شکُور طاہر
سابق ڈائریکٹر نیوز ، پاکستان ٹیلی
ویژن
دو، ڈھائی سوسال پہلےمغلوں پہ زوال آیا،
تو شان وشوکت، اختیارات اور دھن دولت سبھی کچھ چھن گیا۔ کبھی نادر شاہ اور احمد
شاہ ابدالی نے دلی کو تاخت و تاراج کیا، اور کبھی مرہٹوں اور جاٹوں نے لوٹ مار
مچائی۔ رہی سہی کسر ایسٹ انڈیا کمپنی نے پوری کر دی۔ پاکستان ٹیلی ویژن کا حال بھی کمپنی بہادر کے ہاتھوں کچھ ایسا ہی ہو چکا ہے۔
ملازمین کو تن خواہوں اور پینشن کے لالے پڑے تھے، گرانٹ یا سرکاری وظیفہ گزران کا
ذریعہ ٹھہرا تھا، بیمار بوڑھوں کے لیےکریڈٹ پر دواؤں کی فراہمی معطل اور علاج
معالجے کی ادائیگی رکی ہوئی تھی کہ اب مرے کو مارے شاہ مدار والا معاملہ ہو گیا۔
فارسی کے مُمتاز شاعر انوری کے بقول، آسمان سے اُترنے والی ہر بلا، انوری کا گھر ہی
ڈھونڈتی ہے۔ کمپنی بہادر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے، جس کا اپنا وجود قانون کی نظر میں
مشکوک ہے، بیک جنبش قلم میڈیکل پالیسی پر عمل روک دیا ہے۔ اب دل کے عارضے، فالج
اور کینسر جیسی مہلک بیماریوں کے شکنجے میں جکڑے یہ بوڑھے، جنھوں نے اپنی صلاحیتیں
اور اپنی بیش قیمت جوانی اس قومی نشریاتی ادارے کی نذر کر دی تھی، اپنی تخلیقات کی
گٹھریاں سروں پہ سجائے، بےکسی کی صلیب پر لٹکے ہوئے، کسی اجڑے ہسپتال یا خیراتی
شفاخانے کی راہداری میں دھکے کھاتے دکھائی دیں گے۔ یہ بیمار بوڑھے کون ہیں؟ زمانہ
اور نشریات کی تاریخ اُن کی شاندار خدمات کے معترف ہیں۔ کیا کمپنی بہادر بھی اُن
سے آشنا ہے؟ شاید نہیں۔ تبھی تو وہ میر تقی میر کی شاعری میں خود ہی اپنا نوحہ
پڑھتے ہیں؎
پتّا پتّا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے
گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
ٹی وی لائسنس فیس یا بجلی بل کے ساتھ
اس کی وصولی ختم کرنے کی حکمت کیا ہے؟ مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ کیا یہ فیصلہ
بجلی کمپنیوں کی نجکاری کے سلسلے میں پہلا قدم ہے؟ کیا بجلی کمپنیوں کے متوقع خریداروں
کی پیشگی شرط تھی کہ لائسنس فیس وصولی ختم کی جائے؟ کیا بعض عقابی نگاہیں پی ٹی وی
مراکز کی اربوں روپے کی عمارات اور سو سے زائد بُوسٹرز کی ہزاروں ایکڑ قیمتی زمین
پر لگی ہیں کہ پاکستان ٹیلی ویژن کے اُسی طرح ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں جس طرح مغربی
سامراج نے سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کر کے آپس میں بندر بانٹ کی تھی؟ ان سوالوں کے
حتمی جواب کسی کے پاس نہیں۔ ہاں، شاید قومی اسمبلی اس سوال کا جواب تلاش کرے کہ
اُس کی منظوری کے بغیر ایسا فیصلہ کیوں کیا گیا جو بجٹ کی ذیل میں آتا ہے؟ یا شاید
کبھی عدالت میں یہ سوال اٹھایا جائے کہ کس اختیار کے تحت یہ اقدام کیا گیا، اور اس
کے مقاصد کیا ہیں؟ قومی نشریاتی ادارے کو بچانا مقصود ہو تو کئی راستے ہیں۔ پارلیمنٹ
کی کسی قرارداد کے ذریعے یا عدالت کے حُکم پر لائسنس فیس بحال کی جاسکتی ہے، لیکن
ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ چلیں، لائسنس فیس کا قضیہ ختم ہوا، پُلوں کے نیچے سے
بہت سا پانی بہ گیا، انا اور سیاسی مفاد یہ فیصلہ واپس لینے میں مانع ہیں، تو
متبادل کیا ہے؟ اگر قومی نشریاتی چینل سرکاری خزانے سے ہی چلنا ہے، تو گرانٹ ہی کیوں؟
اس ادارے کے لیے سیدھے سبھاؤ وفاقی بجٹ میں رقوم کیوں نہ مختص کی جائیں اور
مطالبات زر کی شکل میں ان کی منظوری قومی اسمبلی سے لی جائے، تاکہ پی ٹی وی انتظامیہ
کو، ہر تین مہینے بعد، کسی سیکشن افسر کا روپ دھارے ریذیڈنٹ بہادر کی دریوزہ گری
نہ کرنا پڑے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، اپنے من پسند چینلز
کو نوازنے کے بجائے، آدھے سرکاری اشتہارات پی ٹی وی کو دیں کیونکہ 90 فی صد پاکستانی
عوام تک اسی قومی چینل کی رسائی ہے۔
ایک اور راستہ یہ ہے کہ پی ٹی وی کے اُن تمام پروگراموں کی
لاگت اور اُن کے نشریاتی اخراجات حکومت ادا کرے جو سرکاری عمائدین کی امیج بلڈنگ
کے لیے کیے جاتے ہیں۔ یہ کوئی اچھوتا خیال نہیں۔ 1960 ء کے عشرے میں ریڈیو کے معاملات
سدھارنے کے لیے سٹیٹ بنک کے سابق گورنر ممتاز حسن کی سربراہی میں جو کمیٹی تشکیل دی
گئی تھی، اُس نے بھی یہی سفارش کی تھی کہ تشہیری پروگراموں کے اخراجات حکومت
برداشت کرے۔ پی ٹی وی 1980 ء کی دہائی تک تمام تشہیری پروگراموں کا ریکارڈ رکھتا
تھا، تاہم مطالبے کے باجود حکومت اس لاگت کی ادائیگی نہیں کرتی تھی۔ اب اگر
حکومت یہ اخراجات ادا کرے تو پی ٹی وی کو کسی گرانٹ کی ضرورت نہ رہے۔ ایک اور
صُورت یہ ہے کہ حکومت، جو پی ٹی وی کے تمام حصص کی مالک ہے، 49 فی صد حصص اسٹاک
مارکیٹ میں فروخت کر دے، اور ان رقوم سے، ایک مؤثر بزنس پلان کے تحت، پی ٹی وی کو
چلایا جائے۔ اگر نیّت ہو، تو پی ٹی وی کو خسارے سے نکالنے کے لیے کئی قابلِ عمل
تجاویز سامنے آ سکتی ہیں۔
حکومت کو اُس کنفیوژن کا بھی کوئی حل
تلاش کرنا چاہیے جو پی ٹی وی جیسے اداروں کے لیے مختلف قوانین اور ضابطوں کے تضاد
سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک تو کمپنیز ایکٹ ہے جس کے تحت ٹیلی ویژن کارپوریشن قائم ہُوئی۔
کارپوریشن کا اپنا میمورنڈم اور آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن ہیں، اپنے سروس رُولز ہیں،
پھر ریاست کے ملکیتی اداروں کا قانون ہے، سرکاری شعبے کی کمپنیوں کے ضوابط ہیں،
کوڈ آف کارپوریٹ گورنینس کے قواعد ہیں، اور ایسٹا کوڈ کی شکل میں ضابطوں کا طومار
ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ایک جامع قانون کے ذریعے تمام قواعد میں ہم آہنگی پیدا
کی جائے تاکہ کہیں کوئی ابہام یا تضاد نہ رہے۔ حال ہی میں، بعض دوسری شخصیات کے
علاوہ، ایک ممتاز ڈراما نگار اور ایک معروف اداکارہ کو پی ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز
کے لیے نامزد کیے جانے کی خبریں آئی ہیں۔ توقع ہے کہ اُن کی رُکنیت سے ڈراموں اور
تفریحی پروگراموں کا معیار بہتر ہو گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ٹیلی ویژن صرف
ڈرامے اور تفریح کا نام ہے یا اس انتہائی اثر آفریں ذریعۂ اِبلاغِ سے اہم قومی
مقاصد بھی حاصل کیے جانے چاہییں۔ اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو پالیسیوں کی
تشکیل کے لیے ماہرین اِبلاغیات کو بھی بورڈ میں شامل کرنا ضروری ہے، ایسے نام نہاد
ماہرین نہیں جو سکرین پہ چیخم دھاڑ کرتے ہیں بلکہ علم اِبلاغیات میں درک رکھنے والی
ثقہ شخصیات۔ یہ ساری تجاویز اربابِ اقتدار کے لیے شاید نئی نہ ہوں۔ انھیں مسائل کا
بھی یقینا ً علم ہو گا، اور ان کے حل کا ادراک بھی۔ آج کے اسلام آباد پر بھی میر
تقی میر کا وہ شعر صادق آتا ہے جو اُنھوں نے ڈھائی سو سال پہلے کی دِلّی اور لکھنؤ
کے بارے میں کہا تھا؎
چارہ گری بیماریِ دل کی، رسم شہر حسن
نہیں
ورنہ دلبرِ ناداں بھی اس درد کا چارہ
جانے ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں