پروفیسر
سلمان باسط
جانے
ہم اتنے غیرمعتدل مزاج کیوں ہوگئے ہیں اور
ہمارے پاس ہر بات کا بتنگڑ بنانے کے لیے اتنا فالتو وقت کہاں سے آتا ہے؟حیرت بھی
ہوتی ہے، الجھن بھی اور افسوس بھی کہ ہماری قوم حدِ اعتدال سے اس قدر متجاوز کیوں
ہو جاتی ہے کہ جذباتی وابستگیوں اور بے مقصد عناد کی بنیاد پر اخلاقی حدود تک
پھلانگ جاتی ہے۔ اختلافات پہلے بھی ہوتے تھے لیکن ناشائستگی اتنی بدچلن نہیں تھی۔
بہتر تربیت کے فقدان، بتدریج کم ہوتی ہوئی قوتِ برداشت اور بے مہار سوشل میڈیا نے
ہم سے ہماری رہی سہی اقدار کا بھرم بھی چھین لیا ہے۔پچھلے قریباً ڈیڑھ ایک عشرے سے ہماری کم وبیش ساری قوم ایک سیاسی شخصیت کے حق یا مخالفت میں
باہم برسرِ پیکار ہے۔ ساری اخلاقیات، ماؤں بہنوں کا احترام اور بات کے قرینے تک
بھلا کر سب لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ ان کے حامی الگ انتہاؤں پر ہیں اور مخالف دوسری طرف
ساری حدیں پھلانگ رہے ہیں۔ عام آدمی ایک طرف، ہمارے دانشور، لکھاری اور کالم نگار
تک خود کو اس رو میں بہنے سے نہیں روک سکے۔
خدارا کچھ سوچیے کہ یہ
عدم برداشت، انتہاپسندانہ سوچ اور رویّے کا عدم توازن ہمیں کہاں لے جائے گا۔ کیا
ہمارے پاس اپنے قیمتی وقت کا اور کوئی بہتر مصرف نہیں؟ کل مالکِ یوم الدین ہماری
بدزبانی اور بد تہذیبی پر گرفت نہیں کرے گا؟ تب ہمارے پاس دفترِ عمل میں پڑا سونا
بھی زرِ کم عیار نہیں بن جائے گا؟ خدارا!
سوچیے، غور کیجیے اور ممکن ہو تو اپنا چلن بدل لیجیے۔
ایک
اور المیہ یہ ہوا ہے کہ ہم دراصل جدید ٹیکنالوجی اور سائنس کو ہی کامیابی
کی واحد کلید سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ درست ہے کہ جدید ٹیکنالوجی مادی ترقی کے حصول کے
لیے روحِ عصر کی حیثیت رکھتی ہے لیکن انسانی روح کی بالیدگی کے لیے جو سامان درکار
ہے، اسے ہم فراموش کیے بیٹھے ہیں۔ ہمارا تمام تر زور کسی نہ کسی صورت حصولِ زر پرہے۔
ہماری اخلاقی تربیت تقریباً مفقود ہے۔ تربیت کے لیے گھر سب سے اولین درسگاہ ہوتی
ہے۔ پوری دیانتداری سے سوچیں تو ہمارے گھرانوں میں کسی قدرکی اخلاقی تربیت کا
اہتمام ہے ہی نہیں۔ تربیت کا دوسرا ادارہ تعلیمی درسگاہ ہے جہاں بالعموم کردار سازی کے
بجائے اخلاق باختگی کا کلچر عام ہے۔ رہی سہی کسر الیکٹرانک میڈیا اور اب تو سوشل
میڈیا پوری کر رہا ہے۔
میں عمر بھر تدریس کے پیشے سے منسلک رہا ہوں۔
امریکا، سعودی عرب، یمن اور پاکستان میں پڑھایا۔ چند ماہ قبل اسلام آباد کی ایک
یونیورسٹی سے ریٹائر ہوا ہوں۔ یقین کیجیے انتہائی سرعت سے اخلاقی انحطاط کا
جو مظاہرہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں دیکھنے کو ملتا ہے وہ کہیں نہیں۔ اساتذہ کی
غالب اکثریت ’’روشن خیال‘‘ ہے اور انھیں
اپنی طالبات بیٹیاں محسوس ہی نہیں ہوتیں۔ کون کرے گا تربیت؟
حکومتیں اپنی ذمہ داری سے آگاہ ہی نہیں۔ انھیں جہاں اپنی رِٹ قائم رکھنا ہو، وہاں
رکھ لیتی ہیں۔ چاہیں تو ٹویٹر اور یو ٹیوب پر پابندی عاید کر سکتی ہیں
لیکن مخرب الاخلاق مواد والی ویب سائٹس پر پابندی نہیں لگا تی ہیں
کہ یہ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ معذرت کے ساتھ جنھیں آپ اور میں،ہم سب دانش ور کہہ رہے ہیں وہ فقط ایک شعبے کے علم تک
محدود ہیں۔ دانش باطنی بصیرت کا نام ہے۔ اخلاق و کردار کے اعلیٰ معیارات پر پہلے
خود فائز ہو کر معاشرے کو صراطِ مستقیم دکھانے والے ہی دانش ور کہلوانے کے مستحق ہوتے ہیں۔
کہیں
دور آسمان کی نیلی طشتری پر بادلوں کی اوٹ میں ایک مکان ہے۔ میں اس میں رہنا چاہتا
ہوں۔ کہیں بادِ شمال کے قافلے میں ایک مشکبو جھونکا ہے۔ میں مشامِ جاں سے اس کا لمس
چکھنا چاہتا ہوں۔ کہیں نیلگوں اور سرمئی پہاڑوں میں گھِری ایک وادی ہے جس میں ہر طرف
بچھی سنہری گھاس پر سورج کی پہلی کرن سے دمکتے ہوئے اوس کے قطرے ہیں۔ میں اپنے پاؤں
کے تلووں سے انہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں۔ کہیں سورج کی روشنی سے ناآشنا گھنے جنگلوں
میں غیر پامال راستے ہیں۔ میں ان راستوں پر چلنا چاہتا ہوں۔ کہیں بستیوں کی کثافت سے
پاک، ریاکاریوں کی ثقالت سے محفوظ، بے ساختہ ہنس لینے کی قدرت رکھنے اور کھل کر جی
لینے کے ہنر سے آشنا کوئی شخص ہے۔ میں اس سے ملنا اور پھر فقط اسی سے ملتے رہنا چاہتا
ہوں۔
صاحبِ مضمون
جناب
پروفیسر سلمان باسط عمر بھر تدریس کے پیشے سے وابستہ رہے ہیں۔ امریکا، سعودی عرب، یمن اور
پاکستان کی جامعات میں معلم رہے۔ چند ماہ قبل اسلام آباد کی ایک
یونیورسٹی سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ حال ہی میں ان کی خود نوشت ’’ناسٹلجیا‘‘ کے عنوان سے شائع
ہوئی ہے۔اس میں انھوں نے اپنے زندگی کے واقعات دلچسپ پیرائے
میں بیان کیے ہیں۔وہ ہمیں گورنمنٹ کالج
لاہور میں تعلیمی زندگی کے بیتے ایام ،
نیوہاسٹل میں قیام ،اساتذہ ، نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہیں اور ملکوں ملکوں کی سیر کے دوران میں
وہاں کے تعلیمی نظام ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں
میں کامیابیوں اور تہذیب وثقافت کے بارے میں بھی آگاہ کرتے
ہیں۔ان ایسی شستہ اور شائستہ اردو لکھنے والے کم تو ہیں ہی ،اب ایسی نستعلیق زبان پڑھنے والے بھی
خال خال رہ گئے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں