📱 خبرتوڑ
لوڈ ہو رہا ہے...
🗑️ صحافتی کوڑا 📌 فوتیدگی: مشہور مزاح گو شاعر اور فلمی نغمہ نگار راجامہدی علی خان بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے سگے بھانجے تھے۔ انھوں نے ’’زمیندار‘‘ میں کسی متوفیٰ کی خبر میں لکھا لفظ ’’فوتیدگی‘‘ ایسے ہی جانے دیا۔ اخبار چھپ کر آیا تو مولانا لفظ فوتیدگی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھانجا جی کو دفتر سے چلتا کیا۔ راجا صاحب کو کبڑے کو لات پڑنے کے مصداق یہ فارغ خطی راس آگئی۔ وہ بمبئی پہنچے اور فلمی گیت نگاری میں خوب نام کمایا۔

سانجھ کاری

منگل، 14 جنوری، 2025

‏ پنجاب کا روایتی مگر معدومی کا شکار ثقافتی تیوہار لوہڑی ‏


   ارشد سلیم 

  پنجاب کی قدیم روایت ،کلچر اور معاشرت کے مطابق ہرسال  13 جنوری کو  ایک خاص تیوہار منایا جاتا ہے جسے لوئی  یالوہڑی کہا جاتا ہے ۔بچپن میں جب ہمارے محلہ فتح گڑھ  ، سیالکوٹ میں روایتی دیہاتی ماحول تھا تو کبھی کبھی گھوڑے ،گدھے یا بائیسکل پر  کچھ کتابیں اور سامان رکھے ایک آدمی زور سے گلیوں میں آواز  لگایا کرتا تھا :

"لے لئو قرآن شریف ،  پنج سورتے  تے اسلامی  کتاباں ۔

تے لوئی دا ادھار "

لوئی  یا لوہڑی  سے  ہمارا یہ پہلا تعارف تھا  ۔اس کے علاوہ یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ماں جی سردیوں کی راتوں جب گھر کے معمول کے کام کاج سے فارغ ہو جاتیں تو  پیڑھی  پر بیٹھ کر چرخہ کاتنا شروع کر دیتیں ۔میں بھی اکثر ان کے ساتھ بیٹھ جاتا اور کاتنے سے پہلے کپاس  یا اون کی "پونیاں" بنانے میں ان کی مدد کرتا ۔ کبھی چرخے کی "مال" ( ایک طرف چرخے کے بڑے پہیّے اور دوسری طرف گھوم کر کپاس کو دھاگے میں بدلنے والی پھرکی کے درمیان  بیلٹ کا کام کرنے والا مضبوط موٹا  دھاگا )  ٹوٹ جاتی  تو وہ درست کی جاتی ۔ہاتھ کی ضرب سے "ترکلے  " کی چھوٹی موٹی ٹیڑھ  کو سیدھا کیا جاتا۔ سخت سردی میں    ماں جی " ٹاسے " کی کریم کلر کی چادر کی بکل مار کر چرخہ کاتنا شروع کر دیتیں ۔ ساتھ وہ   ہلکی آواز میں حمد و ثناء سے شروع ہو کر  مقامی قصے کہانیاں  ، دلے بھٹی کی لوہڑی کے بول ، لوریاں ، ٹپے ، ماہیے اور گھوڑیاں گنگنانا شروع کر دیتیں ۔ جنھیں  گاتے ہوئے  بعض اوقات  ان کی آنکھیں نم ناک ہو جاتیں ۔ان کا یہ سب کلام ہم بچوں کے لیے لوری کا کام کرتے اور ہم دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد ان  دیسی لوریوں یا  چرخے کی "مٹھی مٹھی "اور مدھر " گوں " کی آواز سے  ادھر ہی لیٹے لیٹے نہ جانے کب ماں جی کی گود میں سو جاتے ۔ صبح دن چڑھے  اٹھتے تو  نَواڑکے رنگدار پلنگ یا منج (پٹھے کی بڑی منجھی  )  پر اپنے آپ کو پاتے ۔ ہمارے سوجانے کے بعد ماں جی زیادہ زور شور کے ساتھ چرخے سے سوت بنانا شروع کر دیتیں اور  اس رات کی کتائی کا اپنا  ٹارگٹ مکمل کرکے ہی اٹھتیں ۔ کپاس اور اون کی کتائی کے بعد ہم یہ سوت  گاؤں کے جولاہے اور اپنے خاندانی "سیپی" چاچا عنایت کو دے   آتے جو چند دنوں میں ہی اپنی بیوی کے ساتھ مل کر اپنے گھر پر لگی کھڈی پر  بڑوں کے لیے کھیس،  لوئیاں  ، دھسے اور  بچوں کے لیے "رونٹے" ( چھوٹی گرم چادریں ) بنا دیتے ۔

