📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

بدھ، 11 جون، 2025

قربانی کا فلسفہ

 احسان غنی

ابتدائے آفرینش سے ہی کائنات، زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام مخلوقات کا ایک خاص مقصد  تخلیق ہے۔ وہ اعلیٰ مقصد صرف اور صرف اللہ ربّ العزت کی کبریائی کو دل و جان سے تسلیم کرنا ہے۔ اسی مقصد کی خاطر حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے نسلِ انسانی کو دوام بخشا گیا۔صدیاں بیت گئیں، انسان اندھیروں میں بھٹکتا رہا۔ انسان کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے پروردگارِ عالم نے ہر قوم کے لیے پیغمبر اور رسول مبعوث فرمائے۔ ابتدائی دور میں انسانوں نے پیغمبروں اور رسولوں کا مذاق اُڑایا، پھر انھیں  دھمکیاں دیں اور بالآخر ان کے قتل پر اُتر آئے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر اور رسول کلمۂ حق بلند کرتے رہے کیونکہ حق کو باقی رہنا ہے اور باطل کو مٹنا ہے۔

ماہِ ذوالحجہ کے مبارک دنوں میں سب سے افضل عبادت خانۂ کعبہ کا حج اور قربانی کرنا ہے۔ یہ قربانی ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔ یہ محض کوئی داستان نہیں بلکہ ایک سچی حقیقت ہے۔اللہ ربّ العزت کے محبوب ترین پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی تو آپ نے سب سے پہلے اپنے والد کو ،جو بت پرست تھا، اللہ کی وحدانیت کی  طرف دعوت دی۔ مگر والد نے باپ دادا کے فرسودہ طریقوں کو چھوڑنے سے انکار کیا اور کہا کہ اگر تم دین کی دعوت سے باز نہ آئے تو تمہیں گھر سے نکال دوں گا۔یہاں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کا طویل سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ آپ کی غیرت کو گوارا نہ تھا کہ قوم بتوں کی پرستش کرے۔ ایک موقع پر جب قوم میلے میں شریک تھی، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت خانہ میں داخل ہو کر سارے بتوں کو توڑ ڈالا اور کلہاڑا سب سے بڑے بت کے کندھے پر لٹکا دیا۔

جب لوگ واپس آئے اور بتوں کی یہ حالت دیکھی تو حیران رہ گئے۔ حاکمِ وقت نمرود غصے سے آگ بگولا ہو گیا اور حکم دیا کہ حضرت ابراہیم  علیہ  السلام کو آگ میں ڈالا جائے۔ مہینوں تک آگ دہکائی گئی، یہاں تک کہ شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا، مگر اللہ کے حکم سے آگ آپ پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو گئی۔آگ سے زندہ نکلنے کے بعد آپ کو ملک بدر کر دیا گیا۔ مگر ابھی عشق کے امتحان  اور بھی تھے۔ اللہ ربّ العزت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کو قرآن مجید میں جس انداز سے بیان کیا ہے، وہ ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنی بیوی حضرت ہاجرہ اور نومولود بیٹے حضرت اسماعیل کو ایک غیر آباد، بنجر وادی (مکہ) میں چھوڑ آئیں۔ اُس وقت آپ نے اللہ سے دعا کی کہ ’’اے پروردگار! میں نے اپنی اولاد کو ایک بےآب و گیاہ وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس آباد کیا ہے تاکہ یہ نماز قائم کریں، تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف مائل رہیں اور ان کو میووں سے رزق دے تاکہ تیرا شکر ادا کریں۔‘‘

حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے جب پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان دوڑیں لگائیں، تو ساتویں چکر کے بعد دیکھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنی ایڑیاں رگڑ رہے ہیں، اور وہاں سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا، جو آج "زم زم" کہلاتا ہے۔قرآن کریم سورۃ البقرہ، آیت 158 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب آتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو گلے کے اوپر چھری چلا رہے ہیں ۔مسلسل تین راتیں ان کو یہ خواب آتا ہے۔ چوتھے دن وہ اپنے بیٹے اسماعیل سے اس خواب   کا ذکر کرتے ہیں۔ اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا ابا جان جو آپ کو اللہ کا حکم ہے، وہ آپ  کر گزریں۔ مجھے آپ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام آدابِ فرزندی بجا لاتے ہوئے اپنی جبین نیاز اللہ کے آگے جھکا دی ۔اللہ ربّ العزت کے لیے قربان ہونے کے لیے چل پڑے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر لٹایا اور اپنی آنکھوں پر بھی پٹی باندھ لی اور گلے پہ چھری چلانے لگے تو چھری نہ چلی دو  تین مرتبہ کوشش کے باوجود چھری نہ چلی ۔کچھ دیر بعد جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آنکھیں کھولیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بجائے ایک  دنبے کے گلے پہ چھری چلی اور  حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ۔اللہ تعالی  کو ابراہیم علیہ السلام کی فرمانبرداری کی یہ ادا اتنی زیادہ پسند آئی کہ قیامت تک سنت ابراہیم کو امر کردیا ۔ جان دی دی ہوئی اسی کی تھی ۔ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ سورۃ آل عمران، آیت 96 میں  اللہ نے ارشاد فرمایا:

’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لیے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور دنیا کے لیے ہدایت کا باعث۔‘‘

قربانی کے حوالے سے قرآن کی متعدد آیات ہمیں اس عمل کی افادیت سے آگاہ کرتی ہیں، مثلاً:’’ہم نے تمہیں کوثر عطا کیا، تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو‘‘۔(سورہ الکوثر)

دنیا بھر کے مسلمان ہر سال 10 ذوالحجہ کو سنتِ ابراہیمی کو تازہ کرتے ہوئے قربانی کرتے ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں قربانی کا جذبہ اپنائیں اور دوسروں کی فلاح و بہبود کو مقدم رکھیں۔محسنِ انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات پر بے شمار مشکلات برداشت کیں اور اسلام کی تبلیغ کی، تاکہ ہم راہِ ہدایت پا سکیں۔ آپﷺ اور آپ ﷺکے صحابہ کرام ؓکی زندگیوں سے ہمیں قربانی کا درس ملتا ہے۔درحقیقت، قربانی ہی انسانیت کی معراج ہے۔ؔ

 یہ  شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template