📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

پیر، 18 مئی، 2026

اختلاف کی علمی روایت

امتیازاحمد وریاہ

استاد جی کا قول زریں بار بار یاد آتا ہے۔ فرمایا: سوال میں بھی عالمانہ شان ہونی چاہیے۔

جناب جوہر اور ان کے غالی معتقدین دوسروں کو چیلنج کررہے ہیں کہ ان کی تردید کرکے دکھاؤ۔ایک صاحب کو ہم نے جوابی چیلنج کیا ہے۔
1۔پہلے تو جوہر صاحب شاہ اسماعیل شہید کو وہابی ثابت کریں۔ٹھوس اور مستند حوالوں کے ساتھ۔وہابی کا مطلب ہے:غیرمقلد اور محمد ابن عبدالوہاب کا پیروکار۔اس سے دائیں بائیں کوئی تعریف نہیں۔
2۔ان پر استعمار کی وضع کردہ اصطلاح منطبق کرنا کیا اکیڈیمیا کے معیار کے مطابق مبنی بر انصاف ہو گا،یہ تو علمی بددیانتی کی بدترین مثال ہے۔یہ کسے نہیں معلوم کہ شاہ اسماعیل شہید اور سید احمد بریلوی شہید حنفی مسلک سے تھے مگر آپ کے ممدوح کامل ڈھٹائی سے ان پر وہابی خوارج کی تہمت لگا رہے ہیں اور وہ بھی بلاتکان یہ اصطلاح بھی شاید مستعار ہو یا ان کی اپنی وضع کردہ ہو،جو بھی حقیقت ہے، یہ اشتعال انگیز اور منفیت کی غماز ہے۔
3۔انگریزی میں ایک کتاب ’’وہابی ازم‘‘ ہے۔اگر کہیں سے ملے تو پڑھ لیجیے۔ساری جوہری علمیت کا کچا چٹھا کھل جائے گا۔
4۔ اگرآپ کے ممدوح اس تمام رطب ویابس کو تحقیق کے نام پر لکھ کر کسی محقق پروفیسر کے سامنے پیش کریں تو وہ منھ پر دے مارے اور وہ عزت افزائی کرےکہ بندہ منھ تکتا رہ جائے۔ہاں، ایک اور اہم بات۔وہ کن کتب کے حوالے دے رہے ہیں۔ان میں ایک بھی ابتدائی ماخذ نہیں۔وہ یا تو پہلے سے لکھے/شائع شدہ مواد کی جگالی فرما رہے ہیں یا ایک عبارت میں تحریف کرکے اس کو من مانے معنی پہنا کر پیش کرتے ہیں۔یہ ہے آپ کے ممدوح کی کل علمی کائنات اور علمی رویہ۔پھر جو بھی اختلاف کرے اس کے لتے لینا شروع کردیتے ہیں اور اس کو وہابی خوارج، کانگریس اور نجانے کیا کیا قرار دے دیتے ہیں۔ایسا سوقیانہ پن تو ان کے ممدوح خارجیوں میں بھی نہیں ہوگا۔
آج ہی محترم ومکرم پروفیسر امجد علی شاکر صاحب نے ان کی ایک پوسٹ پر بہت مہذب انداز میں تبصرہ کیا اور وہ انھیں سیدھا کانگریس کی صف میں پکڑ کر چھوڑ آئے۔العیاذ باللہ۔
میاں، دوسرے کے عقائد پر نقد کرنے سے پہلے اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیرو۔کچھ اللہ کا خوف کرو۔اختلاف رائے ہونا کوئی بری بات نہیں لیکن کوئی سلیقۂ اظہار بھی ہونا چاہیے۔اسی معاملے میں بات سیدھی سی ہے کہ جب ٹائی پڑے گی تو ہمارا ووٹ تو سیدھا پروفیسر امجد علی شاکر صاحب کے حق میں ہوگا۔ان کی کتاب اور علم دوستی کے ہم ایک زمانے سے چشم دید گواہ ہیں۔ جوہری فرمودات کے جوہڑ سے تو ہم کتاب چہرہ کی وساطت سے آگاہ ہوئے ہیں۔
بعد از تحریر:ہمارے بھائی صابر صاحب نے فیس بُک پر اپنی ایک پوسٹ میں بعض نام گنوائے ہیں اور کہا ہے کہ جوہری بسیارنویس ان کی اصطلاحوں کی جگالی فرما رہے ہیں۔ان میں ایک نام باربرا مٹکاف کا بھی تھا۔
اس طائفے کے ’’فیس بُکی فرمودات‘‘ پڑھنے کے بعد راقم کی یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ اس نے ’ولیم ہنٹر اینڈکو‘ کو تو سنا پڑھا ہوگا لیکن باربرا مٹکاف یا پروفیسر فرانسیس رابنسن کے قریب سے بھی نہیں گزرے ہوں گے۔اگر انھیں پڑھ لیا ہوتا تو کم سے کم ان کا کچھ تو اثر قبول کرتے۔
نیز ایک سوال یہ ہے کہ تحقیق کے جدید اسالیب یا کسی ایک اسٹائل بُک کے جملہ تقاضوں کی پیروی کے بغیر کسی لکھاری کی تحاریر سے جو نتیجہ اخذہوگا،اس میں جانبداری اور عصبیت کی جھلک کہیں ناکہیں ضرور دکھائی دے گی۔مثلاً اے پی اے ، ہارورڈ، شکاگو یا ایم ایل اے کی مکمل نہیں تو کچھ نا کچھ تو پیروی ضرور ہونی چاہیے۔بالخصوص حوالوں واسناد کی پیش کش میں۔کسی مصنف کے لکھے مواد کا جب متنی تجزیہ کیا جاتا ہے تو یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس کا سمپل سائز کیا تھا۔پھر سادہ الفاظ میں روایت ودرایت کے تسلسل کو دیکھا جاتا ہے۔ ایسا تو نہیں کہ لکھا کسی شخصیت نے ہو اور اس کو کسی اور کے نام مڑھ دیا جائے۔جوہری لکھاری یہی کام کررہے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template