لگتا ہے سموسوں ،رس گلوں کی طرح نظمیں غزلیں بھی تلی جا رہی ہیں۔
افسانے ناول تک پیشگی ادائی پر لکھوائے جاتے ہیں ۔
رسیلی اور لذیذ نظمیں بھی معمولی ادائی پر مل جاتی ہیں۔
کتابیں لکھ کر
دینے والے قلم کے مزدور بھی مارکیٹ میں آوازہ لگاتے پائے گئے ہیں:
کہانیوں کی کتاب بنوا لو، آٹو بائیو گرافی اور ناول بھی ۔
یبوست زدہ نثر والا ناول تو اب بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔
پنڈی ،لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں ایسی دکانیں موجود
ہیں ۔ انجمن ہائے ستائش باہمی
کے زیر اہتمام توصیفی مضامین اور تقاریب کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے۔
استادی، شاگردی کا پرانا دھندا پھر سے شروع ہو گیا ہے ۔کتابیں لکھنے اور چھاپ کر دینے کا بھی ٹھیکا کیا جاتا ہے۔
ان دنوں ایک اور چلن بھی عام دکھائی دیتا ہے ۔ سیڑھی ساتھ
ساتھ لیے پھرنے کا چلن۔ پیارے اختر شمار نے اوّل اوّل اس کا اظہار کیا تھا کہ پورے
سے شاعر اپنی دوست یا بیوی کو تقریبات میں اور حلقوں میں لیے لیے گھومتے ہیں ،
انھیں ہاتھوں ہاتھوں لیا جاتا ہے۔
اب سوشل میڈیا نے اس کام کو اور بھی آسان کر دیا ہے ۔حلقے
بنا لیے گئے ہیں، دور دیسوں سے آئے خواتیں و حضرات کی کتابوں کی تقریبات کرائی
جاتیں، شامیں منائی جاتی ہیں ۔افتخارِ اردو قسم کے القابات ، اب تو سرکاری تمغا
ہائے حسن کارکردگی و امتیاز بھی دلائے جاتے ہیں۔ بیرون ملک دورے، مشاعرے بھی مینج
کیے جاتے ہیں، کانفرنسوں کا چکر بھی چلایا جاتا ہے۔ مشاعروں کی ریلز بھی خوب چل
رہی ہیں، ادبی اشرافیہ بھی یہاں وہاں دکھائی دیتی ہے۔ سرکاری اعزاز پانے والے بھی
ایک دوسرے کے بیڑے (بٹن) بندکر رہے ہوتے
ہیں۔ پبلشر مافیا بھی بہت سرگرم ہے ،کتاب میلے بھی ایک اور قسم کا دھندا ہے۔ لائیک،
شیئر اور جوابی لائیک، شیئر کا کام بھی خوب چل رہا ہے، مُنھ بنا کر بیٹھ جانے والے
بھی بہت ہیں ، دل ٹیگنے کا چلن بھی عام ہو گیا ہے ۔
-------
احمد
لطیف
منجھے ہوئے صحافی ، شاعر ، ناثر اور براڈکاسٹر ہیں۔اردو اور پنجابی کے قادرالکلام
شاعر ہیں۔ہنس مکھ،ہر وقت دوسروں کو گدگی کرنے پر آمادہ اور اپنے چٹکلوں سے ہنسانے والے۔گاہے ان میں
استاد چرکین کی فنی روح عود کر آتی ہے اور ایسے ایسے شعر کَہ جاتے ہیں کہ جن میں ارباب ِاقتدار وسیاست پر گہری چوٹ تو ہوتی ہے ،ساتھ استاد چرکین کی شاعری کی یادیں بھی تازہ ہوجاتی ہیں۔ اب سوشل
میڈیا کے جو صارف اور اہلِ علم استاد
چرکین کو نہیں جانتے ، وہ احمد لطیف کو کیا داد دیں گے۔ انھیں استاد چرکین کی شاعری کے بارے میں جاننے کے لیے گوگل سے رجوع کرنا چاہیے۔ان کے ایسے کلام کا ’’کلام
شاعر بزبان شاعر ‘‘ ہی مزہ آتا ہے،کسی تحریر میں پڑھنے
میں وہ لذت نہیں۔
احمد لطیف اپنی بول چال، رویے ، کردار سب میں جوان ہیں بلکہ جوان رعنا ،لیکن نجانے اپنے ساتھیوں ،یار دوستوں کے دیے گئے لقب ’’بابا‘‘ کو اب انھوں نے اپنے نام کا مستقل حصہ بنالیا ہے، مگرمجال ہے ان میں بابوں والی کوئی خصلت پائی جاتی ہو۔ اطلاعاً عرض ہے؛ انھیں کوئی بابا شابا نہ سمجھا جائے ۔ ورنہ ملاقات پر سخت مایوسی ہوگی ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں