📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

ہفتہ، 21 جون، 2025

ایران ،اسرائیل جنگ اور پاکستان:ایک بات کہوں ۔۔۔ مارو گے تو نہیں؟

 اعظم علی ، سنگاپور

اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ایران کے میزائل حملوں میں مکمل اور جزوی طور پر تباہ شدہ عمارتیں۔

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

ذرا ماضی  قریب اور بعید کی بات کرتے ہیں۔ ایران نے خود کو ’’انقلاب  برآمد‘‘ کرنے کے خواب کی تعبیر  کی تلاش میں قریباً تمام ہی اسلامی ممالک کے لیے  ایک سکیورٹی چیلنج بنادیا تھا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا  کہ  آج وہ  اسلامی دنیا ہی میں شدید تنہائی کا شکار ہے ۔اسرائیل کے حملے  کے بعد ایران کو اگر تھوڑی بہت مسلم ممالک کی حمایت  حاصل ہو رہی ہے، اس کی بنیادی  وجہ ’’غزّہ میں اسرائیل کا جاری  ہولوکوسٹ ‘‘ہے۔
سوال یہ ہے اگر ایران اس امتحان سے بچ گیا تو کیا موجودہ رجیم اپنی گذشتہ غلطیوں سے رجوع کرے گا  یا اس امتحان  میں سرخرو ئی  کی صورت میں  خود کو طاقتور سمجھتے ہوئے  مزید تکبّر کا شکار ہو گا اور پھر مزید بے لگام ہو جائے گا۔درحقیقت  ہم  لوگ  ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہیں ۔ ایران کی بعض حرکتوں (جس کا نتیجہ اب ایرانی بھگت رہے ہیں) سے شدید اختلاف کے باوجود  ہم(پاکستانی) کسی صورت میں بھی اسے اسرائیل کے خلاف تنہا نہیں چھوڑ سکتے ۔لیکن  اگر ایران کامیاب ہو  جاتا ہے تو اس کے   کبر ونخوت سے بھی پناہ مانگتے ہیں۔بہتر یہ ہے کہ ایرانی حکومت اس صورت حال میں  اپنے ممکنہ فطری اتحادیوں (اسلامی ممالک) میں اپنے  ایلچی بھیج کر حکومتی سطح پر اپنی غلطیوں کی معذرت  کرے اور مستقبل میں اسلامی ممالک میں کسی قسم کی فرقہ وار سوچ  اور بغاوت کی حوصلہ افزائی  اور  حمایت نہ کرنے کا وعدہ کرے تاکہ  وہ  اس امتحان میں اپنے ’’فطری اتحادیوں‘‘ (اسلامی ممالک) کو  فوجی طور پر نہ سہی تو کم سے  کم  سفارتی محاذ پر تو اپنے  ساتھ کھڑا ہونے کے قابل بناسکے ۔
درحقیقت پڑوسیوں بلکہ بھائیوں کے لیے خطرہ  بننے والے ذہنی طور پر’’غیر مستحکم‘‘بھائی کے گھر میں بندوق کی موجودگی کسی بھائی کو بھی  قابل قبول نہیں ہو سکتی ۔  یہاں تو  ایران  مکمل طور پر سکیورٹی  خطرہ بن کر سامنے آیا تھا بلکہ  1979ء میں  انقلابِ ایران کے بعد  وہاں  حکومت کا رویہ  بالعموم  پاکستان سے زیادہ بھارت  کی محبت  میں لبریز رہا  تھا ہم تو ان کی تمام تر جفاؤں کے باوجود بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور بھارت  نے ان کے ساتھ جس طرح ’’دوستی ‘‘نبھائی ہے،  وہ دنیا جانتی ہے اور اسرائیل کے جارحانہ حملے کے بعد ایران سے روز بھارتی جاسوس پکڑے جارہے ہیں۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ کیا ایران کے ہاتھ میں ایٹمی بندوق  ہمارے اپنے مفاد میں بھی ہے؟باربار یہ بات کہی جاتی ہے جس میں حقیقت بھی ہے کہ ایران سے نمٹنے کے بعد  اسرائیل  اور  بھارت کا اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے اور انھیں بڑی طاقتوں کی بھی حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان  گذشتہ  قریباً  پچاس سال  کے دوران میں   اقتصادی  لحاظ  سے کمزور ملک رہا ہے۔ اس کے باوجود اپنے دشمنوں سے غافل نہیں رہا اور اپنی مالی و سفارتی اوقات کے مطابق تیاری کرتا  رہا ہے تاکہ اگر کبھی  کوئی  ناگہانی وقت آیا تو اپنی بساط کے مطابق  جارح  کا  مقابلہ  کرسکے ۔نیز پاکستان  اسلامی بلاک کے کسی ملک کے لیے کبھی  سیکورٹی چیلنج نہیں بنا جس کی وجہ سے ان کے ساتھ  گرمجوشی میں کمی بیشی  تو ہوتی  رہی ہو گی  لیکن پاکستان کی کسی اسلامی ملک کے ساتھ  دشمنی و مخالفت والی صورت حال کبھی نہیں رہی ہے ۔اس لیے اگر پاکستان کے لیے ایران والا حربہ استعمال کرنے کی کوشش  کی گئی  تو  شاید وہ   کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ پاکستان کے ساتھ اللہ نے چاہا تو اپنے بھائیوں  اور دوست ممالک کی  سفارتی ، عسکری  اورسیاسی حمایت شامل حال رہے گی ۔ان شاء اللہ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template