امتیازاحمدوریاہ
حضرت
مولانا اشرف علی تھانویؒ کی مشہور زمانہ کتاب ’’تربیتُ السالک‘‘ کی بنیاد پر
پروفیسر ڈاکٹر اظہر علی رضوی صاحب نے اپنا پی ایچ ڈی کا تھیسز لکھا تھا اور اس پر
انھیں پنجاب یونیورسٹی سے نفسیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی تھی۔ وہ گورنمنٹ کالج
لاہور میں شعبہ نفسیات کے سربراہ رہے تھے اور ہمارے ایم ایس سی نفسیات کے نصاب میں
ایک پرچہ مسلم نفسیات کا شامل کرایا تھا ۔اس میں حضرت تھانوی کے نفسی طریقہ علاج
پر خاص طور پر توجہ دی گئی تھی ۔ویسے تو اس کے نصاب میں حضرت امام غزالیؒ ،حضرت
شاہ ولی اللہؒ اور دوسرے مسلم مفکرین کے
تعمیر شخصیت اور نفسیاتی مسائل کے حوالے سے افکار بھی شامل تھے لیکن اس میں زیادہ
مواد تربیت السالک ہی پر مبنی تھا۔ انھوں نے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے
روحانی طریقہ علاج کو ایک منضبط نفسیاتی طریقہ علاج کے طور پر پیش کیا تھا۔
اپنی انگریزی کتاب " مسلم نفسیات" (Muslim Psychology)میں وہ تفصیل سے بتاتے ہیں کہ جب ایک سالک حضرت مولانا کو سوال پیش کرتا یا ان کے پاس اپنا روحانی مرض لے کر آتا تو اس کا وہ علاج کیسے کرتے تھے اور کن کن مراحل سے گزارتے تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ تربیت السالک میں مختلف سالکین کے سوالات اور ان پرحضرت تھانوی کے جوابات دیکھیں اور ان کا موازنہ جدید نفسی طریق علاج (سائیکوتھراپی) کونسلنگ ،تحلیل نفسی وغیرہ سے کریں، تو دونوں طرز کے نفسی طریق ہائے علاج میں ایک مماثلت نظر آئے گی۔ حضرت تھانویؒ کے بعض جوابات پر اعتراضات بھی ہوئے مگر لگتا یہ ہے کہ ظاہری احکام پر نظر رکھنے والے حضرات مذہبی ،نفسیاتی اور روحانی مسائل کی پیچیدگیوں کا درست ادراک نہیں کرسکے۔ ایسے معترضین نفسیاتی مسائل کو حکیمانہ اندازاور ایک ماہر نفسیات صوفی کی نظر سے نہیں دیکھ سکے۔
جس حکیمانہ بصیرت سے حضرت تھانوی نے اپنے سالکین کا علاج کیا، اس طرح کی راقم کے
خیال میں ان کے بعد کسی اور عالم کے ہاں مثال نہیں ملتی۔بعض صوفی بزرگوں کے ہاں
سالکین کو تصوف وسلوک کی منازل طے کرانے اور ان کی اخلاقی تربیت کی مثالیں ضرور
ملتی ہیں لی مگر جس طرح مولانا اشرف علی
تھانویؒ نے اپنے سالکین کے علاج کے لیے ایک پورا نظام وضع کررکھا تھا اورا ن سے جس
نظم وضبط کی پابندی کرائی جاتی تھی ایسی
کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ہے۔پھر انھوں
نے سالکین کے احوال (کیس اسٹڈیز ) بھی تربیت السالک میں قلم بندکیے ہیں۔یہی مطالعہ أحوال جدید نفسی
طریق علاج میں برتا جاتا ہے اور نفسیاتی
مریضوں کے مسائل کی اصل کی ٹوہ لگائی جاتی ہے۔یوں جب معالج اصل نکتے تک پہنچ جاتا
ہے تو اس کے لیے نفسیاتی مریض کا علاج کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر
اظہر علی رضوی صاحب نے تربیت السالک میں درج سالکین کے أحوال ہی کو اپنی تحقیق کا
موضوع بنایا تھا۔ان کی دوسری پی ایچ ڈی کا
موضوع حضرت امام غزالیؒ کا نظریۂ شخصیت تھا۔یہ ڈاکٹریٹ انھوں نے امریکا کی ایک
یونیورسٹی سے کی تھی۔انھوں نے امام غزالیؒ
کے افکار اوراپنے تحقیقی کام کی روشنی میں
شخصیت کو ماپنے کا ایک اسکیل بھی وضع کیا تھا۔اس میں مختلف شخصی
خصائص کو ماپنے کے لیے سوالات دیے گئے تھے۔
ڈاکٹر
اظہر رضوی صاحب کو اس راہ پر لگانے والے ان کے استادِ محترم ڈاکٹر محمد اجمل صاحب
تھے۔پروفیسرڈاکٹر عاثراجمل صاحب کے والد گرامی۔نفسی طریق علاج میں مسلم علماء کے
کردار پر ان کا اپنا بھی گراں قدر کام ہے۔
اس موضوع پر ان کی مختصر مگر جامع
کتاب’’نفسی طریق علاج میں مسلمانوں کا حصہ ‘‘1990 کے عشرے میں ادارہ ثقافت
اسلامیہ لاہور نے شائع کی تھی ۔اس کا اردو ترجمہ ان کے عزیزشاگرد معروف شاعر اور
ادیب شہزاد احمد صاحب نے کیا تھا۔
ڈاکٹر
اجمل صاحب گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل ،
پنجاب یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر اور قومی ادارہ نفسیات قائد اعظم یونیورسٹی
اسلام آباد کے ڈائریکٹر رہے تھے۔مولانااشرف علی تھانویؒ صاحب کے بارے میں ان کا
ایک جملہ قابل توجہ ہے۔فرماتے ہیں: اس قوم نے دو شخصیات کوبیسویں صدی کے أوائل میں
حکیم الاُمت کے خطاب سے نوازا تھا۔ ایک مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ تھے۔انھوں نے برصغیر میں
مسلم قوم کو درپیش سیاسی مسائل کاحل پیش کیا اوردوسرےمولانا اشرف علی تھانویؒ تھے۔انھوں
نے قوم کے روحانی و نفسیاتی مسائل کا حل پیش کیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں