سانجھ کاری

بلاگ فہرست

جمعرات، 22 اکتوبر، 2026

نئے صوبے بعد میں بنائیے ، پہلے صحافیوں کے واجبات ادا کیجیے

 امتیازاحمد وریاہ

    پاکستان کے ایک بڑے میڈیا  گروپ کے مالک جناب میاں عامر محمود حالیہ ہفتوں کے دوران میں برپا کردہ نئے صوبوں کے قیام کی مہم میں پیش پیش رہے ہیں۔وہ شہرشہر جاکر پاکستان میں  مجوزہ نئے صوبوں  کے فضائل ومناقب بیان کررہے تھے۔نئے صوبوں کے موئدین کا دعویٰ یہ ہے کہ اس  اقدام  سے نئے انتظامی یونٹوں کے قیام کے بعد اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم ہوگی اور لوگوں کے مسائل فوری  طور پر ان کے گھر کی دہلیز  پرحل ہوں گے۔اس مہم میں  پنجاب بالخصوص  پاکستان  کے دل لاہور  سے  تعلق رکھنے  والے تعلیم فروش  مافیا کے تمام سرکردہ کردارمیاں صاحب  کے  شانہ بشانہ تھے۔

اس جملے پر ہوسکتا ہے ، ہمارے بعض  قارئین چیں بہ جبیں ہوں مگر حقیقت یہی  ہے، پاکستان میں تعلیم فروشی کا دھندا کرنے  والوں نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی اور حکومتوں کی مہربانیوں  سے ان پر ہن برسنا شروع ہوگیا۔دوسری حقیقت یہ ہے کہ اصلاً  یہ لوگ ملک میں تعلیم ، تعلیمی معیار کا بیڑا غرق کرنے  والے  ہیں اور نجانے کس کے اشارے پر ٹامکے ٹوئیے ماررہے تھے۔اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ آپ کو کہیں بھی کسی فورم یا مذاکرے میں کسی جامعہ کا کوئی سنجیدہ پروفیسر یا نظم ونسق کی سائنس کا کوئی ماہر نظر نہیں آیا ہوگا۔بس دلیل ومنطق  اور زمینی حقائق سے عاری  بلند بانگ دعوے تھے۔زمینی حقائق سے عاری  نودولتیے ایسے ایسے دعوے کررہے تھے کہ نئے صوبے بنتے ہی ہر جگہ دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہوجائیں اور عوام کو ان میں ڈبکیاں لگانے کے وافر مواقع دستیاب ہوں گے۔

فدوی ، ان نئے صوبوں کے قیام کی پرچی کا ڈھنڈورا  پیٹنے والوں کا تھوڑا سا اصل کردار ،اصل چہرہ آپ کو دکھانا چاہتا  ہے۔ میں دنیا ٹی وی کی بالکل ابتدائی ٹیم میں شامل تھا اور جیو ٹی وی سے دنیا  میڈیاگروپ میں گیا تھا۔ میرا  اس  چینل کے اسلام آباد بیورو میں نیوز ایڈیٹر کے طور پر تقرر ہوا تھا۔ یہ اکتوبر 2007ء کی بات ہے۔ہم نئے ادارتی عملہ نے لاہور میں تین ماہ کی تربیت بھی حاصل کی تھی، پھر واپس اسلام آباد آگئے ،لیکن مجھے دوبارہ لاہور بلوایا گیا کہ نئے بھرتی شدگان کی خبرنگاری میں کچھ رہ نمائی کروں۔چناں چہ کوئی ڈیڑھ ایک ماہ اپنے خرچے پر وہاں مقیم رہا اور پھر دوبارہ اسلام آباد آگیا۔ مئی 2008ء میں اچانک ایک روز مجھے ادارے سے فارغ خطی دے دی گئی۔اس سے پہلے اسلام آباد بیورو میں کام کرنے والے تمام عملہ کو باری باری فارغ کیا جاچکا تھا۔اس کے بعد میں نے  اپنے واجبات کی وصولی کے لیے ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد(برقی مراسلت اورعدالت سے رجوع) شروع کی۔دم تحریر 21 اگست 2026  تھا۔حساب خود لگا لیجیے، کتنے ماہ وسال بنتے ہیں۔ لیکن تن خواہوں کی مد میں میرے واجبات ہنوز ادا نہیں کیے گئے۔