ماں جی چرخہ کاتتے وقت  موٹے سئیول چاولوں میں تل ملا کر  کھاتی رہتیں اور وقتا فوقتاً  گڑ کی "روڑی " یا السی اور دال کی پنیوں  سے بھی منھ کا ذائقہ تبدیل کرلیتیں  ۔ لیکن جنوری کے ایک دن کے بارے میں وہ بتایا کرتی تھیں کہ اس " لوئی"  کے دن اگر گندم کے کھیت کی باڑ پر اگائی ( نسبتاً میٹھی) مولی کو  تلوں کے ساتھ کھا لیا جائے تو سارا سال متلی نہیں ہوتی اور پیٹ کا کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوتا ۔ ( اس زمانے میں مولیاں کافی  کڑوی ہوتی تھیں اور صرف گندم کی فصل کے ساتھ اگائی گئی مولیاں  ہی میٹھی اور کچی حالت میں قابل استعمال ہوتی تھیں ) ۔ اس دن وہ خود بھی تل اور  مولی کھاتیں اور ہمیں بھی ضرور کھلاتیں ۔

آمدم  برسر مطلب ؛ موسم اور فصلوں کے لحاظ سے روایتی طور پر پنجاب (اور ہریانہ ،جموں ، ہماچل پردیش وغیرہ ) کے چار بڑے تیوہار رہے  ہیں:

* لوئی/ لوہڑی

 کماد  کاٹنے اور گڑ شکر بنانے کے موسم کا تیوہار ۔

* بسنت

 سردی کے خاتمے اور موسم  بہار کی آمد کا تیوہار ۔

* بیساکھی

گندم کی کٹائی کا تیوہار ۔

•  ترنجن

کپاس کی چنائی  کے موسم کا تیوہار

 لوئی کے تیوہار کی یوں بھی اہمیت ہے کہ اس مرحلے پر  سورج زمین سے قریب آنا شروع ہو جاتا ہے ،دن بڑے اور راتیں چھوٹی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔  اور شمال کی طرف   برج جدی Capricorn میں داخل ہو جاتا ہے . لوئی کے دنوں میں  گندم  اور ربیع کی فصلیں اپنے جوبن پر ہوتی ہیں ، اپنا قد کاٹھ پکڑ لیتی ہیں اور مرحلہ وار گرمی کی حدت میں اضافے کے ساتھ کسان  ان کے پکنے کا  انتظار شروع کر دیتے ہیں ۔ 

لوئی کا تیوہار پنجاب اور ملحق علاقوں میں  صدیاں سے منایا جارہا ہے ۔  اتفاق سے عبداللہ  بھٹی المعروف  دلّا بھٹی نے جس دن  مندری نامی دوشیزہ کو  غاصب زمیندار کے چنگل سے بچایا اور  جنگل میں لے جاکر اس کی شادی کرائی  ، وہ بھی لوہڑی ہی کا دن تھا ۔ اس حوالے سے لوئی کو دُہری اہمیت حاصل ہو گئی اور یہ  لوک داستانوں کا حصہ بن کر  زبان زد عام ہو گئی ۔ 

لوئی کے دنوں  میں گنے کی کٹائی اور گڑ شکر  بنانے کا سیزن ہوتا ہے ۔ جو کسان کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی ہوتا  ہےاور اس کی  سال بھر کی اپنی میٹھے کی ضروریات کا سامان بھی ۔ اسی کی آمدن سے ماضی میں شاید  کسان  اپنے ذمے  واجب الادا "لوئی دا ادھار  " اور قرض وغیرہ بھی ادا کرتے ہوں گے۔  

