📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

ہفتہ، 8 مارچ، 2025

اب فٹ بال ہی پر نظرِکرم ہوجائے !

 

  احسان غنی

کھیل کود اور جسمانی ورزش کی سرگرمیاں  کسی بھی معاشرے کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔معاشرے  کے افراد  خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما مختلف کھیلوں سے ہوتی ہے ۔ریاست کا فرض ہے کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے کھیلوں  کے  ہر طرح  کے مواقع  مہیا کرے۔  کہنے کو تو   وطن عزیز کا قومی کھیل ہاکی ہے ۔ہمارے کھلاڑیوں نے ہاکی کے میدان میں بین الاقوامی سطح   پر بار بار  اپنا لوہا منوایا ہوا ہے مگر اس  قومی کھیل کی اس طرح  سرپرستی نہیں  کی جاتی ہے جس طرح کرکٹ کی سرپرستی کی جاتی ہے۔چناں چہ  آج کرکٹ ہمارا عوامی کھیل بن چکا ہے ہر گلی محلے اور گراؤنڈ میں بچے اور نوجوان کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں ۔حکومت ،سرکاری اور نجی کمپنیاں سب کرکٹ کو ہر طرح سے سپورٹ کرتے ہیں۔ سال بھر کرکٹ کے مختلف  بین الاقوامی اور قومی  ٹورنامنٹ منعقد  ہوتے رہتے ہیں۔ اگر یوں کہا جائے کہ پوری قوم کرکٹ کے بخار میں مبتلا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ کرکٹ کے علاوہ باقی تمام کھیلوں سے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے ۔نا اہلی، نالائقی ،بدعنوانی اور قبضہ مافیا  نےکھیلوں کو سیاست کی  بھینٹ چڑھا دیا ہے ۔فٹ بال ،اسکوائش، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، لانگ ٹینس، کبڈی،  کشتی ، سائیکلنگ، تیراکی اور  شطرنج وغیرہ تمام کھیل لاوارث ہیں۔ ہر کھیل کی ترقی کے لیے الگ سے باقاعدہ محکمہ اور اور کروڑوں اربوں کا سالانہ بجٹ بھی موجود ہے جبکہ کارکردگی بالکل صفر ہے۔ بدعنوانی اور عہدوں کی بندربانٹ سے  اربوں کے بجٹ میں  خرد برد ہوتی ہے۔ نگرانی اور احتساب نہ ہونے سے کھیلوں کے تمام محکمے ناکارہ اور ناکام ہو چکے ہیں۔ جب سیاسی ایوانوں میں گالم گلوچ کا ڈیرہ ہو تو پھر سیاست کھیلوں میں بھی  کود آتی ہے۔ کتنی حیران کن بات ہے دنیا کی اقوام میں پاک ستان کے شہر سیالکوٹ کے بنائے ہوئے فٹ بال سے کھیلتی ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی فٹ بال پسند کیا جاتا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ آج تک پاکستانی فٹ بال ٹیم ورلڈ کپ ٹورنا منٹ کھیلنے  کے لیے کوالیفائی ہی  نہیں کر سکی ۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ فٹ بال کھیلا جاتا ہے۔ بہترین کوچ ،گراؤنڈ اور دیگر ضروری لوازمات کی بدولت فٹ بال کے کھلاڑی تیار کیے جاتے ہیں۔ اس کے لیےا سکول، کالج ،یونیورسٹی اور کمیونٹی کلبوں سے ٹیلنٹ ہٹ  کے ذریعے کھلاڑی منتخب کر کے ان کی باقاعدہ تربیت کی جاتی ہے جبکہ ہمارے ہاں ایسی کوشش کرنے والے کو احمق  اور بے وقوف کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کچھ دل دادگان   اور شوقین فٹ بال کو جنون کی حد تک پسند کرتے ہیں اور اس کھیل کو پروان چڑھانے کی دھن   سروں پر سوار کیے جیسے تیسے اپنی جیب سے خرچ کر کے نئی نسل کو اپنے بچوں کی طرح پیار و  محبت سے فٹ بال کی  تربیت  دینے میں مصروف ہے۔ایسے ہی دو حضرات  ہیڈ کوچ  شہزاد اور کوچ نوید ہیں   جو  عظمت اور لگن کے ساتھ بچوں کو فٹ بال کھیلنے کی تربیت دے رہے ہیں۔اس  کھیل کو فروغ دینے میں ان کی کوششوں کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ بچوں کے موبائل فون کمپیوٹر اور اور ٹیبلٹ کے بہت زیادہ استعمال سے والدین سخت پریشان ہیں ۔ایسے حالات میں سر شہزاد اور نوید  بہت عظیم کارنامہ سر انجام دے رہے ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں کو سکرین سے ہٹا کر گر اؤنڈ میں لا نا اور ان  کی جسمانی اور ذہنی  نشوونما کرنا بہت بڑی خدمت ہے۔ حکومتی سطح پر ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ لاہور فٹ بال اکیڈمی ،ماڈل  ٹاؤن کلب اور دیگر کلبوں کو فنڈز اور دیگر سہولیات  مہیا  کی جائیں۔ کھیل سب اچھے ہیں۔ کرکٹ کی طرح دوسرے کھیلوں  پر بھی توجہ   دینے کی ضرورت ہے۔ا سکول ،کالج اور یونیورسٹی  کی سطح پر خاص توجہ دی جائے ،باقاعدہ کوچ بھرتی کیے جائیں جو تعلیمی اداروں میں طالب علموں کو فٹ بال کی باقاعدہ  تربیت  دیں۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں بس تھوڑی سی توجہ اور محنت درکار ہے، گوہر نایاب دریافت ہو سکتے ہیں جو مستقبل میں دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر سکیں گے۔

