامعہ سیالکوٹ سے تعلیم میں ایم فل کیا ہے۔اس سے پہلے وہ ایم ایس سی نفسیات ، ایم ایڈ اور ایم اے اسلامیات کرچکے ہیں۔ تعلیمی میدان میں اس شاندار کامیابی پر ان کے دوستوں ، رفیق کاروں اور اعزاء واقارب نے انھیں مبارک باد پیش کی ہے۔ وہ اس وقت محکمہ تعلیم ضلع سیالکوٹ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
I am an experienced journalist and writer. My career as a journalist has spanned over 30 years. Punjabi is my native language. I hold Master of Science degrees in Media Studies, Psychology and an MA in History. I have translated 10 books from English into Urdu (including two books on Journalism). I am also a co-author of three textbooks. I have translated over 1000 articles and reports on different topics from English into Urdu and Punjabi. I have reviewed, proofread, and edited numerous books on Islam, Pakistan, History, Urdu language and literature, Journalism, Social Studies etc. My research topic for MS Media Studies degree program was “Problems of Orthography in Urdu Journalism of Pakistan.” (پاکستان کی اُردُو صحافت میں املا کے مسائل) I have written extensively on this subject, and my research articles have been published in different periodicals and research journals. I have worked with diverse national and international media and development organizations as a writer, translator, and editor.
بھارتی میڈیا کا یہ دعویٰ کہ سی پیک لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے بالکل قریب سے گزرتا ہے، حقائق کے سراسر منافی ہے۔ میرے دوست امتیاز احمد وڑائچ نے اس گمراہ کن خبر پر ایک مدلل مضمون تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے جغرافیائی اور زمینی حقائق کے ذریعے بھارتی موقف کو بے نقاب کیا۔ یہ بھارتی پروپیگنڈہ محض عوام کو گمراہ کرنے اور عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
جواب دیںحذف کریں"نادان را چون بخفت، بیدار مکن."
جواب دیںحذف کریں