اس تمام معاملے کا  ملک کے جیّد صحافیوں قبلہ ہارون رشید ، جناب ابصار عالم ، جناب فاروق فیصل خان اور دیگر احباب کو پتا ہے۔ابصار صاحب اور فاروق فیصل صاحب نے تو عدالت کے ذریعے اور دھمکی لگا کر اپنے واجبات وصول کرلیے تھے لیکن ہم منتظر ہی رہ گئے۔اتفاق سے میرے پاس تمام برقی مراسلت کا ریکارڈ ای میل میں موجود ہے۔ان میں سے ایک میل کا مضمون معمولی ترمیم کے ساتھ پیش ہے۔اس سے آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ صحافیوں کو اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں جبکہ پاکستان میں میڈیا اداروں کے استحصالی اور شُوم  سیٹھ مالکان سب کچھ کرنے کے باوجود حاجی کے حاجی رہتے ہیں اور انھیں  اشتہارات کی مد میں حکومتوں کی جانب سے خوب نواز اجاتا ہے۔وہ ارباب ِ اقتدار وسیاست کی ہر جائز وناجائز بات پر آمنا وصدقنا کہنے کو تیار ہوتے ہیں۔صحافت اور پیشۂ صحافت گئے بھاڑ میں۔

تمہید طولانی ہوگئی ۔فدوی بس یہ عرض کرنا  چاہتاہے، حضور ،آپ کا اقبال بلند ہو،صوبے بعد میں بنا لیجیے پہلے جن کی رقوم غصب کررکھی ہیں، وہ ادا کردیجیے۔ میاں عامر صاحب یہ مت بھولیں کہ فدوی  خاموش ہوگیا یا رقم معاف کردی۔ نہیں ۔ یہ رقم ان کے ذمے واجب الادا ہے اور انھوں نے ادا کرنا ہے۔

ای میل ملاحظہ کیجیے۔اس میں تمام تفصیل درج ہے۔ ایک میل کا سکرین شاٹ بھی ملاحظہ کیجیے:

‏’’جناب ہارون پاشا، گروپ ڈائریکٹر

        دنیا ٹی وی لاہور

عنوان: واجبات کی ادائی میں غیر معمولی تاخیر

السلام علیکم

گزارش ہے کہ مجھے( 16 مئی‎‏2008؁ کو)ادارے سے ‏‏(بلاجواز اور بغیرکسی نوٹس کے اچانک) فارغ کیا گیا تھا لیکن آج 21 اکتوبر کو ‏پانچ ماہ پانچ دن ہونے کو آئے ہیں اور مجھے ابھی تک ادارے کی جانب سے ‏میرے واجبات ادانہیں کیے گئے۔فراغت کے خط میں ،جو سابق ایم ڈی ‏اشرف عظیم صاحب کے دست خط سے جاری ہوا تھا،یہ لکھا تھاکہ میں اپنے ‏واجبات کے سلسلے میں شعبہ  اکاؤنٹس  سے رابطہ کروں۔اس کے بعد میں نے ‏متعدد مرتبہ شعبہ کے انچارج قیصر رفیق صاحب سے بات کی ۔انھوں نے ‏مجھے یقین دہانی کرائی کہ آپ کے واجبات ادا کر دیے جائیں گے۔ دواڑھائی ماہ ‏گزرنے کے بعدبھی واجبات وصول نہیں ہوئے تو میں نے انھیں ایک ای ‏میل بھیجی جس کی کاپی آپ کو بھی بھیجی گئی تھی لیکن اس کا بھی  کوئی ‏جواب نہیں دیا گیا۔اس دوران میں نے دنیا ٹی وی کے اسلام آباد بیورو کے ‏ذمہ دار اسلم بھانا صاحب سے بات کی۔پہلے تووہ لارے لگاتے رہے کہ آپ کا ‏چیک کل آجائے گا ،پرسوں آجائے گا ،فلاں منگل کو، فلاں بدھ کو آجائے گا ‏لیکن وہ چیک دوماہ گزرنے کے بعد بھی نہیں آیا اور بالآخر انھوں نے یہ کہہ ‏دیا کہ آپ خود ہی لاہور رابطہ کریں۔اس کے بعد میں نے متعدد مرتبہ قیصر ‏رفیق صاحب کے موبائل فون پر بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ میرا فون ‏اٹینڈ ہی نہیں کرتے،ان کے ماتحت عملہ سے بات ہوتی ہے توانھیں کچھ ‏معلوم نہیں ہوتا۔اب مجھے کوئی تسلی بخش جواب دیا جارہا ہے اور نہ یہ بتایا جارہا ‏ہے کہ مجھے کب تک ادارے کی طرف سے میری واجب الادا رقم اداکی جائے گی۔عیدالفطر کے موقع پر توقع ‏تھی کہ شاید اب رقم ادا کردی جائے گی لیکن عید گزرے بھی بیس اکیس دن ‏ہوگئے اور واجبات کی ادائی کا کوئی اتاپتا نہیں۔ ‏
ادارے کے ذمے میرے جتنے واجبات ہیں ،ان کے بارے میں ‏،میں نے ایک ایس ایم ایس کے ذریعے قیصر رفیق صاحب اور سابق ایم ڈی ‏صاحب کو بتادیا تھا۔یاددہانی کے طور پر دوبارہ تفصیل درج کیے دیتا ہوں:‏

تنخواہ ماہ اپریل----------------------70 ہزار روپے

ایکس گریشیا،لاہوربلانے کا اضافی اعزازیہ---------15 ہزار ‏روپے

تنخواہ ماہ مئی --------------------------36130روپے

نوٹس پیریڈ کے بدلے میں ایک ماہ کی تنخواہ---------70 ہزار ‏روپے

تین ماہ کی 20 فی صد کٹوتی-------------------39 ہزارروپے

کل ‏میزان--------------------------230130 روپے۔

(دولاکھ تیس ہزار ایک سوتیس روپے)‏

جناب عالی !یہ کوئی معمولی رقم نہیں۔اگر بیس تیس ہزار کا معاملہ ‏ہوتا تو میں پوچھتا بھی نہیں۔میں یہاں یہ بھی بتانا چاہتاہوں کہ میرے تقرر ‏نامے میں مجھے ایک سولیٹر ماہانہ پیٹرول دینے کا کہا گیا تھا لیکن مجھے فیول کارڈ مارچ ‏کے آخر میں ملاتھا اور میں نے قریباً پانچ ماہ  کی مدت کے پیٹرول کی رقم کا تقاضا ‏نہیں کیا اور نہ اب کر رہا ہوں ۔

جناب سے گزارش ہے کہ مجھے صرف یہ بتادیا جائے کہ مجھے کب ‏تک مذکورہ رقم اداکردی جائے گی۔

والسلام
آپ کاخیر اندیش

امتیازاحمد وریاہ

سابق نیوزایڈیٹر

دنیاٹی وی، اسلام آباد‘‘

‏اور اب  قیصر رفیق صاحب کو  یاددہانی کے لیے پہلے بھیجا گیا برقی مراسلہ  ملاحظہ کیجیے:

’’جناب قیصر رفیق

انچارج شعبہ حسابات

دنیا ٹی وی لاہور

عنوان:واجبات کی ادائی میں غیر معمولی تاخیر

السلام علیکم !تین جون 08 کو میں نے آپ کو ایک ایس ایم ایس بھیجا تھا جس میں ،میں نے اپنے واجبات کی تفصیل سے آپ کو آگاہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں اسی روز رات دس بج کر چھبیس منٹ پر مجھے آپ کا ایس ایم ایس ملا، جس میں آپ نے مجھے مطلع کیا کہ آپ کی تنخواہوں کی جو بھی رقم بنتی ہے وہ اسی ہفتے آپ کو ادا کر دی جائے گی۔چنانچہ ایک ہفتہ تک میں نے آپ سے کوئی رابطہ نہیں کیا ۔ایک ہفتے کے بعد میں نے آپ کے معاون محمد عمران سے بات کی تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کا چیک دوبارہ تیار ہو گیا ہے اور اس پر اب صرف میاں عامر محمود صاحب کے دست خط ہونا باقی ہیں۔چیک دوبارہ بنانے کی نوبت اس لئے آئی کی مجھے ماہ اپریل کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی تھی اور آپ کے شعبہ کی غلطی کی وجہ سے میرا ،ارشد کیانی صاحب اور چند ایک اورکارکنوں کا نام  تنخواہ پانے والے خوش نصیبوں کی فہرست میں آنے سے رہ گیا تھا۔16مئی کو جب مجھے ادارے کی جانب سے فارغ خطی دی گئی تو میں نے اس تنخواہ کی بابت آپ سے بات کی جس پر آپ نے  مجھے یہ یقین دہانی کرائی کہ یہ تن خواہ بھی باقی واجبات کے ساتھ ادا کر دی جائے گی۔

       آج پیر ہے اور جون کی تیس تاریخ ۔دس روز پہلے ہفتہ کے دن فون پرآپ نے مجھے کہا تھا کہ آپ کے چیک پر دست خط ہو گئے ہیں اور پیر23 جون کو میں چیک آپ کو بھجوا دوں گا ۔اس سے ایک ہفتہ یعنی  پندرہ دن  پہلے آپ نے کہا تھا کہ میاں صاحب کے دستخط رہتے ہیں۔اب ایک پورے ہفتے میں میاں صاحب کے دست خط اگر آپ کے بہ قول ہوئے ہیں تو ابھی تک مجھ تک یہ چیک کیوں نہیں پہنچا۔گذشتہ پیر سے میں مسلسل آپ کے سیل فون پر آپ سے بات کرنے کی کوشش کررہا ہوں لیکن آپ فون اٹینڈ ہی نہیں فرماتے۔ اگر آپ کے معاونین سے بات کرتا ہوں تو انھیں اصل صورت حال کا علم نہیں۔اس دوران میں نے ایم ڈی اشرف عظیم صاحب سے بات کی تو ان کا کہنا تھا دو چار روز انتظار کر لیں۔چار روز کے بعد میں نے ان سے بات کی تو انہیں واجبات کی ادائی یعنی میرے چیک کی بابت کوئی علم نہیں تھا اور ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اس بارے میں میل کی جائے۔

       جہاں تک مجھے علم ہے ،ادارے سے فارغ کیے جانے والے تمام کارکنوں کے واجبات ادا کیے جاچکے ہیں صرف میرے،ارشد کیانی اور شاید دو ایک اور لوگوں کے رہتے ہیں۔ویسے میں نے آپ کا یا ادارے کا کوئی  ایسا نقصان نہیں کیا جو مجھے اس اذیت ناک عمل سے گزارا جا رہا ہے۔کسی دوسرے کی غلطی کی مجھے سزا کیوں دی جارہی ہے۔آپ یقین کریں میرے واجبات ادا کر دیے جائیں، اس کے بعد میں آپ یا آپ کے ادارے کی انتظامیہ کے کسی ذمہ دار کو کوئی فون کروں گااور نہ کسی شکل میں کوئی رابطہ رکھوں گا۔ان شاء اللہ۔

                                   والسلام

                                         خیر اندیش

                                         امتیازاحمد وریاہ

                                         سابق نیوز ایڈیٹر

                                         دنیا ٹی وی اسلام آباد

 #کھرکار

#امتیازاحمدوریاہ

#صحافتی_استحصال

#میڈیا_مافیا

#صحافیوں_کے_حقوق

#دنیا_نیوز

#میاں_عامر_محمود

#اردو_صحافت

#صحافت_آن_لائن

 

#MediaExploitation

#JournalistRights

#PakistanMedia

#DunyaNews

#ImtiazAhmadWaryah

#JournalismEthics

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Medium is the Message

Medium is the Message

مقبول تحریریں

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template