وطن عزیز میں گنگا الٹی بہتی ہے۔ کھیلوں کی تنظیموں  اور  تمام اداروں میں قبضہ مافیا کا راج ہے  اور غیر متعلقہ افراد عہدوں پر براجمان ہیں ۔ان  کا کھیل سے دور کا  بھی واسطہ نہیں اور اربوں کے بجٹ اور دنیا کی سیر کرنے کے چکر  میں   انھوں نے پوری قوم  ہی  کو چکرا کر رکھ دیا  ہے۔ پاکستان فٹ بال فیڈریشن پر فٹ بال کی عالمی فیڈریشن  فیفانے ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر پابندی لگا دی ہے۔ یہ  ہمارے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔اس اقدام سے  پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ سپریم کورٹ کے جج کی   سربراہی میں کمیشن بنایا جائے، جو فٹ بال فیڈریشن کے معاملات  بالخصوص  بجٹ کی مکمل غیر جانبداری سے  تحقیقات کرے جو بھی ذمہ دار ہو اس کو قرار واقعی سزا  تجویز کی جائے ۔وطنِ عزیز میں فٹ بال کے کھیل کی بحالی اور فروغ کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ ملک کے کونے کونے میں  لیاری (کراچی) کے طرز پر چھوٹے ،بڑے قصبوں ،دیہات اور شہروں میں ٹیلنٹ ہنٹ منعقد کیے جائیں اور منتخب کردہ  نوجوانوں اور بچوں کو فیفا کے تعاون سے فٹ بال  کے کھیل کی جدید خطوط  پر تربیت  دی جائے۔ اس کے بعد مقامی ،علاقائی اور قومی سطح پر فٹ بال ٹورنامنٹ کروائے جائیں۔ اس سرگرمی سے بچوں  اور نوجوانوں  کی جسمانی  اور ذہنی نشوو نما کے ساتھ حوصلہ افزائی ہوگی جس کا ان کی شخصیت پر بہت مثبت  اثر پڑے گا۔ کرکٹ کی طرح فٹ بال کو سپورٹ اور پروموٹ کرنے کے اقدامات کیے جائیں ۔کالج، جامعات ، اسکول سرکاری محکمے ، کارپوریشنیں اور پرائیویٹ ادارے اپنی اپنی فٹ بال ٹیم بنائیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ میچ کھیلیں ۔ ان  ٹیموں سے بہترین کھلاڑیوں کو منتخب کر کے ایک قومی ٹیم تشکیل دی جائے ۔اس کا ہدف یہ ہو کہ اگلے فٹ بال عالمی کپ  ٹورنا منٹ کے لیے کوالیفائی کرنا  ہے۔ دنیا کے بہترین کوچ بلوا کر ٹیم کے کھلاڑیوں کی جدید خطوط   پر کوچنگ کی جائے، ملک میں فٹ بال کھیلنے کے رجحان کو عام کیا جائے تاکہ نوجوان اور بچے موبائل فون ، کمپیوٹر اور ٹی وی سکرین کم سے کم استعمال کریں اور زیادہ وقت گھر سے باہر گراؤنڈ میں  گزاریں   اور صحت مند سرگرمیوں میں مصروف ہو سکیں ۔ ملک میں  فٹ بال کے کھیل  کا فروغ نئی نسل کو صحت مند، تن  درست اور توانا بنانے کے بہت ضروری ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template