📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

جمعرات، 3 جولائی، 2025

کیا سیاحتی مقامات پر حادثات سے تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے؟


اعظم علی، سنگاپور

گذشتہ ہفتے عشرے میں صوبہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بعد لوگوں کی   ساری توجہ حکومت کی  نااہلی کی جانب مبذول ہوکررہ گئی ہے ۔ اس میں کوئی دوآراء نہیں  کہ  ہماری حکومتیں عوام کے جان ومال کے تحفظ میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتی ہیں بلکہ وہ اس  کی عادی ہیں مگر یہ اس تمام معاملے کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس طرح ایک دکاندار اپنی دُکان  کو ہر آنے والے  گاہک کے لیے دیدہ زیب ،محفوظ ،خوشگوار اور خیر مقدمی بنانے کی کوشش کرتا ہے،اس کو  اپنی جیب سے سجاتا ،سنوارتا ہے،اسی طرح کے پی  اورگلگت بلتستان سمیت وہ علاقے جن کی معیشت  اور عوام کی روٹی  روزی  کا دارومدار سیاحت پر ہے، وہاں  کی آبادیوں  کی بنیادی  ذمہ داری  یہ ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے علاقوں کو آنے والے سیاحوں کے لیے محفوظ  اور دیدہ زیب بنائیں تاکہ  دوسرے علاقوں  یاغیرممالک سے آنے والے مہمان محفوظ طریقے سے  سیاحتی مقامات کے دل فریب  قدرتی حسن  سے لطف اندوز ہوں اورمزے لےکر خوشگوار یادوں کے ساتھ واپس جائیں ۔یہ ان  کمیونٹیوں کے اپنے رزق و روزگار کا مسئلہ بھی ہے۔  کیا اسے محض حکومت پر چھوڑ کر فقرو فاقے کا شکار ہونا اقدام خودکشی  کے مترادف نہیں ہوگا؟

مجھے اس پر2002ء میں انڈونیشیا کے سیاحتی  جزیرے بالی  میں بم دھماکے یاد آگئے ۔ان  بم دھماکوں  میں  غیرملکی سیاحوں  سمیت 200  سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے  تھے۔  دہشت گردی کی اس   کارروائی میں مقامی کمیونٹی کا کوئی قصور نہیں تھا  لیکن اس کا نقصان انھیں ہی پہنچااور وہاں سیاحوں کی آمدورفت ختم ہوکررہ  گئی یا بالکل کم ہوجانے سے ان کاروبار بند ہو کررہ گیا۔باقی کام تو حکومت نے ہی کرنا تھا لیکن کمیونٹی نے  اجتماعی طور پر کوششیں کیں  اور اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود اپنے غیر ملکی سیاحتی مہمانوں  کے ہونے والے نقصانات پر تاسف و معذرت کا اظہار کیا ۔مقامی  کاروباریوں نے اپنے طور پر حفاظتی اقدامات کیے اور پھر دنیا نے دیکھا  کہ چند  ہی سال میں بالی میں  سیاحت کی رونقیں بحال ہو گئیں ۔

یہی معاملہ پاکستان میں حالیہ افسوس ناک واقعات کا ہے۔ سڑک پر ہونے والے حادثات میں کمیونٹی کچھ نہیں کرسکتی ۔زیادہ سے زیادہ  وہ یہ کرسکتے  ہیں کہ خطرناک جگہوں پر  انتباہی بورڈ لگا دیں تاکہ وہاں پر گاڑیاں سست  رفتار ہو جائیں  لیکن  سوات  میں   پیش  آنے والے حالیہ واقعہ اور مستقبل میں  اس قسم کے  واقعات کی روک تھام کی ذمے داری حکومت سے زیادہ ان تفریحی مقامات پر کاروبار کرنے والے افراد پر  عاید ہوتی ہے ۔ اس ضمن  میں جان ومال کے تحفظ   کی  بنیادی تربیت   کا اہتمام ضروری  ہے تاکہ مقامی  لوگ  اس بات کو یقینی بنا سکیں   کہ کوئی سیاح خطرناک صوت حال  سے دوچار نہ ہو ۔اگر خدانخواستہ کوئی واقعہ ہوتا بھی ہے تو وہاں پر کام کرنے والے  افرادمناسب تربیت سے آراستہ ہوں  اوران کے پاس  کسی   ہنگامی صورت حال سے نمٹنے  کے لیے مُناسب حدتک  ضروری سازو سامان موجود ہو۔ اس قسم کی ہنگامی امدادی سرگرمیوں کا انتظام  سیاحتی مقام پر  کام کرنے والے لوگ  تھوڑی سے کوشش  سے کرسکتے ہیں۔کسی سیاحتی مقام  پر جتنے بھی دکاندار یا   اسٹالوں والے  ہیں، وہ  اجتماعی طورپر اس کارِ خیر میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں تو بآسانی شہری دفاع کے طرز پر  ہنگامی امدادی سرگرمیوں کے لیے بہت اچھا بندوبست کیا جاسکتا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ اس سلسلے میں قانون سازی کرے  اور سیاحتی  مقامات پرکاروبار کرنے یا ہوٹل  مالکان کے پاس حادثے کی صورت  میں  ضروری حفاظتی آلات  موجود ہوں ۔اس کے علاوہ ان کے ہاں  مناسب تعداد میں  تربیت یافتہ  کارکنان  بھی  موجود ہوں  تاکہ ریسکیو  اور ہنگامی امدادکے اداروں کی آمد سے قبل ہی ممکنہ حدتک بچاؤ کے اقدامات کیے جاسکیں ۔ ان آلات و تربیتی اخراجات میں حکومت بھی حصہ ڈال سکتی ہے اس کاایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ چھوٹے موٹے حادثات سے  مقامی  سطح پر نمٹا جاسکے گا اور ریسکیو اداروں کے اہلکاروں  کے انتظار میں  وقت  کا ضیاع  بھی  نہیں ہوگا  کیونکہ بعض اوقات  تو  ایک ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے ۔یوں  اس عمل سے  ریسکیو کے اداروں پر دباؤ بھی کم ہو گا۔

جہاں تک شمالی علاقہ جات یا سیاحتی مقامات پر سڑکوں   کی تعمیر ومرمت  اوران پرٹریفک  کے بہا ؤ کا تعلق ہے، تو اس ضمن میں  حکومت کو اپنی ذمے داری نبھانی چاہیے۔سڑکوں کی تعمیر ومرمت صوبائی اور مقامی حکومتوں کی ذمے داری ہے ۔موسم برسات میں بالخصوص سڑکوں پر مٹی کے تودے یا پہاڑی  تودے گرنے کی صورت میں  سرکاری مشینری ہمہ وقت دستیا ب ہونی چاہیے۔ سڑکوں پر ٹریفک کی بحالی کا کام  دنوں کے بجائے گھنٹوں میں ہونا چاہیے اور تمام ضروری آلات اور مشینری کی دستیابی کی صورت میں یہ کام گھنٹوں کے  بجائے منٹوں میں ہونا  چاہیے۔نیز  جن  سیاحی مقامات پر بھاری مشینری  درکار نہ ہو، وہاں  ریسکیو کی ذمہ داری مقامی  کمیونٹی   اور کاروبار کرنے والوں کو  اجتماعی طور پر دی جاسکتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template