📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

ہفتہ، 19 اپریل، 2025

پاکستان میں ’’مذہبی موضوعات ‘‘ کی میڈیا فریمنگ

 امتیازاحمد وریاہ

سوشل میڈیا  کے پلیٹ فارمز بالخصوص یو ٹیوب ، ایکس اور فیس بُک   وغیرہ  پر آپ کوئی  غیر معمولی سرگرمی دیکھیں ۔کسی ایک ہی  خاص موضوع   پرمقررین کرام  (بعض صورتوں  میں کرائم) اور لکھاری حضرات خامہ فرسائی کررہے ہوں ، یا گل افشانی ِگفتار کے مظاہرے کررہے ہیں،  تحریری پوسٹوں اور یوٹیوب کے  مصاحبوں کی  ویڈیوز کا نفس مضمون ایک ہو اور ان     میں  ایک طرح کامواد سامنے  لایا جا رہا ہو   تو  سب سے پہلے  اس سوال پر غور کریں ،اس ساری مشق میں کس کا مفاد  پنہاں  ہوسکتا ہے؟کیا اس مشق سے  ملک وقوم  اور وسیع تر مفہوم میں  ملت کو درپیش  حقیقی مسائل اور موضوعات ہی کو پس پشت  تو نہیں ڈالا جارہا ہے؟ نیز کیا  لوگوں کو شعوری طور پر مجہول  الفکر تو بنایا جارہا ہے کہ وہ ملک وقوم کو درپیش حقیقی مسائل پر غور وفکر کرنے کے بجائے   گھسٹے پٹے اور یبوست زدہ  موضوعات ہی پر لاحاصل   مباحث میں الجھے  رہیں ؟   یا یہ کیا سب فین فالوئنگ اور ویوزکا چکر ہے۔ المعروف روٹی روزی/ ڈالر کا چکر ہے  کہ ہزاروں ، لاکھوں کی تعداد میں فین فالوئنگ والے حضرات ہی سے متنازع موضوعات پر سوال وجواب کیے جارہے ہیں اور کسی حقیقی علمی شخصیت سے رائے نہیں طلب کی جارہی ہے؟کیا مفتی طارق مسعود، مولانا طارق جمیل ، مفتی حنیف قریشی یا انجنیئر مرزا کے سوا پاکستان میں قحط الرجال  ہے کہ اور کوئی نابغہ شخصیت انٹرویو نگاروں یا پوڈ کاسٹروں کو  دستیاب ہی نہیں ہو  رہی ہے۔

دوم، بہ طور صحافی اور تجزیہ کار ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا، ان انٹرویو نگاروں / پوڈ کاسٹروں کی  ڈور کون ہلا رہا ہے یا  ان کی دُم  پر کس کا پاؤں ہے؟ان کے  ایجنڈا کی  سیٹنگ ، پرائمنگ ، فریمنگ میں کس کا ہاتھ کارفرما ہے؟ کسی موضوع بالخصوص مذہبی موضوعات پر گفتگو میں خاص  فریم ہی کیوں بروئے کار لائے جارہے ہیں ۔نیز ان رجالوں  کا ماضی کیا تھا؟ اور حال کیا ہے؟ کیا وہ اپنی پیشہ ورانہ بقا کی جنگ لڑرہے ہیں یا   ان کی وڈیوز ہزاروں ، لاکھوں  کی تعداد میں  دیکھنے کی صورت  میں انھیں ہزاروں ڈالر ہاتھ لگتے ہیں  اور لوگوں نے اس سستی صحافت ہی کو اصل صحافت کے ہم پلہ  گردان لیا ہے۔پھر ان   مصاحبوں کے حاصلات کے گہرے تجزیے کی ضرورت ہے کہ ان  سے کون سی ٹھوس  علمی، دینی، سیاسی یا سماجی خدمت ہورہی ہے؟ اور  اس’’ عالمانہ سرپھٹول ‘‘سے کس فریق کو فائدہ پہنچ رہا ہے؟

آگے بڑھنے سے پہلے یہ جان لیجیے کہ فریمنگ تھیوری اور  میڈیا فریمنگ ہے کیا ؟ اور پاکستان میں سوشل میڈیا میں   فریمنگ تھیوری  کو کیسے بروئے کار لایاجارہا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ معلومات/ اطلاعات کو کس طرح سے پیش کیا جائے کہ وہ  لوگوں کے ادراک ، رویوں اور فیصلوں  یا فیصلہ سازی کے عمل پر اثرانداز ہو۔ فریم  رائے عامہ  پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ان کے ذریعے   کسی موضوع  کے بعض خاص  پہلوؤں   کو نمایا ں کیا جاتا ہے  اور دوسروں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔اس نظریے کے دوپہلو ہیں:

1۔فریم کا انتخاب: اس بات/موضوع کا انتخاب ، جس پر زیادہ زور دیاجائے گا  یا کس  سے بالکل صرف ِ نظر کیا جائے گا۔

2۔فریم کی تشریح :سامعین ، ناظرین اس چوکھٹے کی اطلاع / معلومات کی کیسے یا کیا تشریح کرتے ہیں۔اس کو کیا معنی پہناتے ہیں۔

حالیہ  ہفتوں  میں  پاکستان میں  سوشل میڈیا کی بعض مقبول شخصیات کے انٹرویوز کو اگر  ان دو نکات اور مذکورہ  سوالوں کی روشنی میں پرکھیں گے تو آپ کو بہت سے جواب مل جائیں گے۔ مثلاً ، مذہبی موضوعات کی کیسے فریمنگ کی گئی؟ کن  متنازع موضوعات پر متنازع  شخصیات سے سوالات کیے گئے اور ان کے پیروکاروں کا ردعمل کیا رہا ہے؟ نیز جب  غزہ جل رہا تھا ،ہمارے یہاں ایسے موضوعات پر گل افشانیِ گفتار کے مظاہرے  کیے  جارہے تھے جن کا آج کے مسائل سے کوئی لینا دینا  ہی نہیں۔ دینی پہلو سے اگر دیکھا جائے مستحب تو دور کی بات ہے ، ایسے سلسلہ ہائے کلام مباح کے زمرے میں بھی نہیں آتے ہیں۔ مثال کے طور پر ماضی میں ایک بزرگ عالم نے اپنی کسی کتاب میں کوئی بات کہ دی ہے تو اس کا آج کی نسل  کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔اس سے ان کے عقیدوں پر فرق آئے گا اور ان کو عمل کے لیے کیا انگیخت ملے گی؟یا ایسا مواد جس کا دین اسلام کی حقیقی تعلیمات سے بھی دورپار کا تعلق نہیں،اس کی تشہیر  میں کس کا مفاد پنہاں  ہوسکتا ہے؟

یہ ٹھیک ہے کہ میڈیا / سوشل میڈیا  کی بیشتر کمپنیوں  کی ملکیت امریکیوں / اسرائیلیوں کے ہاتھ میں ہے اور ان کے پلیٹ فارمز پر آپ وہی کچھ مواد پیش /شائع / نشر کرسکتے ہیں، جو وہ چاہتے ہیں۔ ان  کی مرضی کے برعکس ممنوعہ مواد  پیش کرنے کی  صورت میں ان کے الیگورتھم نشان دہی کر دیتے ہیں ۔ چناں چہ ایسے  مواد کو انٹر نیٹ سے  حذف کردیا جاتا ہے  یا ان تک قارئین  کی  رسائی محدود کردی جاتی ہے۔

لیکن ہمارے یہاں عملاً اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ وہ یہ   کہ ہم  نے ان  کی اس   گیٹ کیپنگ پابندی  کو خود پر کچھ زیادہ ہی حاوی کررکھا ہے۔ہمیں اس بات  پرغور کرنا چاہیے کہ کیا ہمیں   ان کے  اس  ان دیکھے  خوف یا کسی مادی مفاد کے پیش نظر ظالم کو ظالم کہنا چھوڑ دینا چاہیے ، اس کی سفاکیت پر آنکھیں موند لینی چاہییں  اور اصل موضوع اور حقیقی مسائل  پر کوئی  گفتگو کرنے کے بجائے ازکارِ رفتہ اور پامال موضوعات کو پھر سے  گل افشانیِ گفتار کے لیے لے کر  بیٹھ جائیں۔لمحہ موجود میں دنیا میں پائی جانے والی بنی نوع انسان کی تین چار نسلوں نے حالیہ تاریخ  میں ایسی سفاکیت اور درندگی   نہیں دیکھی ہو گی جس کا مظاہرہ غزہ کی پٹی  میں کیا جارہا ہے۔ وہاں  ایک بڑا انسانی المیہ  برپا ہے اور اس کو روکنے کے لیے دنیا  بالخصوص  مسلم  ممالک نے کیا کیا؟ کیا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ  آج کے اربابِ اقتدار وسیاست  کی انسانیت کے چراغ گل ہوچکے اور قلوب واذہان مردہ ہوچکے ہیں؟ ورنہ عوا م تو اپنے طور پر  دامے ، درمے ، سخنے کچھ کرنے کو بے تاب ہیں۔یوم الدین جب ان ہی،انٹر نیٹ کی دنیا کے ’’ مقبولِ عام‘‘  صاحبانِ علم  سے یہ پوچھا جائے گاکہ تم نے غزہ  میں   کٹھن حالات میں قوم کی کیا رہ نمائی کی تھی اور کیا سفاک دشمن کی سفاکیت اور انسانیت سوزی  کے خلاف آواز بلند کی تھی تو  وہ کیا جواب دیں گے؟ کیا محض اس سے کام چل جائے گا کہ ہم   نے یوٹیوب پر بہت  سی  وڈیوز اپ لوڈ کردی تھیں؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template