روایتی طور پر لوگ سخت سردی   کی وجہ سے لوئی  کے موقع پر رات کو آگ کے الاؤ  جلاتے  ، بھامبڑھ  کے  اردگرد لڈی اور  بھنگڑا ڈالتے اور رو (گنے کا رس) کی کھیر ، گجریلے  اور زردے متنجن جیسے میٹھے پکوانوں سے لطف اندوز ہوتے  ۔قیام پاکستان سے پہلے  پنجاب میں لوئی اور بیساکھی جیسے مقامی روایتی تیوہار عام تھے۔  سکھوں اور ہندوؤں کی خاطر خواہ  آبادی تھی ۔  سکھوں نے تو مقامی مذہب  اور  زمیندارانہ معیشت ہر اجارہ داری کی وجہ سے ان تیوہاروں کو مکمل طور پر اپنا رکھا تھا کہ رفتہ رفتہ یہ انہی کےمذہبی اور ثقافتی  تیوہار بن کر  رہ گئے ،ان پر خالصہ رنگ غالب آتا گیا ۔   ایک مخصوص دھرمی ،ثقافتی ،سماجی  چھاپ  ،  سکھ شاہی  میں  مسلمانوں پر  مظالم اور 1947 میں برہمن جاتی کے ایماء اور شہ  پر  ان کے ہاتھوں لاکھوں مسلمانوں کے قتل   عام کی وجہ سے مسلمان ان سے دور ہوتے گئے اور اسلامی تیوہار ہی مکمل طور ہر پاکستانی  پنجابی  مسلمانوں کے تیوہار بھی بن گئے۔قیام پاکستان کے بعد مغربی پنجاب کے  تمام علاقوں سے  جوشیلے ،  زور آور اور متموّل  سکھوں کا مکمل انخلاء بھی یہاں ان تیوہاروں کی معدومی کا  سبب بنا ۔   مشرقی پنجاب میں تو لوئی ، بیساکھی ، بسنت ، ترنجن    اب بھی  فعال اور متحرک ثقافتی ورثے کی جاندار علامت ہیں جب کہ  پاکستانی پنجاب میں اب یہ تیوہار خالی خولی کتابی اور خیالی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔ نئی نسل ان سے مکمل طور پر  نا آشنا ہے  ۔

  سیالکوٹ  میں واقع  میرے  سابق گاؤں اور موجودہ محلہ فتح گڑھ ملہیاں کے مکھی ، پردھان اور ذیلدار منگل سنگھ ملہی  کو خبر ہو کہ اب یہاں نئی نسل ان تیوہاروں کے نام سے بھی واقف نہیں ہے اور سکھوں کا اس وقت یہاں ایک گھر بھی نہیں ہے۔ان کے بارے میں سنا ہے کہ وہ  ان تیوہاروں کو  سکھ اکثریتی آبادی والے   اس گاؤں میں زور  شور سے مناتے اور منواتے تھے ۔اب گنتی کے چند منچلے  پنجابی قوم پرست  پاکستانی پنجاب میں ان قدیم روایتی  تیوہاروں کو بحال اور  زندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن نیم دلی اور وقتی ابال کے  ساتھ،  محض چند دنوں کے لیے  ، فوٹو سیشن کی خاطر ۔ یہ جانے ، سمجھے بغیر کہ زور زبردستی  سے نہ تو کوئی عوامی تیوہاروں کو ختم کر سکتا ہے اور نہ ہی فطری انداز میں ختم ہونے  والی رسوم کو  بحال کیا جا سکتا ہے  اور نہ  نئی زندگی بخشی جا سکتی ہے ۔ان کی بحالی کے لیے بھی فطری انداز درکار ہوتا ہے اور لوگوں کا چلن دیکھنا پڑتا ہے کہ وہ کس چیز کو پسند کرتے ہیں اور کس کو ناپسند۔

1 تبصرہ:

بلاگ فہرست

فیچرپوسٹ

ورکنگ باؤنڈری ، لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد

امتیاز احمد وریاہ بھارت کے ساتھ پاکستان  کی واضح برتری   پر منتج ہونے والے  حالیہ  ’’فضائی ملاکھڑے‘‘ اور محدود پیمانے   پربرّی جنگ کے دورا...

مقبول تحریریں

Post Top Ad

Pages

SoraTemplates

Best Free and Premium Blogger Templates Provider.

Buy This Template